Shehmaat by Fareeha Mirza complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Fareeha Mirza is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Shehmaat by Fareeha Mirza complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Fareeha Mirza All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
”تو تم
ابوہریرہ سے شادی کرنا چاہتی ہو؟“عالم بخت نے دلچسپی سے پوچھا۔
”ڈیفینیٹلی…. “ہادیہ نے
کہا۔ ”اس نے مجھے پروپوز کیا تھا۔“چمک کر جتایا بھی۔
”نہیں بابا….“ابوہریرہ نے خجالت سے انہیں دیکھا۔ ”یہ جھوٹ بول رہیں ہیں۔ میں نے
تو….“وہ بیچارہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تھا۔
”تم نے مجھے
پروپوز کیا تھا۔ تم نے کہا تھا ہم دونوں بڑے ہو کر شادی کریں گے اور ایک گھر بناکر
رہیں گے اور اس میں ہمارے…..“
”ہادیہ!“ابوہریرہ
نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اسے ٹوکا پھر پلٹ کر ان تینوں کو دیکھا جن کے چہروں پر
محظوظ ہونے والی مسکراہٹ تھی۔
”میں آپ سے
شادی نہیں کروں گا اور میں اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔ اس گھر سے میری کوئی اچھی
یادیں وابستہ نہیں ہیں۔آئم سوری۔“اس نے یکدم تیز لہجے میں کہا تھا اور لمبے لمبے
ڈگ بھرتا باہر چلا گیا تھا۔
”بابا…. “حدید نے
کمرے میں چھائی آکورڈ سی خاموشی توڑی تھی۔
”بھائی ٹھیک
کہہ رہے ہیں۔ اس گھر میں ہماری کوئی اچھی یادیں نہیں ہیں۔ ہم دوبارہ یہاں نہیں رہ
سکتے۔“اس کے انداز میں سنجیدگی تھی۔
”تم ماضی کو
تھام رہے ہو حدید۔ اسے چھوڑ دو۔“صوفیہ نے کہا۔
”تم اس جگہ
پر اچھی یادیں بھی بنا سکتے ہو۔ “حدید نے چونک کر صوفیہ کو دیکھا پھر اس کے چہرے
پر مسکراہٹ آئی تھی۔ وہ مثبت انداز میں بات کر رہی تھی۔
”تمہیں کیا
لگتا ہے کہ اس جگہ سے صرف تمہاری ہی بری یادیں ہیں؟ میرے گھر میں….میں نے اپنے باپ کو خون میں لت پت، بےجان پڑے دیکھا تھا۔
میں وہ منظر نہیں بھول سکتی مگر میں اس حادثےکی وجہ سے اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی۔ it's worth millions “ اس کی آخری بات پر عالم بخت کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم
ہوئی تھی۔
”اتنے سالوں
سے دربدر پھرنے کے بعد میں اپنے گھر کی اہمیت کا اندازہ لگا چکی ہوں۔“اس نے کہا۔
”میں وہیں رہوں گی۔“
”مگر بھائی
اور ممی مجھے نہیں لگتا یہاں واپس آنے کے لیے راضی ہوں گے۔“حدید نے لب کاٹتے ہوئے
کہا۔
”ڈونٹ وری
گرینڈ پا۔“ہادیہ نے کہا۔ ”وہ واپس یہیں آئے گا۔“اس کا انداز پر اعتماد تھا۔
”اور دانین آنٹی بھی آ جائیں گی۔ تھوڑا وقت لگے گا مگر سب ٹھیک ہو جائے گا۔“اس نے
نرمی سے کہا تھا اور عالم بخت نے سر ہلایا تھا۔
**
”وہ تمہیں
رجیکٹ کر گیا ہے۔“گاڑی میں بیٹھنے ہوئے صوفیہ نے کہا۔
”نہیں وہ بس
شرما گیا تھا سب کے سامنے۔“کار سٹارٹ کرتے ہوئے ہادیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔
”وہ صاف
لفظوں میں تم سے شادی کے لیے انکار کر گیا ہے۔ تمہیں اپنی بے عزتی فیل نہیں ہو
رہی؟“صوفیہ نے کچھ جھلاکر پوچھا۔
”نہیں ہو رہی۔“ہادیہ
نے ڈھٹائی سے کہا۔
”تو اب تم
کیا کرو گی؟“
”دوبارہ
پروپوز کروں گی۔“صوفیہ نے ملامتی نظروں سے اسے دیکھا۔
”وہ تمہیں
پھر رجیکٹ کر دے گا۔“
“Don't
worry. I'll try harder.”
صوفیہ نے تاسف سے اسے دیکھا
تھا۔
”میں نے اس
کا بہت انتظار کیا ہے صوفیہ۔ بہت زیادہ۔ میں نے اسے اپنی زندگی کے ہر اچھے اور برے
موقع پر سوچا ہے۔ وہ میرا پہلا دوست تھا اور میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد
بھی۔ اس کے لیے میرے دل میں جو جگہ ہے اس کا تم اندازہ نہیں کر سکتیں۔“وہ اب بہت
دھیمی آواز میں کہہ رہی تھی۔ اس کی نظریں سڑک پر مرکوز تھیں مگر صوفیہ کو لگا وہ
کہیں خلاؤں میں کچھ کھوج رہی تھی۔
”یعنی تم
ارادہ کر چکی ہو اس سے ہاں کہلوانے کا۔“صوفیہ نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔
”ہاں….اصولاً اسے مجھے پروپوز کرنا چاہیے لیکن کوئی بات نہیں۔
اسے شرم آتی ہو گی اور مجھے…. “
”نہیں
آتی۔“صوفیہ نے اس کا جملہ مکمل کیا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Shehmaat by Fareeha Mirza Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment