Woh awaz jo suni na gayi afsana by Shehr Bano
Short Scens
"کیا
ہو گیا دماغ ٹھکانے پر تو ہی ہے نہ"مکس بولی
"تمھارا
اپنے بارے میں کیا خیال ہے مکس" یہ کہتے اس نے اس کا موبائل لگ بھگ چھینا تھا
اور سکرین پر چلتے میسج دیکھ کر اسے آگ لگی تھی۔
"یہ
کیا کرتی پھر رہی ہو وضاحت دے سکتی ہو" موبائل کی سکرین دکھاتے وہ دھاڑی تھی۔
"تمھیں
کوئی مسئلہ ہے مجھ سے خاص, لگتی کیا ہو تم میری جو میں تمھیں وضاحتیں دیتی پھرو، اور
ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں میرے کمرے میں گھس کر مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی، کوئی جواب
ہے تمھارے پاس" وہ بھی برابر دھاڑی تھی۔
"مکس
میں سوفیا، تمھاری سوفی۔۔۔ ہم بچپن کی سہیلیاں۔۔۔ ہم ہر سکھ دکھ کی ساتھی۔۔۔ کیا تم
بھول گئی ہو اس ایک مہینے میں"
Click the link below to download this novel in pdf.
Woh awaz jo suni na gayi afsana by Shehr Bano
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment