Haya by Zar Hayat complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Zar Hayat is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Haya by Zar Hayat complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Zar Hayat All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"تو
نے مجھ سے میری بہن چھین لی... تو نے اس کے ساتھ ظلم کیا... اور وہ اسی غم میں مر
گئی..."
"تو
سمجھا تو توبہ کر کے بچ جائے گا؟ نماز پڑھ کر پاک ہو جائے گا؟"
"میں
تجھ سے بدلہ لوں گا عبیداللہ... تو خون کے آنسو روئے گا... جیسے میں رویا
ہوں..."
فون
بند ہوگیا...
عبیداللہ
کا پورا جسم پسینے سے بھیگ گیا...
وہ
فوراً وضو کر کے جائے نماز پر گر گیا...
"یا
اللہ... یہ میرے گناہ کی سزا ہے... میری ایک بہن بھاگ گئی..."
"یا
اللہ... میں نے تو سچی توبہ کر لی تھی... میں نے وہ سارے نمبر ڈیلیٹ کر دیے
تھے..."
"یا
اللہ... یحییٰ کو ہدایت دے... اسے روک دے... وہ غصے میں کچھ غلط نہ کر دے..."
ساری
رات عبیداللہ روتا رہا...
اگلی
صبح...
حیا
نے عروہ سے کہا... "عروہ... آج میں امی کے ساتھ ہسپتال جا رہی ہوں... تم اکیلی
کالج چلی جاؤ گی؟"
عروہ
نے ڈرتے ہوئے کہا... "جی ... چلی جاؤں گی..."
عروہ
نے اپنا بیگ اٹھایا... اور اکیلی گلی سے نکل گئی...
گلی
سنسان تھی... صبح کا وقت تھا...
پیچھے
سے ایک بائیک آئی... اس پر یحییٰ تھا... آنکھیں لال... غصے سے پاگل...
یحییٰ
نے عروہ کو دیکھا... "یہ عبیداللہ کی بہن ہے..."
اس
نے بائیک روکی...
یحییٰ
نے غصے اور انتقام میں... عروہ کو گولیاں مار دی...
اور
پھر...عروہ برداشت نہ کر سکی اور گر گئی...عروہ فوت ہو گئی...
یحییٰ
ڈر گیا... اسے سمجھ نہیں آیا کیا کرے... اس نے عروہ کو لا کر... شہزاد محل کے گیٹ
کے آگے ڈال دیا... اور بھاگ گیا...
صبح
کے 9 بجے...
نوح
باہر کھیلنے نکلا... تو اس نے گیٹ کے پاس... عروہ کو پڑا دیکھا...
"عروہ
آپی... عروہ آپی سو رہی ہیں..."
نوح
نے ہلایا... تو عروہ نہیں اٹھی...
نوح
نے چیخ ماری...
"ابو...
امی... جلدی آؤ... عروہ آپی کو کیا ہوا ہے..."
سب
باہر دوڑے...
ابو
شہزاد نے عروہ کو دیکھا... زمین پر... بے جان...
امی
کلثوم کی چیخ نکل گئی...
"عروہ...
میری بچی..."
حیا
دوڑ کر آئی...
"عروہ...
آنکھیں کھولو... عروہ..."
لیکن
عروہ نہیں اٹھی...
دادی
چارپائی سے گر گئیں...
عبیداللہ
باہر آیا... عروہ کو اس حالت میں دیکھا... تو اسے سب سمجھ آ گیا...
"یحییٰ..."
عبیداللہ
زمین پر بیٹھ گیا... اور رونے لگا...
"یہ
میرے گناہ کی سزا ہے... میری معصوم بہن... جس نے کبھی کسی کا برا نہیں سوچا... جسے
سب منحوس کہتے تھے... آج وہ... میرے گناہ کی وجہ سے مر گئی..."
پورے
محلے میں خبر پھیل گئی...
پولیس
آئی...
پولیس
نے عروہ کو دیکھا... اور کہا... "یہ قتل ہے..."
حیا
نے روتے ہوئے کہا... "نہیں... میری بہن... میری عروہ... جو سب کے لیے دعا کرتی
تھی...اسے کیسے کوئی مار سکتا ہے ..."
امی
کلثوم عروہ کی لاش سے لپٹ کر رو رہی تھیں...
"میں
نے تجھے سب کے سامنے پیار بھی نہیں کیا... میں تجھے کمرے میں چھپ کر پیار کرتی تھی...
مجھے معاف کر دے میری بچی..."
ابو
شہزاد... جو 17 سال سے عروہ کو منحوس کہتے تھے... آج اس کے قدموں میں بیٹھ کر رو
رہے تھے...
"عروہ
بیٹی... مجھے معاف کر دے... میں نے تجھے کبھی بیٹی نہیں سمجھا... آج جب تو چلی گئی...
تو مجھے پتہ چلا... تو کتنی پیاری تھی..."
شہزاد
منزل کے آگے... لوگوں کا ہجوم تھا...
اور
اندر... ایک جنازہ پڑا تھا... عروہ کا...
وہ
عروہ... جو سارا دن منہ لٹکائے رکھتی تھی... آج سب اسے دیکھ کر رو رہے تھے...
حیا
نے عروہ کے ماتھے پر بوسہ دیا...
"عروہ...
تم تو کہتی تھی... تم کالی ہو... موٹی ہو... تم سے کوئی پیار نہیں کرتا... دیکھو...
آج سب تم سے پیار کر رہے ہیں..."
"لیکن
تم... تم جا رہی ہو..."
نوح
عروہ کے پاس بیٹھا... اس کا ہاتھ ہلا رہا تھا...
"عروہ
آپی... اٹھو نا... آپ نے کہا تھا... آپ مجھے کہانی سناؤ گی..."
ادھر
یحییٰ اپنے گھر میں چھپا بیٹھا تھا... ہاتھ کانپ رہے تھے...
اسے
لگا تھا... بدلہ لے کر سکون ملے گا... لیکن سکون نہیں ملا...
اسے
اپنی بہن کی آواز یاد آ رہی تھی... اور اب عروہ کا چہرہ...
"میں
نے کیا کر دیا... میں نے ایک اور بے گناہ کو مار دیا..."
"میں
اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتا تھا... لیکن میں نے ایک اور بہن کو مار دیا..."
یحییٰ
کو سمجھ آیا... بدلے نے اسے قاتل بنا دیا...
اس
نے خود پولیس کو فون کیا...
"میں
نے قتل کیا ہے... میں نے عروہ کو مارا ہے... مجھے آ کر پکڑ لیں..."
پولیس
اسے پکڑ کر لے گئی...
عبیداللہ
کو جب پتہ چلا... تو وہ تھانے گیا...
یحییٰ
حوالات میں بیٹھا رو رہا تھا...
عبیداللہ
نے کہا...
"یحییٰ...
تو نے کیا کیا؟ تیری بہن کے ساتھ میں نے ظلم کیا تھا... اللہ مجھے سزا دے گا... لیکن
تو نے میری بہن کو مار کر... خود بھی وہی گناہ کیا..."
"اب
دو گھر اجڑ گئے... تیرا بھی... میرا بھی..."
"میری
عروہ... جس نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا... وہ چلی گئی..."
یحییٰ
نے کہا... "مجھے پھانسی ہو گی نا؟ ہونے دو... میں اسی لائق ہوں..."
Click the link below to download this novel in pdf.
Haya by Zar Hayat Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment