Rahgeer by Faiqa Azam complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Faiqa Azam is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Rahgeer by Faiqa Azam complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Faiqa Azam All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
امی
کون ہے؟ وہ سوال دھراتا اسی طرف اتا دیکھائی
دیا ۔اونچی لمبی قدو قدامت سفید رنگت میں ماتھے سے اگے ڈھلکتے بال (جو عموما مرد نہیں
رکھتے )میں وہ خاصہ مہذب معلوم ہوتا تھا ۔گلابی ہونٹ اور اوسط درجے کی شیو چہرہ پر
قابل تعریف تھی ۔جتنی تیزی سے نظریں یشل پر پڑیں ۔اس سے دگنی تیزی سے واپس پلٹی تھیں
۔
یہ
عمل دانستہ تھا ،جس سے نظروں سے پاکیزگی اور حیا واضح ہوئی تھی۔
وہ لگ بھگ تیس سالہ نوجوان تھا۔
وہی
تو میں پوچھ رہی ہوں کہ یہ کون ہے۔؟ مگر جواب نادر۔ خاتون کا لہجہ
نا
چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوا تھا ۔تھکی ہاری بوجھل نگاہیں ایک سکوت سے بند ہوتیں پھر کھلتیں
پھر بند ہوتیں۔پھر کھلتیں ۔یہ عمل مسلسل جاری تھا۔جو کوشش کے باوجود نوجوان کی نظروں
سے اوجھل نہ رہ سکا ۔وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش میں کچھ کہنے کا پریاز کرتا مگر اس
کی نظر تب ٹھٹکی جب یشل نے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیے ۔
وہ
چاہ کر بھی خود کو روک نہ سکا ،اور تیزی سے اس کی طرف بڑھا ۔
اسی
لمحے وہ دم توڑتی زمین بوس ہونے کو تھی جب اسے نوجوان کی باہوں نے سہارا دیا اور وہ
بے ہوش ہو گئی۔
ٹھنڈے
جسم کو سردی نے جکڑ لیا تھا جیسے ۔ہونٹ پر نیلاہٹ کے آثار نمایاں نظر آئے ۔بالوں کی
لٹیں موٹی لڑیوں کی صورت میں الگ الگ ہوکر بوندیں ٹپکانے لگیں ۔اوپرلی جیکٹ بھی زمین
بوس ہوچکی تھی ۔
یا اللہ خیر بے اختیار خاتون کے منہ سے نکلا تو وہ بھی سنجیدہ نظر آیا
۔
اس
نے زبانی کلامی ماں کو پاس اکر اسے سنبھالنے کا اشارہ کیا تو خاتون نے اسے فورا سنبھالنے
کے لیے اسے اپنے پاس لیا ۔اسکے ماتھے کو چھوا تو سردگرم سا تھا ۔وہ خاتون اسے قریبی
صوفے پر لے گئی۔
نوجوان
نے کسی گہری سوچ کے ماتحت دروازے سے نکل کر یشعل سے منسلک کوئی چیز تلاش کرنی چاہی
،جو اس کا عطا پتہ بتا سکے ،مگر اسے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا اخر میں وہ جانے کو تھا
جب زمین پر ایک سنہرے رنگ کی بالی گری پڑی تھی ۔لگ بھگ انگھوٹی کے سائز کی تھی۔وہ اردگرد
نظر دوڑا کر پھر اسے اٹھانے کے لیے جھکا تو نظروں میں یشعل کے گرنے کا عکس ابھرا جس
میں بال کانوں سے ہٹے تو ایک بالی نظر آئی تھی اسے ۔یہ یقینا دوسری تھی ۔اس نے بالی
کو دونوں ہاتھوں کے وسط میں رکھ کر مسلا اور صاف کیا ۔
پھر
پریشانی کے عالم میں دروازہ بند کر کے کنڈی لگاتا اپنی سابقہ جگہ پر چل دیا ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Rahgeer by Faiqa Azam Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment