Fidakaari by Dawood Faiz Complete novel


Fidakaari by Dawood Faiz complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Fidakaari by Dawood Faiz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Dawood Faiz All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

> “بس بہت ہو گیا! ایک لڑکے کی کامیابی نے تم سب کو بدل دیا ہے؟ کل سے کوئی لڑکا تعلیم کے بہانے قبیلے سے باہر نہیں جائے گا!”

محفل خاموش ہو گئی۔ مگر اس بار لوگوں کی آنکھوں میں پہلے جیسا خوف نہیں تھا۔

ادھر عاطف گھر پہنچا تو اس کی ماں بار بار اسے دیکھ رہی تھی، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ اس کا بیٹا واقعی AMC جانے والا ہے۔ چھوٹی بہنیں خوشی سے اس کے گرد گھومتی رہیں۔ والد خاموش بیٹھے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں فخر صاف نظر آ رہا تھا۔

رات کو کھانے کے بعد والد نے آہستہ سے کہا:

> “بیٹا… ہم غریب ضرور ہیں، مگر آج تو نے ہمیں امیر کر دیا۔”

عاطف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کی محنت صرف اس کا خواب نہیں رہی، پورے گھر کی عزت بن چکی ہے۔

چند دن بعد AMC روانگی کی تاریخ آ گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ عاطف کے پاس مناسب کپڑے بھی نہیں تھے۔ یونیفارم اور ضروری سامان کی لسٹ لمبی تھی، جبکہ گھر کی حالت کمزور۔ والد نے اپنی پرانی بچت نکالی، مگر وہ ناکافی تھی۔

اسی دوران کلیم دوبارہ قبیلے آیا۔ اس بار وہ اکیلا نہیں تھا، بلکہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے عاطف کو ایک بیگ دیا۔

> “یہ میری طرف سے نہیں… دوستی کی طرف سے ہے۔”

بیگ کھولا تو اندر نئے جوتے، چند کپڑے اور ضروری سامان تھا۔ عاطف کچھ لمحے خاموش رہا۔

> “کلیم… میں یہ واپس نہیں کر سکوں گا۔”

کلیم ہنس پڑا۔

> “پاگل! فوج میں جا کر واپس مت کرنا، بس کبھی بدلنا مت۔”

اسی رات علیزے کو بھی خبر ملی کہ عاطف چند دنوں میں راولپنڈی جا رہا ہے۔ وہ کافی دیر کھڑکی کے پاس بیٹھی رہی۔ دل چاہ رہا تھا ایک بار عاطف سے بات کرے، مگر قبیلے کی دیواریں بہت اونچی تھیں۔

ادھر سردار خیر بخش کے اندر عجیب جنگ چل رہی تھی۔ وہ جتنا عاطف کو روکنے کی کوشش کرتا، عاطف اتنا ہی آگے نکل جاتا۔ پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ طاقت ہمیشہ بندوق یا خوف میں نہیں ہوتی… کبھی کبھی علم بھی انسان کو ناقابلِ شکست بنا دیتا ہے۔

روانگی والے دن صبح فضا عجیب اداس تھی۔ عاطف نے چھوٹا سا بیگ اٹھایا، ماں کے ہاتھ چومے اور والد سے گلے ملا۔ ماں رو پڑی۔

> “اپنا خیال رکھنا بیٹا…”

عاطف نے مسکرا کر کہا:

> “امی، اب واپس تب آؤں گا جب آپ مجھے ڈاکٹر کے لباس میں دیکھیں گی۔”

بس چلنے لگی تو عاطف نے آخری بار اپنے قبیلے کو دیکھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں اس کے خوابوں کا مذاق اڑایا گیا تھا… اور یہی جگہ اب اس کی کامیابی کی کہانی سنانے والی تھی۔

AMC

     پہنچ کر عاطف کی اصل زندگی شروع ہوئی۔ خواب پورا ہونا ایک بات تھی، مگر اسے جینا بالکل الگ امتحان تھا۔

ابتدا میں سب کچھ اس کے لیے نیا تھا—سخت ڈسپلن، لمبے لیکچر، مسلسل ٹریننگ اور تھکن سے بھرا روٹین۔ صبح فجر سے پہلے اٹھنا، پریڈ، پھر کلاسز، پھر لیب، اور رات کو دیر تک اسٹڈی۔ اکثر وہ کتابوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے تھک جاتا، مگر پھر خود کو یاد دلاتا:

> “میں یہاں صرف اپنے لیے نہیں ہوں…”

اس کی ماہانہ stipend شروع ہو گئی تھی۔ رقم زیادہ نہیں تھی، مگر عاطف کے لیے وہ بہت بڑی نعمت تھی۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر خرچ کرتا۔ تھوڑا سا اپنے لیے رکھتا—صرف ضروری چیزوں کے لیے—اور باقی تقریباً پورا گھر بھیج دیتا۔

ہر مہینے جب وہ پیسے گھر بھیجتا، اس کی ماں کے ہاتھ کانپ جاتے۔ وہ رقم گنتی نہیں تھی، بس سینے سے لگا لیتی۔

> “یا اللہ… میرا بیٹا اب ہمارے لیے سہارا بن گیا ہے…”

گاؤں میں جب پیسے پہنچتے، تو ماں کے چہرے پر وہ سکون آتا جو برسوں سے غائب تھا۔ چھوٹی بہنیں خوش ہو کر کہتیں:

> “بھائی نے پھر پیسے بھیجے ہیں!”

اور والد خاموشی سے بیٹھے بس یہ سوچتے رہتے کہ جس بیٹے کو لوگ ناکام سمجھتے تھے، وہ اب پورے گھر کی طاقت بن چکا ہے۔

ادھر AMC میں عاطف کی اصل struggle جاری تھی۔ کئی کیڈٹس آرام دہ زندگی سے آئے تھے، ان کے پاس سب کچھ تھا، مگر عاطف کے پاس صرف ایک چیز تھی—صبر۔

جب وہ رات کو دوسرے لڑکوں کو فون پر باتیں کرتے دیکھتا، ہنستا کھیلتا دیکھتا، تو وہ خاموشی سے کتاب کھول لیتا۔ اس کے پاس فون نہیں تھا، نہ وقت ضائع کرنے کی عادت۔

کبھی کبھار تھکن اتنی بڑھ جاتی کہ وہ میز پر سر رکھ کر کچھ لمحے آنکھیں بند کر لیتا، پھر فوراً اٹھ جاتا:

> “نہیں… رکنا نہیں ہے…”

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Fidakaari by Dawood Faiz Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment