Mera Humsafar Jakarta Mein by Qandeel Fatima complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Qandeel Fatima is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Mera Humsafar Jakarta Mein by Qandeel Fatima complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Qandeel Fatima All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"پہلے
رشتے نہ ہوئے اور ہوا تو لڑکے نے عین نکاح پر انکار کر دیا۔۔ہائے بدنامی ہو گئی۔"عورتیں سرپکڑ
کر مایوسی پھیلانے کے شغل میں سرگرداں تھیں تو
سیرین نے ناک بسوڑی۔
"
ماڑی قسمت اور میری۔۔؟؟"اس کے دل نے جیسے سیدھا سا جواب دیا۔
"وہ
جکارتہ کا دلکش طوطا کہتا تھا۔۔میں دنیا کی
خوش قسمت لڑکی ہوں۔۔جو مجھے چھوڑے وہی بد نصیب۔۔"
آہ
۔۔!!پھر سے جکارتہ کا وہ شخص۔۔!! جو سیرین
کے سر پر کسی سحر کی مانند بری طرح سوار تھا۔
اماں
آئی تو اس سے خوب لپٹ کر روئیں ایسے جیسے سیرین کے لیے تو خدانخواستہ اب شادی
وفات پا چکی تھی جو اب کبھی زندہ نہ
ہوتی۔
"استغفراللہ۔۔"سیرین
نے جھرجھری لی۔
"کیسی
قسمت لے کر آئی ہے تو۔۔لڑکی تیری زندگی میں تو کوئی معجزہ بھی نہیں ہوتا کہ کوئی تجھے
اپنا ہمسفر بنا لے۔۔"سیرین نے اپنی ماں
کو آنکھوں میں رنج اور ملال لیے دیکھا۔ خاندان والے دہائیاں دیتے ہوئے
مایوسی کے عالم میں میرج ہال کو چھوڑ کر جانے
لگے۔ اسی دوران جب سیرین کو گھونگٹ اوڑھے میرج ہال کے بالکل وسط میں لایا گيا تو اچانک سیرین کی چھوٹی بہن ہا نپتی ہو ئی ان سب کے
سر پر نازل ہوگئی۔ایسا معلوم ہوا کہ وہ دوڑ کر آئی تھی۔ اس نے مین گیٹ کی جا نب اضطراب
کی کیفیت میں اشارہ کیا۔
"
وہ۔۔وہاں دیکھیں۔۔!! اماں وہ دیکھ لگتا ہے معجزہ ہو گيا۔۔وہ دیکھ تیری بدنصیب بیٹی
کو لینے کوئی شہزادہ آیا ہے اسے اپنا ہمسفر بنانے کے لیے۔۔" سب کی نظریں بیک وقت
ہی گیٹ کی طرف اٹھ گئیں اور اگلے ہی لمحے تقریبا
سب کے ہاتھ دلوں پر جا پڑ ے۔۔اور آنکھیں پھٹی
کی پھٹی رہ گئیں۔
وہ
شہزادہ ہی تھا جکارتہ کا۔۔جو سیرین رانا کو اپنا ہمسفر بنانے آیا تھا۔
دراز قد،پر اعتماد انداز،سیاہ شیروانی میں ملبوس،سرخ و سفید دمکتی رنگت ،چائینی طرز کے
نقوش۔۔ ہاتھوں میں پیلے گلاب کے پھولوں کا خوبصورت بکے تھا۔۔ اور چہرے
پر بڑی دلفریب مسکراہٹ لیے کھڑا وہ سیرین کو
دیکھ رہا تھا۔۔جو کہ گھونگٹ اوڑھے نظریں جھکائے سن سی کھڑی تھی۔۔جامد بے حس و حرکت۔
"
کیا وہ واقعی آگیا تھا۔۔؟؟" سیرین کا
دل جیسے حلق میں آیا۔
یکایک
ہال میں مانوس پرفیوم کی خوشبو جو جاگی تو اسے
چکر سے آنے لگے۔۔
وہ
مخصوص خوشبو ۔۔جو کبھی جکارتہ کی گلیوں،یونیورسٹی کے راستے،کیفے کے ماحول اور چند خوبصورت یادوں کا حصہ بن چکی تھی
،وہ یہاں پاکستا ن کی سر زمین پر۔۔اوو گاڈ۔۔
اووو۔۔۔اس کا دل ڈول گيا۔
اسے لگا اس کے پیروں تلے سے کسی نے زمین کھینچ لی تھی،دماغ اس بات کی نفی
کرنا چاہتا تھا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Mera Humsafar Jakarta Mein by Qandeel Fatima
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment