(Current Episode 1)
Tilsim by Usama Zaryab complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Usama Zaryab is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Tilsim by Usama Zaryab complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"ٹارگٹ
لاک کر دیا گیا ہے، مسٹر بلیک!"
یہ
اس گروہ کے کمانڈر کی آواز تھی جو وائرلیس پر ابھری۔ تمام کارندے گھٹنوں کے بل بیٹھ
کر پوزیشن سنبھال چکے تھے اور ان کی بندوقوں کی نوکیں اسی گھر کی سمت تھیں۔ ابھی کچھ
ہی لمحات بیتے تھے کہ گاڑیوں کے انجنوں کے شور نے رات کا سکون غارت کر دیا۔
جیسے
ہی گاڑیوں کے شور سے ماحول کا تناؤ بڑھا، کھڑکی میں موجود سائے میں ہلچل ہوئی مگر اس
سے پہلے کہ وہ کوئی جنبش کرتا، گھر پر چاروں طرف سے شعلوں کی بارش کر دی گئی۔
وہ
سایہ نظروں سے اوجھل ہو گیا، شاید وہ فرش پر لیٹ گیا تھا یا پھر ان گولیوں کا رزق بن
چکا تھا جو سائلنسر لگی بندوقوں سے خاموشی سے داغی گئی تھیں۔ گولیاں چلنے کی آواز تو
اتنی نہ تھی مگر جہاں وہ پیوست ہو رہی تھیں وہاں خاموشی کی کوئی پابندی نہ تھی۔
پہلے شیشوں کے ٹوٹنے کی کرچی کرچی آوازیں آئیں، پھر
لوہے سے لوہا ٹکرانے کی بازگشت اور آخر میں گاڑیوں کے اس قافلے کے بریک لگنے کی چیخ۔
گاڑیاں
رکتے ہی فائرنگ تھم گئی، جیسے سب پہلے سے ہی اس خونی کھیل کے ہر مرحلے سے واقف ہوں۔
آڈی کا پچھلا دروازہ کھلا اور ایک چھ فٹ طویل قامت شخص، سر پر ہیٹ سجائے باہر نکلا۔
اس نے ہیٹ اتار کر گاڑی کی چھت پر رکھی۔ اس کے لمبے
بال، جو کسی قید سے آزاد ہوئے تھے، بکھری ہوئی حالت میں چہرے کے دونوں طرف لہرانے لگے۔
عقب
سے بال اس کے کوٹ کے کالر کو چھو رہے تھے۔ اسکے کچھ سیاہ بالوں میں کچھ سرمئی بال بھی
چمک رہے تھے۔ اس نے ایک نظر آسمان کی جانب ڈالی تو چاند کی چمک اس کی آنکھوں میں منعکس
ہوئی۔
اس
نے ایک قدم بڑھایا اور اپنے دونوں بازو پھیلا دیے۔ اس کا لانگ کوٹ ہوا کے دوش پر لہرانے
لگا۔ ابھی تین ہی قدم چلے تھے کہ پیچھے سے آنے والے ایک سائے نے، جو V8
سے
اترا تھا اس کے ہاتھوں میں ایک راکٹ لانچر تھما دیا۔
"اس
کی جان میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا!"
اس
کے لب ہلے اور ایک وحشت ناک آواز فضا میں گونجی۔ اگلے ہی لمحے راکٹ لانچر سے ایک آگ
کا گولہ نکلا اور سیدھا پہلی منزل کی کھڑکی چیرتا ہوا گھر کے اندر جا گھسا۔ ایک زوردار
دھماکے نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔
ایک پل کو اندھیرے نے جہنم کا روپ لے لیا اور وہ
مکان زمین بوس ہونے لگا۔ اس سے پہلے کہ ملبہ ساکت ہوتا، گاڑیوں سے اترے ہوئے باقی کارندوں
نے بھی وہی کیا جو ان کے لیڈر نے کیا تھا۔ ان گنت راکٹ اس گرتے ہوئے مکان کی سمت بڑھے
اور وہ گھر ایک بار پھر شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ زمین دھماکوں کے تسلسل سے کانپ رہی
تھی اور مکان کے ٹکڑے شعلوں میں بدل کر دور دور تک گر رہے تھے۔ جب مکان کا نام و نشان
مٹ گیا، تب کہیں جا کر یہ حملہ رکا۔
"تاش
کا آخری پتا بھی جل گیا۔۔۔"
راکٹ
لانچر اس کے ہاتھ میں جھول رہا تھا، جسے اگلے ہی لمحے اس نے بے نیازی سے زمین پر پھینک
دیا۔ وہ مڑا اور اپنی کار کی طرف بڑھا۔ چھت سے ہیٹ اٹھا کر سر پر رکھی اور ایک آخری
نظر اس سلگتی ہوئی جہنم پر ڈالی۔
ان اٹھتے ہوئے شعلوں کی روشنی میں اس کا چہرہ ایک لمحے کو واضح ہوا۔ لمبی گھنی داڑھی اور مونچھیں جن میں سفیدی نمایاں تھی اور آنکھیں جو ان شعلوں کی تپش سے چمک رہی تھیں۔
"امید
ہے تم اپنی جنت میں پہنچ چکے ہو گے، طلسم!"
ایک
طنزیہ ہنسی اس کے لبوں پر آئی اور وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ چند منٹوں میں وہ پورا ہجوم
وہاں سے ایسے غائب ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ پانچ منٹ بعد، فضا ہیلی کاپٹروں کے شور
اور سائرنوں کی آوازوں سے گونجنے لگی تھیں۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment