Saye qatil by Bisma Iqbal Complete novel


Saye qatil by Bisma Iqbal complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Bisma Iqbal is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Saye qatil by Bisma Iqbal complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Bisma Iqbal All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"تم کونسل کو کیسے جانتی ہو؟" ۔۔۔

"سوال یہ نہیں ہے کہ میں  کونسل کو کیسے جاتنی ہوں سوال یہ ہے کہ تم نائیٹ مئیر رپیر ہو؟" ۔۔۔

"ہاں میں ہی نائیٹ مئیر رپیر ہوں" ۔۔۔ اعتراف ہوا ہی تھا کہ فضا میں گولیوں کی آتش بازیاں ہونے لگی ۔۔۔

"کونسل کو معلوم ہوگیا ہے کہ اُس کے علاقے میں کوئی غیر شخص گھس آیا ہے" ۔۔۔  آروان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی ۔۔ . 

"نہیں رپیر ، کونسل کو علم نہیں ہوا ، لیکن اب دنیا کو علم ہوگا کہ تم ہی نائیٹ مئیر رپیر ہو جس نے اپنی دماغی بیماری کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر اُن لوگوں کو دھوکہ دیا فریب میں رکھا

جنہوں نے تمہارے سر پر چھت رکھی تمہیں ایک گھر دیا رشتے دیے پیار دیا تم نے اُنہی رشتوں کے ساتھ بغاوت کردی؟ تم ۔۔ تم نے غداری کی ہے آروان" ۔۔۔

"میں غدار نہیں ہوں" وہ پھر سے چیخا ۔۔۔

"میں نائیٹ مئیر رپیر ہوں ، میری عدالت میں انصاف کا مطلب موت ہوتا ہے" ۔۔۔  وہ چند قدم آگے آئی ۔۔۔

"نویرا دور رہو ورنہ"۔۔۔۔

"کیا ورنہ ہاں کیا ورنہ؟" وہ زخمی شیرنی کی طرح چلائی

"لگتے کیا ہو تم میرے؟ کچھ بھی تو نہیں تم پر رحم کیوں کروں میں؟" ۔۔۔  وہ اپنی جیب میں سے موبائل نکال چکی تھی

"نویرا میں ہی تمہارا بھائی ہوں" آگ کے شعلوں میں لپٹی ایک گولی آرون کے بازوں میں لگی ۔۔۔

  وہ اس حملے کے لیۓتیار نہیں تھا چند قدم لڑکھڑا کر پیچھے ہوا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں بے تحاشہ بے یقینی پھیل گئی نویرا کے چہرے کے تاثرات زرا بھی نہیں بگڑے جیسے وہ سب پہلے سے جانتی ہو ۔۔۔ 

"بھائی" آواز حلق میں دب گئی ۔۔

"تمہیں کونسل کا کیسے معلوم ہوا؟" ۔۔ وہ دوسرے ہاتھ سے بازو سختی سے پکڑے تیز آواز میں بولا ۔۔

"مجھے سب پتا ہے بھائی سب کچھ جانتی ہوں میں اُس کونسل نے آپ کو اسی عمارت کے نیچے  آنے کا کہا آپ کو کال کی آپ کے گھر پر پیغام پہنچایا سب معلوم ہے مجھے" ۔۔۔

"نہیں تم جھوٹ بول رہی ہو کونسل کو صرف ہماری دنیا میں جانا جاتا ہے اُسے کوئی عام انسان نہیں جان سکتا ۔۔ کونسل کوئی نشان نہیں چھوڑتی" ۔۔۔

"اگر وہ کونسل ہے تو میں بھی سائبر کرائم آفسر ہوں اور ہم سے کچھ نہیں چھپتا بھائی" ۔۔۔ 

" میں یہ مان نہیں سکتا تم جھوٹ کہہ رہی ہو کونسل کو کوئی نہیں جانتا ، میں نے بھی آج تک اُسکا چہرہ نہیں دیکھا بلکہ کونسل کو کسی نے نہیں دیکھا" ۔۔۔

"مگر کونسل تو خود کو جانتی ہے ناں؟" اُس نے اس انداز میں کہا کہ چہرے کے تمام رنگ بدل گئے آنکھوں میں الگ سا قہر چمکنے لگا ۔۔

"کونسل کا چہرہ نہیں دیکھا تو اب دیکھ لو" وہ ہاتھ نیچے کیۓ چہرے پر سختی جماۓ جبڑے بیچے کہہ رہی تھی ۔۔۔

" تم؟" ۔۔۔ آروان کی آواز پھیکی پڑ گئی ۔۔

"ہاں میں" ۔۔۔ وہ آگے بڑھی ایک اور گولی آروان کے بازوں پر لگی پستول نویرا کے ہاتھ میں نہیں تھی حملے کہیں اور سے ہورہے تھے کونسل ہمیشہ پوری تیاری کے ساتھ آتی تھی ۔۔۔

"ہمارے باپ کا قتل ہوا ، تم سے اب تک اس کے قاتل نہیں مر رہے" ۔۔۔ وہ زور سے چیخی آروان کا قہقہ بلند ہوا ۔۔

"تم تو دائن نکلی یار" وہ اب بھی ہنس رہا تھا ۔۔ اُس کے دونوں بازوں سے خون بہہ رہا تھا ۔۔۔

"قاتلوں کو مار چکا ہوں ایک ایک کو چُن چُن کر مارا ہے میں نے" اُس کی سانس پھول رہی تھی ۔۔

"گولی مار کر اچھا نہیں کیا تم نے" ۔۔۔ اُس نے تھکی نظروں سے اُسے گھورا ۔۔۔

"تو کیا سر پر بٹھاؤں تمہیں؟" وہ پوری قوت سے دھاڑی آروان نے ایک پھولی سانس لی ۔۔۔

"تمہیں کیا لگا تھا کونسل ہاں؟" ۔۔ نویرا کو کسی گڑبڑی کا احساس ہوا ۔۔۔

"کہ صرف تم ہی شاطر ہو؟" وہ لب کاٹے بولا ۔۔۔

"تم سے بارے بارے شاطر جال بیچھاۓ بیٹھے ہیں" وہ کھڑا ہوا اور اب اپنی شرٹ پر لگی گرد جھاڑنے لگا ۔۔۔

"نائٹ مئیر رپیر اکیلا نہیں آتا اپنے ساتھ موت لاتا ہے" ۔۔ وہ گردن اکڑے کھڑا قدم آگے کرنے لگا ۔۔ 

"تم مجھے مارو گے؟" اُس کا انداز دو ٹوک تھا ۔۔۔

"نہیں تمہیں صرف مارونگا نہیں بلکہ ۔۔۔ تڑپا تڑپا کر مارونگا ، کہا تھا ناں میری فیملی تک نہیں آنا کونسل ! تم بعض نہیں آئی تم نے خود اپنا زوال میرے ہاتھوں لکھوایا اب اپنی موت اپنی آنکھوں سے دیکھو گی" ۔۔۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Saye qatil by Bisma Iqbal Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment