Umul Kitab by Khadija Noorulain group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Khadija Noorulain is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Umul Kitab by Khadija Noorulain complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Khadija Noorulain All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"ایکسکیوزمی مجھے میرے بابا نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔کیا آپ
میری ہیلپ کریں گی ان کو ڈھونڈنے میں"۔گھنگریالے بال،پھولےہوئے گلابی گالوں
والی پانچ سالہ بچی اپنی سبز آنکھوں میں نمی لئے بولی جس پر خنساء نے رک کر اس کی
جانب دیکھا۔تو بے اختیار مسکرا دی۔
"آپ کے بابا یہیں کہیں ہوں گے۔آپ پریشان مت ہوں"۔خنساء
اس بچی کو تسلی دیتی ہوئی بولی۔
"نہیں نا وہ کتنی دیر سے نہیں مل رہے ہیں۔دادو اور چاچو بھی
پتا نہیں کہاں گئے ہیں"۔سبز آنکھوں والی بچی لہجے میں ڈھیروں خفگی لئے بولی۔
"اچھا چلو پھر آپ کے بابا،دادو"۔ابھی خنساء اتنا ہی بولی
تھی کہ عائشہ بول پڑی۔
"چاچو!ہاں چاچو کو ڈھونڈیں"۔خنساء اس کا ہاتھ تھامے ادھر
ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے بولی۔جبکہ اتنی دیر میں عائشہ اس کی انگلی پکڑے پکڑے خوشی
سے چلائی۔
"وہ رہے میرے بابا"۔عائشہ کے بولنے پر خنساء نے نظریں
گھومائیں تو رحمان کی جانب نگاہ پہنچی تو اس کی جانب چل دی۔سیاہ پینٹ کوٹ میں
ملبوس،بال جیل سے سیٹ کئے وہ فون کان سے ہٹاتا انہی کی جانب بڑھ رہا تھا۔عائشہ
بھاگ کر اس کے پاس جا کر اس سے لپٹ گئی جس پر خنساء مسکرا دی۔
"بابا آپ کہاں چلے گئے تھےمیں پریشان ہو گئی تھی"۔عائشہ
بھیگے لہجے میں بولی جس پر رحمان مسکرا دیا۔
"بیٹا میں تو بس ایک فون کال اٹینڈ کرنے گیا تھا۔آپ کی دادو
کہاں پر ہیں"۔رحمان ارد گرد نگاہ دوڑاتا ہوا بولا۔
"دادو اپنی کسی فرینڈ کے ساتھ چلی گئیں"۔عائشہ نروٹھے پن
سے بولی۔
"وہ جو سامنے فیری ہیں۔انہوں نے میری ہیلپ کی ہے آپ کو
ڈھونڈنے میں"۔عائشہ خنساء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی جس پر رحمان نے سامنے
نگاہ دوڑائی تو خنساء کو اپنی جانب تکتا پاکر مسکرا دیا اور پھر عائشہ کا ہاتھ
تھامے قریب آیا اور بولا۔
"تھینکس فیری۔میری بیٹی کی ہیلپ کرنے کے لئے"۔رحمان
خنساء کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا جو اس کے فیری کہنے پر حیران تھی۔
"میرا نام خنساء اسحاق خان ہےفیری نہیں مسٹر وہاٹ
ایور!"۔خنساء طنزیہ لہجے میں بولی۔
"بندے کو بھی رحمان علی خان کے نام سے جانتے ہیں سب لوگ۔مسٹر
وہاٹ ایور کے نام سے نہیں"۔اسی کے انداز میں رحمان دو بدو بولا جس پر خنساء
لاجواب ہو گئی۔
"ویل!آپ نے عائشہ کی ہیلپ کی اور آپ اس کو اچھی لگیں۔اور جو
اس کو اچھا لگتا ہے اس کو وہ فیری کہتی ہے اسی لئے اس نے ہی میرے سامنے آپ کو فیری
کہا تو میں نے بھی کہہ دیا۔آئی ہوپ یو ول نیور مائنڈ اٹ"۔رحمان عائشہ
کا ہاتھ تھامے مسکراہٹ اچھالتا آگے بڑھ گیا جبکہ خنساء پیر پٹختی آگے بڑھ گئی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Umul Kitab by Khadija Noorulain Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment