Naseeb e Mohabbat by Amina Afzal Complete novel



Naseeb e Mohabbat by Amina Afzal complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Amina Afzal is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Naseeb e Mohabbat by Amina Afzal complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Amina Afzal All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"آپ یہاں اکیلی کیا کر رہی تھیں؟ اور آپ کی گاڑی کہاں ہے؟"

خانی نے ٹشو لیتے ہوئے منہ بنایا۔

"گاڑی سروس کے لیے بھیج دی تھی۔ سوچا تھا بعد میں دعا کو کال کر لوں گی، لیکن موبائل بارش میں خراب ہو گیا۔"

اس کے لہجے میں ایسی معصوم سی بے بسی تھی کہ ابوبکر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

اس نے فوراً اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کی، مگر خانی دیکھ چکی تھی۔

"دیکھا؟"

خانی فوراً بولی۔

"مجھے پہلے ہی پتا تھا تم میرا مذاق اڑاؤ گے۔"

ابوبکر نے حیرت سے اُسے دیکھا۔

"میں نے آپ کا مذاق کب اڑایا؟"

"تمہارے چہرے پر صاف لکھا ہوا تھا۔"

"میں تو صرف یہ سوچ رہا تھا کہ آپ ہمیشہ مصیبتوں کو خود دعوت کیوں دیتی ہیں۔"

خانی نے گھور کر اسے دیکھا۔

"بس! مجھے گھر چھوڑ دو۔ میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتی۔"

ابوبکر نے مزید کچھ نہیں کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔

کچھ دیر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔

مگر خانی خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھی۔

چند منٹ بعد وہ خود ہی بول پڑی۔

"تم کہاں جا رہے تھے؟ میرا مطلب... کہیں ضروری کام تو نہیں تھا؟"

ابوبکر نے نظریں سڑک پر جمائے رکھیں۔

"نہیں، کوئی خاص کام نہیں تھا۔ دراصل مجھے دوسرے راستے سے جانا تھا، مگر وہاں پانی زیادہ جمع تھا، اس لیے اِدھر آ گیا۔"

"ہممم..."

خانی نے کھڑکی سے باہر گرتی بارش کو دیکھتے ہوئے کہا۔

"اگر تم نہ آتے تو شاید میں ابھی تک وہیں کھڑی ہوتی۔"

"ہاں، اس راستے پر عام دنوں میں بھی کم گاڑیاں آتی ہیں، اور آج تو موسم بھی خراب ہے۔"

باتوں باتوں میں دونوں اِس قدر نارمل ہو چکے تھے کہ خود اُنہیں بھی احساس نہ ہوا۔

شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی بار وہ دونوں اکیلے تھے۔

ورنہ ہمیشہ اُن کے درمیان کوئی نہ کوئی موجود رہتا تھا۔

کچھ دیر بعد ابوبکر نے خاموشی توڑی۔

"اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک سوال پوچھوں؟"

خانی نے حیرت سے اُسے دیکھا۔

"اجازت؟ تم کب سے اجازت لینے لگے؟"

ابوبکر نے اس کی بات نظر انداز کر دی۔

"آپ مجھے اتنا ناپسند کیوں کرتی ہیں؟"

خانی ایک دم چونک گئی۔

اُسے شاید توقع نہیں تھی کہ ابوبکر اتنا سیدھا سوال کرے گا۔

چند لمحے وہ خاموش رہی، پھر نظریں چرا کر بولی،

"میں بھلا تمہیں کیوں ناپسند کروں گی؟"

"پھر آپ مجھے ہر وقت نظر انداز کیوں کرتی ہیں؟"

ابوبکر نے سکون سے پوچھا۔

خانی نے بے پروائی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

"کیونکہ تمہارے ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

ابوبکر نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا۔

پھر آہستہ سے بولا،

"حمیرا... نظر انداز بھی اُسے ہی کیا جاتا ہے جس کی موجودگی محسوس ہوتی ہو۔"

خانی ایک دم ساکت رہ گئی۔

اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ جواب میں کیا کہے۔

چند لمحے بعد وہ کھڑکی کی طرف رخ موڑ کر بیٹھ گئی۔

"تم آج بہت بول رہے ہو، ابوبکر۔"

اس بات پر ابوبکر نے کچھ نہیں کہا۔

باقی راستہ خاموشی میں گزرا۔

کچھ دیر بعد گاڑی مصطفٰی شاہد کے بنگلے کے سامنے آ کر رک گئی۔

خانی نے مختصر سا شکریہ ادا کیا، دروازہ کھولا اور جلدی سے باہر نکل گئی۔

مگر گھر کے اندر جاتے ہوئے بھی اُس کے ذہن میں ابوبکر کا آخری جملہ گونج رہا تھا۔

"نظر انداز بھی اُسے ہی کیا جاتا ہے جس کی موجودگی محسوس ہوتی ہو..."

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Naseeb e Mohabbat by Amina Afzal Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment