(Current Episode 1)
Man no by Noor us Sahar complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Noor us Sahar is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Man no by Noor us Sahar complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"اب
بس بھی کرو۔ اب کیا مجھے سب کے سامنے بچوں کی طرح رلاؤ گے؟" اِس نے اب کی بار
بمشکل اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا تھا اور اِسے یوں دیکھ کر وہ پگھلنے لگا تھا۔
"نہیں
یار!" اِس نے فوراً مکرتے ہوئے اور گردن دائیں بائیں ہلاتے ہوئے کہا تھا، اور
پھر ہنسی ضبط کرتے ہوئے ہمدردی جتاتے ہوئے کہنے لگا، "ویسے حد ہے۔۔۔آئی مین تم
۔۔۔ تم" اِس کے چہرے پر شرارت مچلنے لگی۔
اُس
کی نظریں بھٹک کر اِس کے پاؤں کی طرف گئیں جنہیں وہ اپنی لمبی فراک کے گھیر میں چھپانے
کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ گھبرا کر اپنے پاؤں کو لباس کی تہوں میں چھپا رہی تھی لیکن
اِس کی نظروں سے کچھ اوجھل نہ رہ سکا۔ وہ طنز و مزاح سے بھرپور لہجے میں بولا،
"تم
واقعی اپنی بیسٹ فرینڈ کی شادی میں یہ چپل پہن کے آ گئیں؟" یہ کہتے ہی وہ ایک
بار پھر اپنے منہ پر ہاتھ رکھتا ہوا قہقہہ لگا گیا۔ اِس کا کھلکھلا کر ہنسنا فضا میں
گونجا تو آس پاس کے لوگ بھی مسکرا دیے۔
جبکہ
وہ دانت پیستے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہنے لگی،
"مسٹر شجاع اورنگزیب! آپ کو کتنی دفعہ بتایا
ہے میں نے کہ جلدی میں ہو گئی غلطی مجھ سے۔۔۔ اب کیا سولی چڑھ جاؤں؟" اِس کے نتھنے
غصے سے پھول رہے تھے اور وہ اپنی نظریں چاروں طرف دوڑا رہی تھی کہ کہیں کسی اور نے
یہ ماجرا نہ دیکھ لیا ہو۔ آخر میں آنکھیں گھماتی ہوئی بولی،
"اور
ویسے بھی اور کسی کی تو شاید نظر بھی نہ پڑی ہو۔ جوتوں کو آخر دیکھتا کون ہے؟۔۔۔ لیکن
آپ جناب کو تو بس ہر وقت کسی نہ کسی بات پر مجھے ذلیل کرنے کا موقع چاہیے ہوتا ہے نا!"
اب کی بار اِس نے ذرا دانت پیستے ہوئے غصے میں کہا تو شجاع بوکھلا گیا۔ اِس نے ہڑبڑا
کر اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا لیے۔
"اچھا
بابا! اب نہیں کہتا۔۔۔ خوش!" اِس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز
میں کہا، جبکہ اِس کے دماغ میں شرارت کا اگلا حربہ تیار تھا۔
"بیٹا!
لگتا ہے آج کل آپ واقعی بہت مصروف ہو گئی ہیں،" اِس کے قریب جھکتے ہوئے شجاع نے
عادت سے مجبور ہو کر نگین کی نقل اتارتے ہوئے، بھاری آواز میں کہا تو میرب اِسے غصے
سے گھورتی رہ گئی۔ وہ اِسے اِس کی ماں کی بات یاد دلا رہا تھا۔ اُس کے چہرے پر مصنوعی
خفگی کے تاثرات ابھرے تھے، مگر اگلے ہی پل وہ اِس کی اِس بے عیب اداکاری پر ہنسنے لگی
تھی۔
اِس کی کھلکھلاہٹ نے ماحول کے اِس ہلکے پھلکے تناؤ
کو دور کر دیا اور دونوں ایک بار پھر اِس مسحور کن شام کے رنگوں میں کھو گئے تھے۔
ان
دونوں کی یہ بے فکری اور ہنسی مذاق ابھی جاری ہی تھا کہ اچانک ایک سنجیدہ آواز نے ان
کے قہقہوں کا سلسلہ توڑ دیا۔ آمنہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی ان کے قریب آئی اور ہاتھ کے
ہلکے سے جھٹکے سے متوجہ کرتے ہوئے دبی دبی آواز میں بولی،
"یار!
کیا کر رہے ہو تم دونوں؟۔۔۔ امائرہ کافی غصے میں ہے، کب سے وہ تم دونوں کو بلا رہی
ہے۔" آمنہ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے امائرہ کی طرف اشارہ کیا، جو سٹیج سے انہیں
گھورتی، اپنی نظروں کے تیر برساتے ہوئے ہاتھ کے غصیلے اشارے سے بلا رہی تھی۔ اِس کے
چہرے پر خفگی واضح تھی۔
شجاع
نے فوراً گردن گھما کر سٹیج کی طرف دیکھا اور میرب کی آستین پکڑ کر اِس کو بھی سٹیج
کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا۔ میرب نے پہلے شجاع کو غصے سے دیکھا اور پھر سٹیج کی طرف،
اور اِس طرف دیکھتے ہی اِسے امائرہ کی آگ برساتی آنکھیں دکھائی دیں۔
پھر
کیا تھا، اِس نے اپنی لمبی فراک کو ایک ہاتھ سے سنبھالا اور گھبراتی ہوئی، چہرے پر
ملامتی تاثرات سجائے آگے قدم بڑھا دیے۔
"چلو!
چلو! اِس سے پہلے محترمہ اپنی منگنی والے دن اپنے دوستوں کا قتل کر دیں،" میرب
نے شجاع کو بھی خبردار کیا تھا اور پھر دونوں ہی سٹیج کی طرف بڑھ گئے تھے۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment