Ishq Rangreza by Aman Khan Complete novel


Ishq Rangreza by Aman Khan complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Aman Khan is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Ishq Rangreza by Aman Khan complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Aman Khan All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

زاویان ایسے کیوں دیکھ رھے ہیں ؟ ادینہ نے اُنگلیاں چٹختے ہوۓ کہا ۔ وہ اس وقت اپنے کالج یونیفارم میں ملبوس تھی ، چہرے پر لائیٹ سا میکپ ، چھوٹی سی ناک پر نتھلی نہایت جچ رہی تھی

بس سوچ رہا ہوں کہ کوئی اتنا خوبصورت بھی کیسے ہو سکتا ہے۔زاویان ہلکا سا مسکرایا، نظریں اب بھی اسی پر ٹکی ہوئی تھیں۔

آپ بھی نا ہر وقت مذاق کرتے رہتے ہیں۔ادینہ کے گال سرخ ہو گئے۔ اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔

یہ مذاق نہیں ہے، زاویان نے آہستہ سے کہا۔

تم واقعی بہت خوبصورت لگ رہی ہو آج۔ زاویان نے اُسکے چہرے پر ائی آوارہ لٹ کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔

کیا بس اج ہی خوبصورت لگ رہی ہو؟ ادینہ نے ماتھے پر

تیوری سجا کر ناراضگی سے کہا ۔

 آج تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے چاند زمین پر اتر آیا ہو۔زاویان کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آگئی۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے مزید قریب ہوا ۔

آپ بھی نا بس باتیں بناتے رہتے ہیں۔اس نے نظریں جھکائیں شرماتے ہوئے کہا ۔

یہ باتیں نہیں ہیں ادینہ سچ ہے۔ زاویان کی آواز نرم اور سنجیدہ تھی۔

پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا مخملی ڈبہ نکالا اور اس کے سامنے کھول دیا۔ اندر ڈائمنڈ کی نہایت خوبصورت پائل چمک رہی تھی۔

یہ،  میرے لیے؟ ادینہ کی آنکھوں میں حیرت آگئی۔

اور کس کے لیے ہو سکتی ہے۔زاویان نے مسکرا کر سر ہلایا۔

زاویان اپنی کرسی سے اُٹھا اور ادینہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اُسکا نازک سہ پاؤں اٹھا کر اپنی لیپ پر رکھا ۔

نہیں میں خود پہن لو گی ۔ادینہ پہلے تو زاویان کو دیکھتی رہی پر جب زاویان نے اُسکا پاؤں پکڑ کر لیپ پر

 رکھا تب ادینہ کو ہوش آیا۔

میں کونسا تمہیں انڈر گارمنٹس پہنا رہا ہو ، ایک پائل ہی تو پہنا رہا ہو ۔خیر انڈر گارمنٹس بھی شادی کی بعد میں خود تمہیں پہناو گا ۔ زاویان نے شرارتی لہجے میں کہا ، اُسکی نظریں ادینہ کے خوبصورت چہرے پر تھی ، ڈیپ اکسین آنکھیں حد سے زیادہ کھل چکی تھی ۔

کتنے بے شرم ہیں آپ ۔ادینہ نے خیالوں ہی خیالوں میں خود سے کہا ۔

اور جھٹ سے اپنا پاؤں زاویان کی گرفت سے چھڑوانا چاہا پر نہ کام ٹھہری ۔

کیا ہیں ؟ زاویان نے مصنوعی گھوری سے نوازتے ہوئے کہا ۔

میں خود پہن لو گی نہ آپ رہنے دے مجھے اچھا نہیں لگ

 رہا ۔ادینہ نے منمناتے ہوئے کہا۔

پائل پہنانے کے فن سے واقف ہوں میں جانتا ہوں پہلے پاوں چومتے ہیں!!!!! زاویان نے اُسکے پاؤں پر اُنگلی ٹریس کرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی جھک کر اُسکے پاؤں پر اپنے تشنہ لب رکھے ۔

اُسکے پاؤں سے لب ہٹا کر زاویان نے مخملی ڈبے سے پائل

 نکالی ، اس دوران پائل کی جھنکار کمرے میں موسیقی کی طرح رقص کی تھی ۔ زاویان وہ پائل  ادینا کے پاؤں میں پہنانے لگا ۔

یہ پائل بہت خوبصورت ہیں پر یہ شور کرے گی نہ ۔ ادینہ نے نیچلے ہونٹ نکال کر استفسار کیا ۔

تو اچھا ہیں نہ جب کبھی تم آؤ گی تو اسکی آواز

 میرے کانوں تک پہنچے گی ویسے تو تمھاری خوشبو ہی کافی ہیں تمھاری موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ، اور پھر جب بیڈ پر اس پائل کا شور گونجے گا تو سوچو ہم دونوں ہی کتنا  محسوس کریں گے اُن نازک لمحات کو ۔زاویان نے پہلے تو ادینہ کو اسکی اہمیت بتائی اور لاسٹ میں وہ معنی خیز بات نہ کرے ایسا کیسے ہو سکتا تھا ۔

ادینہ جو بہت غور سے اُسے سن رہی تھی اُسے پٹری سے اترتے دیکھ کر ہڑبڑا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگ گئی ۔

ادینہ کو ہربراتے دیکھ کر زاویان کا دلکش قہقہ کمرے کی زینت بنا تھا ۔

ادینہ نے خفگی سے زاویان کی طرف دیکھا ۔

اب تم جب جب چلو گی میرا عشق گونجے گا ہر سو۔ زاویان نے اُسکے خوبصورت پاؤں کو دیکھتے ہوے کہا۔ 

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Ishq Rangreza by Aman Khan Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment