Maah Gazeeda by Kainat Jameel Abbasi Complete novel


Maah Gazeeda by Kainat Jameel Abbasi complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Kainat Jameel Abbasi is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Maah Gazeeda by Kainat Jameel Abbasi complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Kainat Jameel Abbasi All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"جی؟"

لہجہ روکھا تھا۔

عورت کے ہونٹ خشک ہو گئے۔

"مجھے شکایت درج کروانی ہے۔۔۔"

سپاہی نے بےدلی سے پہلو بدلا۔

"کس بارے میں؟"

عورت کی انگلیاں لفافے پر اور سخت ہو گئیں۔

"میری بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔۔۔"

سپاہی کے چہرے پر ایک لمحے کو سنجیدگی ابھری، مگر وہ خاموش رہا۔

اتنے میں حوالدار اندر سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا باہر آیا۔

اُس کی نظریں عورت پر ٹھہریں، پھر اُس کے ہاتھ میں پکڑے لفافے پر گئیں۔

"کس نے زیادتی کی ہے؟"

عورت نے جواباً جاگیردار کے بیٹوں کے نام لیے۔

نام سنتے ہی حوالدار کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔

وہ چند لمحے خاموش اُسے دیکھتا رہا۔

"تم جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو؟"

"میری بیٹی ہسپتال میں پڑی ہے۔۔۔"

اُس کی آواز بھرّا گئی۔

"یہ اُس کے معائنے کے کاغذات ہیں۔۔۔"

اُس نے لفافہ آگے بڑھا دیا۔

حوالدار نے کاغذات کھولے، سرسری نظر ڈالی اور پھر آہستہ سے بند کر دیے۔

"دیکھو بہن۔۔۔"

وہ کرسی کھینچتے ہوئے بولا۔

"ایسے معاملات میں سب سے پہلے لڑکی کی عزت اُچھلتی ہے۔ عدالتوں کے چکر الگ۔ تم لوگ یہ سب برداشت نہیں کر پاؤ گے۔"

عورت کی آنکھوں میں نمی تیر گئی، مگر آواز اب بھی سخت تھی۔

"برداشت کرنے کو کچھ باقی ہے؟"

وہ جذباتی ہو گئی۔

کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔

حوالدار نے میز پر انگلیاں تھپتھپائیں۔

"جاگیردار لوگ ہیں۔ طاقت رکھتے ہیں۔ کل کو تمہارے گواہ بدل جائیں گے، لوگ منہ موڑ لیں گے۔ آخر میں نقصان تمہارا ہی ہوگا۔"

"تو میں کیا کروں؟"

عورت کی آواز بلند ہو گئی۔

"اپنی بیٹی کو اُس حال میں دیکھ کر بھی خاموش رہوں؟"

حوالدار نے فوراً سخت نظروں سے اُسے دیکھا۔

"آواز نیچی رکھو۔ یہ تھانہ ہے، بازار نہیں۔"

پھر وہ ذرا جھک کر دھیمی آواز میں بولا،

"ہم تمہیں مشورہ دے رہے ہیں۔ معاملہ جتنا دب جائے، اُتنا بہتر ہے۔ سمجھ رہی ہو نا؟"

عورت ساکت کھڑی رہی۔

"ورنہ۔۔۔"

حوالدار نے توقف کیا۔

"بعض اوقات انصاف مانگتے مانگتے آدمی اپنی باقی زندگی بھی ہار جاتا ہے۔۔۔" بات مکمل کی۔

حوالدار کے ہاتھ بےاختیار کاغذات پر سخت ہو گئے۔

اُمّ ماہ رخ نے ایک لمحے کے لیے کمرے میں موجود سب لوگوں کو دیکھا۔

کوئی بھی اُسے انسان کی طرح نہیں دیکھ رہا تھا۔

وہ خاموشی سے آگے بڑھی، حوالدار کے ہاتھ سے اپنے کاغذات جھپٹ کر واپس لیے اور پلٹ گئی۔

پیچھے سے حوالدار کی بھاری آواز پھر سنائی دی۔

"اور ہاں، دوبارہ آئی تو ثبوت اور گواہوں کے ساتھ آنا۔ جاگیرداروں کے دروازے کھٹکھٹانے سے پہلے اپنی حیثیت ضرور یاد رکھ لیا کرو۔"

اُمّ ماہ رخ کو اُس لمحے یہ حوالدار کسی بھونکتے ہوئے کتے سے بھی زیادہ گھٹیا محسوس ہوا۔

اُس نے اِدھر اُدھر یوں دیکھا جیسے پہلی بار اُس کمرے کی حقیقت اُس پر آشکار ہوئی ہو۔

یہاں انصاف نہیں ملتا تھا۔

یہاں صرف معاملات طے ہوتے تھے۔

"شاید ہر جگہ ایسا نہ ہوتا ہو۔۔۔ کہیں انصاف مل جاتا ہو۔۔۔"

وہ خود کو سنانے لگی۔

"یہ جاہلوں کی بستی ہے۔۔۔ یہاں پولیس والے اور حوالدار بھی ویسے ہی جاہل ہیں۔۔۔"

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Maah Gazeeda by Kainat Jameel Abbasi Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment