Khak khoon aur wafa by Sana Ejaz Complete novel


Khak khoon aur wafa by Sana Ejaz complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Sana Ejaz is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Khak khoon aur wafa by Sana Ejaz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Sana Ejaz All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

اماں جی جب قسمت سے واسطہ پڑتا ہے نا تو بڑے بڑے ہار تھک جاتے ہیں اور سمجھوتہ کر لیتے ہیں پھر سب کچھ ماننا پڑتا ہے ,

وہ روتے ہوئے بولی ۔

ماں بیٹی دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

اماں جی نے اس کا ماتھا چوما اور خود بھی سسک اٹھیں۔

کمرے کی فضا ان کے دکھ سے بوجھل ہو گئی ۔

دروازے کے باہر ہلکے اندھیرے میں کھڑی شانزے بھابھی یہ سب سن رہی تھی ۔

 اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی جیسے کسی سازش کی جیت قریب ہو ۔

نا نا شاہ نور چوہدری صرف منگنی نہیں بلکہ اب  میں تیرا نکاح اپنے بھائی کے ساتھ کروا کر ہی دم لوں گی

وہ دل ہی دل میں بولی ۔

پھر آہستہ سے پلٹی اس کے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہ دی ۔

پھر وہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔

ادھر کمرے میں ماں بیٹی ایک دوسرے سے لپٹی بیٹھی تھیں ۔

ایک ہار چکی تھی اور دوسری اپنی بیٹی کی ہار پر ٹوٹ رہی تھی ۔

باہر رات گہری ہو رہی تھی ۔

اور اس گھر کے اندر بھی اندھیرا اتر چکا تھا ۔

@@@@@@@@@@@@@@@@@@@@

" آپ کی لاڈلی دھی شاہ نور کا ملک شاہ ویر کے ساتھ کب سے چکر چل رہا تھا ڈیرے پر جانے کے بہانے اُس سے ملنے جاتی تھی اور ,

 وہ جو اچانک شہر چھوڑ کر پینڈ آئی تھی نا صرف ملک شاہ ویر کے لیے آئی تھی آپ کی دھی کا اُس کے بغیر دل ہی نہیں لگتا تھا۔"

یہ الفاظ یاد آتے ہی اماں جی گھبرا کر بستر پر سیدھی بیٹھ گئیں اُن کے چہرے پر اذیت صاف جھلک رہی تھی۔

پھر شانزے کی ایک اور بات اُن کے ذہن میں بجلی بن کر کوندی ,

" اور شاہ نور کو پچھلے دنوں کوئی بخار وُخار نہیں تھا اُسے تو ملک شاہ ویر کی شادی کا غم لگا ہوا تھا اور اُس کی شادی سے پہلے رات کے وقت گھر کی دیواریں پھلانگ کر اُس سے ملنے گئی تھی توبہ توبہ ہے ایسی لڑکی پر "

وہ منظر بھی اماں جی کی آنکھوں میں گھوم گیا جب شانزے نے یہ سب باتیں شاہ نور کے باپ اور بھائیوں کے سامنے بے دھڑک کہہ دی تھیں اور شرمندگی سے سب کی نظریں جھک گئی تھیں۔

یہ سوچتے ہی اماں جی کی آنکھیں بھر آئیں اُنہوں نے کانپتے ہاتھوں سے جگ اٹھایا گلاس میں پانی انڈیلا اور ایک ہی سانس میں پی گئی۔

شاہ نور دھی تُو نے یہ کیا کر دِتا تُو تے اپنے ماں باپ دا مان غرور سی , وہ روتے ہوئے بڑبڑائیں۔

پھر اپنے کمزور , کپکپاتے ہاتھ چہرے پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں  ۔

کمرے میں اُن کی دبی دبی سسکیاں دیر تک گونجتی رہیں ۔

ادھر شاہ نور وضو کیے خاموشی سے جائے نماز پر کھڑی ہو گئی اور تہجد کی نماز ادا کرنے لگی ہر سجدے میں اُس کے آنسو جائے نماز کو بھگوتے رہے

تھے ۔

نماز کے بعد وہ وہیں جائے نماز پر بیٹھی تسبیح کے دانے گھماتی رہی , پھر نہ جانے کب روتے روتے اُسی جائے نماز پر اُس کی آنکھ لگ گئی۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Khak khoon aur wafa by Sana Ejaz Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment