Humnawa by Mazhar Yousafzai Complete novel


Humnawa by Mazhar Yousafzai complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Mazhar Yousafzai is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Humnawa by Mazhar Yousafzai complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Mazhar Yousafzai All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

کیا لگتا ہے ، گھر کے مضبوط ستون کو گرا کے اپ میرے گھر کے بچوں پہ وار کرے گے میری ماں کی طرف انکھ اٹھا کے دیکھیں گے میری گھر کی عورت پہ علیظ نظر رکھے گے میں چپ رہوں گا ، نا ممکن ، میں ندیم نہیں ہوں کہ گھر کا شیرازہ بکھرنے دوں ، نہ ہی ندیم کا وہ کمزور ڈرا سہما بیٹا کہ اب میں ڈر جاوں ، ،میرے انکھوں میں انکھیں ڈال کے دیکھو میں سنان ، روحان زوحان کا باپ ، یمنہ کا بڑا بھائی ، نگہت کا بیٹا ہوں ، میرے خاندان کی طرف انکھ اٹھانے سے پہلے اپ کو مجھ سے ٹکرانا ہوگا ، اگر دوبارا میری ماں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ، یا میرے بچوں کا پیچھا کیا تو دیکھنا کیا حال کرتا ہوں ، سنان نے غرا کے کہا ،

 ہاہاہاہاہا بھول گئیں کس بدکردار ماں کے بیٹے ہو ، میں نے جوئے میں کسی کا سودا کیا ہے ، تم مجھے روک نہیں سکتے ، یا تو تمہاری وہ بدچلن ماں اور اسکی بیٹی میرا تاوان بھرے گی ، یا پھر تمہارے وہ دونوں بھائی ،

 چہ چہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، سنان گہری سانس لے کے مڑا ، یا اللہ مجھے معاف کردے میں ایک گستاحی کرنے جا رہا ہوں ، اور ایک زوردار مکا ندیم کے انکھ پہ دے مارا ، یہ انکھ پہ اسلئے کہ اپ نے میری مری ہوئی ماں کو تو نہیں چھوڑا میری ذندہ ماں پہ بھی بری نظر ڈالا ، دوسرا زوردار مکا اسکے منہ پہ مارا ندیم کا ہونٹ پٹ گیا ، میرے گھر کے عورت اور میرے بچوں کیلئے علیظ الفاظ استعمال کرنے کیلئے ، اور پھر پستول نکال کے لگاتار دو تین اسکے پاوں میں گولیاں ماری ،یہ میرے بچوں کا سودا کرنے کیلئے ، میری ماں تو مر گئی ، لیکن میرے دونوں بچوں( روحان ، زوحان ) کی ماں ذندہ ہے انہیں میں اپکے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دونگا ، میں اپ کو ذندگی بھر کیلئے تڑپاوں گا ، پوری عمر اپ موت کو ترستے رہے گے موت نہیں ائے گی ، میں چھوٹا سا تھا میں نے کہا تھا اللہ کرے اپ مر جائے ، اج میں بد دعا دیتا ہوں ، یا اللہ میرے باپ کو اتنی اسانی سے موت مت دینا ، اس کا جسم کیڑوں کی حوراک بنا دینا ،ایسے باپ سے یتیم ہونا اچھا ہے ویسے بھی اپکے بچے یتیم ہی پیدا ہوئے تھے اچھا ہے وہ بے خبر ہی رہے ،  سنان نے باپ کو ویسے ہی چھوڑ کے گاڑی میں ابیٹھا ، وہ دونوں سنان سے پہلے ہی گاڑی کی طرف بڑھ گئے جب ندیم چادر میں پوری طرح چھپا کپڑے پٹھے ہوئے حالت ترس بھری داڑھی مٹی میں اٹا ہوا ، بکھرے بال انکھوں میں ذندگی کی جھوت بجھی ہوئی ، ذخموں میں کیڑے پڑ چکے تھے دونوں کو گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھ کے ہاتھ میں  نگہت اور ندیم کا نکاح نامہ لے کے وہ لنگڑا کے دونوں کی طرف بڑھنے ہی والا تھا تاکہ نکاح نامہ دکھا کے دونوں کی توجہ حاصل کرے دونوں باپ پہ ترس کھائے ، جب پیچھے سے ہاتھ میں چابی لے کے سنان کو بڑھتے دیکھ کے وہ ٹھٹک رہ گیا ، وہ بے احتیار پیچھے ہٹا ، سنان کا کہا سچ تھا ، میرےبچوں پہ میرے گھر پہ وار کرنے سے پہلے مجھ سے ٹکرانا ہوگا ، سنان اسکی ہی طرف ایا ، ایک نکاح نامہ ہی تھا جس پہ اب نگہت اور دونوں بچوں کو بلیک میل کرناچاہتا تھا سنان نے اسکے دیکھتے ہی دیکھتے نکاح نامہ کو لائٹر کا شعلہ دکھایا ، دیکھتے ہی دیکھتے شعلہ بھڑک اٹھا ، زبردستی اس سے حلغ کے پیپر پہ دستحط لیے اور نگہت بڑھاپے میں شوہر کی زنجیر سے اذاد ہوگئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ندیم کی ایک ہی اواز ابھری

کاششششششش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Humnawa by Mazhar Yousafzai Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment