Tum tu ik Aurat ho Na afsana by Samiya Rani
Short Scens
"
قصہ گو بتاتا ہے اک حقیقت جو اس نے پائی دنیا کے ہر کونے میں
جو
ہے برابر دنیا کے ہر کونے میں ، زمین سے آسمان تک ،
سورج سے چاند تک ، زندگی سے موت تک
جو
ہے فقط عورت سے عورت تک
بوڑھا
با عزت شخص ہاتھ میں قلم اور کاغذ تھا مے بیٹھا تھا
نگاہیں
کاغذ پر مرکوز کئے ، عدالت کے ہر فیصلے کو قلم کی نوک پر رکھے
اس
منصف کے پاس کوئی آکر رکا ، اس نے نگاه اٹھائے بغیر مسکرا کر الفاظ ادا کئے
قتل
کرو ہو ، یا پھر ڈھاکا ڈالے ہو
عزت
پر پیر رکھے ہو ، یا پھر گردن پر
لاش
کو سڑنے کے لئے چھوڑے ہو
یا
پھر لاش کو کاٹ کر کھا آئے ہو
عورت
کو اوقات میں رکھے ہو
یا
پھر اسے برباد کرے ہو
تم
جو بھی کرچکے ہو
یا
پھر کرنا چاہے ہو
میں
تم کو بتاتا چلوں اک راز
ہے
تم کو معافی ہر چیز کی
تم
سراٹھا کر چلوں گے زمین کے ہر کونے پر
تو
بتاؤ محترم کیا کر کہ آئے ہو؟
سامنے
والے کی آواز نے منصف کی مسکراہٹ فنا کردی
یہ
کہہ کہ اس نے اپنے لئے معافی چاہی
اگر
ملے جائے معافی اس کے عورت ہونے کی تو
منصف
نے سراٹھا کر قہر بار انداز میں اسے دیکھا
مل
جاتا تمہیں سب کچھ ، معافی بھی ، حق بھی
عزت
بھی ، مقام بھی لیکن تم تو اک " عورت" ہوناں!"
Click the link below to download this novel in pdf.
Tum tu ik Aurat ho Na afsana by Samiya Rani
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment