Mehtab by Usama Zaryab Complete novellette


Mehtab by Usama Zaryab complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Mehtab by Usama Zaryab complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Usama Zaryab All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"پاپا! آخری سگریٹ ہے۔ لینے جا رہا ہوں۔" آفتاب نے اپنے دانت آپس میں جوڑے اور انہیں دبا کر الفاظ ادا کیے۔ وہ توتلا تھا اور جب تک وہ دانتوں کو آپس میں جوڑ کر سختی سے نا بولے تب تک اسکے الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے تھے۔ وہ ابھی سگریٹ دوبارہ ہونٹوں سے لگا کر اس کا زہریلا دھواں اندر کھینچ ہی رہا تھا کہ فضا میں ایک جوتی لہراتی ہوئی آئی اور سیدھی اس کے منہ پر لگی۔ سگریٹ پاؤں کے پاس فرش پر جا گری اور آفتاب کے منہ سے ایک کراہ نکلی۔

"ماما! آخلی سگلیٹ(آخری سگریٹ)تھی۔" اس نے احتجاجاً کچن کی طرف دیکھا جہاں پروین بیگم اسے غصے سے گھور رہی تھیں۔ اسکی آواز بلند ہونے لگی تھی لیکن پھر اسے یاد آگیا وہ اسکی والدہ ہیں۔

"پاپا، اپنی بیگم کو سمجھا لیں۔" آفتاب نے جھک کر فرش سے سگریٹ اُٹھائی اور پاؤں پٹختا ہوا مرکزی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

شہریار صاحب نے مسکراتے ہوئے جوتے ایک طرف کھسکائے۔ "بیگم، میرے سامنے تو اُسے کچھ نہ کہا کرو۔"

"آپ خود سمجھا دیں اپنے لاڈلے کو پھر میرے سامنے سگریٹ نہ پیا کرے۔ پہلے ہی ایک کو جھیل رہی ہوں، اتنا بہت ہے۔" پروین بیگم کی آواز بلند تھی مگر اس میں غصے سے زیادہ ایک ماں کا دکھ نمایاں تھا۔

اس سے پہلے شہریار جواب میں کچھ کہتے، ہال میں ایک نسوانی آواز گونجی۔ "کیا ہوا ماما؟"

"تمہاری ماں نے تمہارے بھائی پر جان لیوا حملہ کیا ہے۔" شہریار صاحب نے گردن موڑ کر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔

"کدھر گیا تابی؟" عریبہ نے کچن میں داخل ہو کر پیار سے اپنی والدہ کے کندھے پر سر رکھ دیا۔

"اپنے باپ کے لیے زہر لینے گیا ہے۔" پروین بیگم کی ناراضگی اب بھی برقرار تھی۔

عریبہ نے بمشکل ہنسی ضبط کی۔ "ماما، اِن دونوں کی وجہ سے آپ کیوں اپنا بی پی ہائی کر رہی ہیں؟"

"ماں ہوں میں اُس کی، فکر ہوتی ہے۔ کسی لڑکی کے چھوڑ جانے کا مطلب یہ تو نہیں کہ انسان اپنی جان کا دشمن بن جائے۔" اچانک ان کے لہجے میں سکون اور مٹھاس آ گئی تھی۔

"ماما چھوڑیں نا، تابی کو کچھ نہ کہا کریں۔" عریبہ نے لاڈ سے ان کا سر دبانا شروع کر دیا۔

پروین بیگم فوراً مڑیں اور ہاتھ میں پکڑا ہوا سالن والا چمچ عریبہ کو دکھا کر ڈانٹا۔ "تابی کی چمچی! جا پہلے میری چپل اُٹھا کر لا۔"

"جی ماما!۔" عریبہ نے برا سا منہ بنایا اور ہال کی طرف بھاگ گئی۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Mehtab by Usama Zaryab Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment