Aankh ka baal by Umaima Khan complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Umaima Khan is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Aankh ka baal by Umaima Khan complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Umaima Khan All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"یہ
کیا بدتمیزی ہے؟ تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے؟"
نوجوان
کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ اس نے میرے قریب آتے ہوئے سرگوشی کی، "بنو مت، مسکرا
مسکرا کر شکار پھنسا رہی ہو۔ اوپر سے انداز بھی دکھاتی ہو۔ کم آن، میرے ساتھ آؤ، معاملہ
طے کر لیتے ہیں۔"
زمانے کی بےحسی پر میرا دل پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ قبل اس کے کہ میری بےبسی آنسوؤں کی شکل اختیار کرتی اور میں میدان ہار دیتی،
نوجوان نے بےباکی اور بےشرمی کا اعلیٰ مظاہرہ کیا۔اور میرا ہاتھ پکڑ کر
بولا، "ٹیکسی!، ٹیکسی کر لیتے ہیں۔"
اس کے لہجے نے وہ کام نہیں کیا تھا جو اس کے اوباش جملے نے کر دیا۔ دوسرے لمحے وہ اپنا گال پکڑے، سرخ چہرہ لیے مجھے گھور رہا تھا۔
چٹاخ!
کی آواز تمام حاضرین نے سنی تھی، اور اب وہ تعجب سے مجھے اور نوجوان کو دیکھ رہے تھے۔
میں سر سے پیر تک لرز رہی تھی، پھر بھی میں نے اپنے منتشر حواس مجتمع کیے اور پاس سے گزرتی ٹیکسی کو روک کر اس میں بیٹھ گئی۔
"کسی
اور کو ٹائم دیا ہے تو پہلے بتا دیتی، گھٹیا!" نوجوان باآوازِ بلند چلایا، مگر
میں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔
"تم...
تم کون ہو؟"
"دردانہ۔"
"ارے
بابا! کب سے کھڑی ہو؟ بیٹھی کیوں نہیں؟" اُس نے مجھ پر گہری نظر ڈالتے ہوئے پان
کی پڑیا کھولی اور پان منہ میں رکھ لیا۔
"کیسٹ
ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔" میں تکلف سے سمٹ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
"کمال
کر دیا تم نے!" خیر علی بھائی نے قہقہہ لگا کر میز پر ہاتھ مارا۔ "اگر دوسرا
کیسٹ آن ہو جاتا تو تم پھر بھی کھڑی رہتیں؟"
"جی۔"
میں نے تھوک نگل کر کہا۔
"ارے
بابا! اپنے دفتر میں یہ نہیں چلتا۔ یہ خیر علی بھائی کا دفتر ہے، کسی بیوروکریٹ کا
دربار نہیں۔ یہاں سب برابر ہیں۔ بولو، کیسے آنا ہوا؟"
اُنکی
آواز میں نرمی اور پیار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ میرا خوف زائل ہو رہا تھا۔
"نوکری
تلاش کر رہی ہوں۔ مل جائے گی آپ کے ہاں؟"
"ہُوں..."
اُنہوں نے گہرا سانس لیا اور مجھے غور سے دیکھا۔ وہ کچھ سوچ رہے تھے۔
"کیا
کام آتا ہے؟"
"کچھ
نہیں۔" میں نے بےدھڑک جواب دیا۔
"ارے
بابا! کچھ نہ کرنے کے پیسے تو صرف سرکاری ملازمت میں ملتے ہیں۔"
"ہوسکتا
ہے، مگر میں نے یہ کہا ہے کہ مجھے کچھ نہیں آتا، یہ نہیں کہا کہ میں کچھ نہیں کروں
گی۔" میں نے اعتماد سے مسکرا کر کہا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Aankh ka baal by Umaima Khan Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment