Shukar tak ka safar by Noor Muzaffar complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Noor Muzaffar is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Shukar tak ka safar by Noor Muzaffar complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Noor Muzaffar All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"مسلمانو
! اپنے رب کویاد کرو ۔ امور حیات میں اتنا مگن نہ ہو جاو کہ حیات دینے والے رب کو بھول جاؤ ۔اپنے مالک کا شکر ادا کرتے رہو
۔" امام اپنے سامنے بیٹھے لوگوں سے مخاطب تھا۔
گنتی
کے چند لوگ بیٹھے اسے سن رہے تھے ۔جب امام اپنی بات مکمل کر چکا تو آباد مسجد پھر سے
خالی ہو گئی ۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کی
طرف چل دیے ۔ کسی کو نیند مکمل کرنی تھی تو کسی کو کام پر جانا تھا ۔ گاؤں کی یہ چھوٹی سی مسجد فجر کے وقت بھر جاتی اور پھر لوگ کاروبار زندگی میں مصروف ہو جاتے ۔ مسجد کی دیواریں نمازیوں
کی راہ تکتی رہ جاتیں ۔
بڑ
ے سے درخت تلے مسجد کے قریب صرف دو لڑکے کھڑے تھے ۔ بھوری آ نکھوں والے لڑکے نے سیاہ آنکھوں والے لڑکے کو اشارہ کیا ا ور پھر دونوں ایک ساتھ بھاگنَے لگے ۔ بھوری آنکھوں والا لڑکا
آگے گزر چکا تھا ۔ ایک تناور درخت کو ہاتھ لگانے کے بعد وہ وہیں رک گیا ۔ سیاہ آنکھوں والا لڑکا بھی اس کے
قریب پہنچ چکا تھا ۔
"
تم آج پھر ہآر گئے سعد ۔"
سعد
گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ،نیچے کی جانب جھکے اپنا تنفس بحال کر رہا تھا ۔ اس نے سر اٹھا
کر اپنے سامنے کھڑے لڑکے کودیکھا جو قد اور عمر دونوں میں اس سے بڑ ا تھا ۔
"
ہاں تو تم پورے تین سال بڑے ہو مجھ سے اگر
تم مجھ سے ہآر جاؤ گے تو تمہیں شرمندگی ہوگی بس اس لئے میں جیتتا نہیں
ہوں ۔" سعد نے کندھے اچکا تے ہوۓ
کہا۔
سجام اسے دیکھ کر رہ گیا ۔ اس سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ سعد جاوید کو باتوں میں کوئی نہیں ہرا سکتا تھا ۔
"
اچھا اب مجھے ایسے مت دیکھو مان لیا میں ہارا اور تم جیتے ۔" سعد نے سجام کو بیٹھنے
کا اشارہ کرتے ہوۓ
کہا ۔ وہ آنا پرست نہیں تھا وہ اپنی ہار اور
غلطی مان لیا کرتا تھا ۔
"
تم یونی کب جا رہے ہو ؟ " سجام نے اپنی شال پھر سے اوڑھتے ہوۓ
پوچھا ۔ نومبر کا مہینہ شروع ہو چکا تھا ۔ صبح کے وقت ہلکی سی سردی تھی۔
سعد
خاموش رہا ۔
"
یار میریٹ لسٹ پر تمہآرا نام آچکا ہے داخلہ
ہو جاے گا تم جاؤ تو سہی۔" سجام نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ
کہا ۔ سعد پھیکا سا مسکرا دیا ۔
"
ہم مڈل کلاس لوگوں کے خواب خواب ہی رہ جاتے ہیں ۔ میرا داخلہ ہو بھی گیا تو شاید جا نہ سکوں ۔"
"کیوں
؟ "
"پانچ
سال تک میں کراچی میں کیسے رہوں گا ؟ ایم۔ بی ۔بی۔ ایس کے ساتھ جاب کرنا بہت مشکل ہوگا
اور پھر گھر کیسے چلے گا ؟۔ میں امی اور فریحہ کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا
۔" اس اکیس سالہ لڑکے کی زندگی میں ڈھیروں
مسائل تھے ۔
"
یارتم تو مجھے حوصلہ دیتے ہو اور اب خود مایوسی والی باتیں کر رہے ہو " سجام نے کہا ۔
"میں
مایوس بلکل بھی نہیں مگر حقیقت کو جٹھلا بھی
نہیں سکتا "
"
ارے میں بھی تو پچھلے تین ماہ سے بے روزگار
ہوں اپنا آپ زمین پر بوجھ لگتا ہے ۔ آہ ! ہم
لڑکوں کے مسائل۔"سجام نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا ۔
"اللّه
سب بہتر کرے گا ۔" سعد نے اسے حوصلہ دیا ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Shukar tak ka safar by Noor Muzaffar Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment