Rooh e qalab ho tum by Noreen Qadir Complete novel



Rooh e qalab ho tum by Noreen Qadir complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Noreen Qadir is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Rooh e qalab ho tum by Noreen Qadir complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Noreen Qadir All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

احد آپ بہت اچھے ہو"

وہ فورا سے اسے بولی احد نے اسکا ہاتھ تھاما

 

"آپ میری شریک حیات  ہو نور یہ بات یاد رکھنا بس اور میاں بیوں آپس میں دوست بھی ہوتے ہیں"

احد نے اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا اور اس کی جانب ہاتھ بڑھایا نور نے اسے دیکھا اور مسکرا کر ہاتھ تھام لیا

 

"اب کیوں ہے آپ کی آنکھیں نم "

ہاتھ الگ کرنے کے بعد احد جب اٹھا نور کو اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

 

"کچھ نہیں بس ایسے ہی احد"

نور  اسے نم آنکھوں سے دیکھ کر مسکرا کر جواب دینے لگی احد اسے دیکھنے لگا

 

"چلو شاباش اٹھو اور سو جاؤ نور آپ بےفضول نہ سوچا کرو کچھ بھی بس خوش رہا کرو خوشی میری پاس سے ہو کر بھی نہیں گزارتی تو خوش کیا رہنا احد ۔ نور میں جانتا ہوں آپ بہت سٹرونگ ہو نہیں میں سٹرونگ اُٹھے چلے سو جائے اور اپنے دماغ سے یہ باتیں نکال دے "

وہ اسے بچوں والے انداز میں بولا نور اثبات میں سر ہلا کر جائے نماز لپیٹ کر جگہ پر رکھ کر بیڈ پر آ گئی۔

 

_______

 

ایزل کا دل بہت زیادہ بےچین ہورہا تھا اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی وہ ٹی وی لاؤنچ میں موجود پریشانی سے ٹہل رہی تھی اچانک وہ اٹھی اور وضو کرکے سر پر دوپٹہ کرتی سورہ یسین کی تلاوت کرنے لگ گئی

تبھی عارض مین گیٹ سے آتا اسے دیکھائی دیا ایزل نے ایک نظر اسے دیکھا اور بغیر کچھ کہے خاموشی سے اپنی تلاوت کرنے لگی عارض اس کے ساتھ آکر بیٹھا اور مسکرا کر اسے دیکھا تلاوت کرتے ہی ایزل نے قرآن بند کی اور عارض کی طرف دیکھا

 

"کیا ہوا ایزل"

عارض فکرمندی سے اس کے پاس آکر پوچھنے لگا ایزل نے اسے دیکھا

 

"وہ کچھ نہیں"

کیا میں عارض بھائی کو بتاؤ جو آج مارکیٹ میں ہوا

 

"کیا ہوا کچھ بتاؤ گی تم"

وہ کچھ بھی نہیں ہوا عارض بھائی سب ٹھیک ہے اچھا تو پھر تم پریشان کیوں ہو کہاں نہیں ہوں میں پریشان

 

"تم میری چائے لے آؤ میں اپنے روم میں جا رہا ہوں "

کہتے ساتھ وہ اوپر کی جانب بڑھ گیا اور ایزل اثبات میں سر ہلا کر کچن کی طرف بڑھ گئی

 

عارض اپنے روم میں آیا فریش ہو کر کتاب پڑھنے لگا

تبھی ایزل چائے  لیے عارض کے روم میں آئی اور عارض کو چائے دینے لگی عارض نے ڈش تھام کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی ایزل وہاں سے چلی گی

 

"ایزل کیا ہو گیا تم کیوں اُس لڑکے بارے میں سوچ رہی"

نہیں نہیں ایزل مت سوچو ابھی اُس کے بارے میں سو جاؤ چپ کر کے

 

"افففففف کیا آنکھیں بند کرو تو اُس کا چہرہ سامنے آ جاتا ہے "

وہ سر جھکائے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے سوچ رہی تھی

وہ خود کو حوصلہ دیتے ہوئے بولی

 

"استغفراللہ یہ بھوت ہے کیا "

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Rooh e qalab ho tum by Noreen Qadir Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment