Zabt afsana by Neha Ali
Short Scens
"آپی!
آخر کب تک خود کو اس تکلیف میں مبتلا رکھیں گی؟"
ہادیہ
نے آہستہ سے کروٹ بدلتے ہوئے اپنی بڑی بہن امن کی طرف دیکھا۔ کمرے میں نیم تاریکی پھیلی
ہوئی تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے چھن کر آتی چاندنی فرش پر دھندلے نقوش بنا رہی تھی۔
"عاشر
بھائی کا غم آخر کب تک مناتی رہیں گی؟ وہ کوئی محبت بھرا خواب نہیں تھا، آپ کی زندگی
کا ایک بھیانک خواب تھا، جو گزر چکا ہے۔"
"آپ
کو یاد ہے نا، بابا سب رشتہ داروں سے فخر سے کہا کرتے تھے، میری بیٹیاں ہی میری کل
کائنات ہیں۔ آپ اُن کا غرور تھیں آپی! اُن کی آنکھوں کی چمک تھیں۔کمرے میں چند لمحوں
کی خاموشی چھا گئی۔
صرف
ایک شخص کے چلے جانے سے زندگی ختم تو نہیں ہو جاتی۔ آپ بابا کے لیے، امی کے لیے، اور
اپنے لیے دوبارہ جینا شروع کریں۔امن نے آنسو پونچھتے ہوئے رخ موڑ لیا۔
"ہادیہ...
میرا نکاح ٹوٹا ہے۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Zabt afsana by Neha Ali Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment