Siah Per afsana by Lina Rajpoot
Short Scens
"آپی۔۔۔پھر
کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا؟" حورہ نے قہقہ دباتے پوچھا۔
مہر
بنا جواب دیے اٹھ کر چلی گئی۔
ذاکر
نے اخبار کو تہ کیا۔
"فوزیہ۔۔۔اسے
کسی اچھے سائیکالوجسٹ کو دکھانا پڑے گا۔"
فوزیہ
بیگم نے بس سر ہلا دیا۔
☆☆☆☆☆
آج
پھر وہ رات کو کمرے میں آئی تو اسے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی ۔ اس نے نظر انداز کرتے
لحاف اوڑھا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔
شدید
گرمی میں لحاف اوڑھے رکھنا مشکل تھا مگر وہ جانتی تھی اس کے بغیر نیند نہیں آئے گی۔
لحاف اس کی ڈھال تھا ۔
اس
نے کروٹ لی مگر گرمی میں دَم گھٹنے لگا ۔
اسے
ایک عجیب سی بدبو محسوس ہوئی ۔ جیسے کوئی کچا سڑا ہوا گوشت چبا چبا کر کھا رہا ہو اور
ساتھ رونے کی ہلکی سی آوازیں گونجنے لگیں۔
لحاف
آہستہ سے ایک طرف کھسک گیا ۔۔۔
وہ
آنکھیں بند کیے لیٹی رہی۔
پسینہ ٹھنڈک میں بدلنے لگا ۔ جیسے کمرے کا درجہ حرارت اچانک گِر گیا ہو۔
پھر
سے نہیں۔۔۔ پلیز اللہ جی!
وہ
آیت الکرسی بھی نہیں پڑھ پا رہی تھی ۔ خوف سے لفظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔ اس عورت کو
دوبارہ دیکھنا اس کی برداشت سے باہر تھا ۔
ایک
سرد انگلی نے اس کے ماتھے کو چھوا اور کان میں ہلکی سی سرگوشی اتری
"ہم
اب ہمیشہ ساتھ ہیں"
کھڑکی
کُھلی اور بند ہوگئی۔
وہ جا چکی تھی۔ مگر جاتے جاتے مہر کو باور کروا گئی تھی کہ یہ اختتام نہیں
آغاز تھا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Siah Per afsana by Lina Rajpoot Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment