Navak-e-neem kash by Noor Ul Ain Mustafa Complete novel


Navak-e-neem kash by Noor Ul Ain Mustafa complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Noor Ul Ain Mustafa is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Navak-e-neem kash by Noor Ul Ain Mustafa complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Noor Ul Ain Mustafa All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

” نازو! میری بات تو سن لے۔۔۔“ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی جسے نازو نے ناکام بنایا تھا۔

” تو میری بات سن نوازے! وہ دو قدم نزدیک آئی۔ نوازے کی آنکھیں زمین پر گڑھ گئیں۔

” میرا کوئی باپ بھائی نہیں ہے جو میرا جہیز بنائے۔ مائی اور مجھ سے جتنا ہو رہا ہے، ہم کر رہے ہیں۔ پھر بھی تیری ماں کو تیرا سسرال مالدار چاہیے تو۔۔۔“ اس کی زبان فوراً وہ الفاظ ادا نہیں کر سکی۔ وہ رک گئی۔ ساتھ ہی اس کی آنکھوں کا تاثر بھی لحظے بھر کے لیے تبدیل ہوا تھا۔ اسے ان الفاظ کی ادائیگی میں مشکل پیش آرہی تھی۔

مگر اگلے ہی پل وہ سخت بن گئی۔ اس کے سامنے کھڑا نواز ابھی سر جھکائے اس کے بولنے کا شدید منتظر تھا۔ نازو کچھ دیر اس کے جھکے سر کو دیکھتی رہی اور پھر جب بولی تو اس کی آواز مدھم تھی۔

” مجھے اپنی محبت سے آزاد کر دے۔ “ نواز نے اس قدر تیزی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا کہ وہ اس سے اپنی نظریں چرا گئی۔ نواز اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ شائد مذاق کا کوئی شائبہ تلاش کر رہا تھا۔ مگر ناکام رہا ۔ نازو اس وقت مکمل سنجیدہ تھی۔ چند پلوں کے لیے وہاں خاموشی کا بسیرا رہا اور پھر نواز کی لرزتی آواز پھیلی۔

” تو۔۔تو۔۔۔“ اس سے فرط جذبات کے باعث بولا نہیں جا رہا تھا۔ الفاظ حلق سے گھٹے گھٹے سے نکلے۔ سامنے کھڑی نازو زمین کو تکنے لگی تھی۔ دھوپ اب ناقابلِ برداشت ہو رہی تھی۔

” تو مجھے۔۔چھوڑ رہی ہے؟ “ بلآخر وہ جملہ مکمل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سوال کو سنتے ہی نازو کے گندمی چہرے پر تلخی امنڈ آئی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر نوازے کو دیکھا۔

” نوازے! تیری ماں کو بہو کے روپ میں ایک مالدار نواب زادی چاہیے۔ اور میں کچے مکان میں رہنے والی ایک غریب اور عام لڑکی ہوں۔ “ اس کے الفاظ تھے کہ چابک جو نوازے کی پیٹھ پر چھید کرتے جا رہے تھے۔ اس کے دل پر ایک گرہ پڑی۔ آنکھوں میں چابک پڑنے کی تکلیف و تڑپ امنڈی۔

” مجھے صرف تو چاہیے۔ “ مدھم سے فقرے پر نازو کے سپاٹ چہرے پر زلزلے کے آثار نظر آنے لگے۔ کچھ پلوں کے لیے وہی تاثر چھایا رہا اور پھر وہ سنبھلی۔

” اگر تجھے نازو چاہیے تو جا اپنی ماں کو منا کر میرے گھر لا۔ تیرے پاس کل تک کا وقت ہے۔ میں کل یہیں تیرا انتظار کروں گی۔ اگر تو نے اپنی ماں کو منا لیا تو ٹھیک ورنہ میں اپنی مائی کو ہاں کہہ دوں گی۔۔۔۔“ اس کے حلق میں کانٹے اگنے لگے۔

” کہ وہ جہاں چاہے میرا ویاہ کروا دے۔ “ یہ کہنے کے بعد وہ رکی نہیں تھی۔ اس کے قدم تیزی سے اپنے گھر کی جانب بڑھ رہے تھے کہ انہیں زنجیریں ڈال دی گئیں۔ وہ اپنے قدم آگے نہیں بڑھا سکی۔ اس کا مکمل وجود تھم گیا تھا۔ 

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Navak-e-neem kash by Noor Ul Ain Mustafa

Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment