Shehr-e-Goristan by Maryam Awan complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Maryam Awan is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Shehr-e-Goristan by Maryam Awan complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Maryam Awan All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
بھیا آپ نے اپنی اس
فنٹر کو اسکول کب بھیجنا ہے ؟ ۔۔ آغا فارذ کی گود میں چڑھی روحی کو دنیا جہاں کی
باتیں کرتا دیکھ سامنے بیٹھے فواد نے دلچسپی سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
جانتا تھا ابھی میڈم کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجانا تھا ۔
فادی """ کہاں سے یہ میرا معصوم بچا فنٹر لگتا
ہے تمہیں ؟ ۔۔ فواد کے سوال پہ روحی کو کڑے تیور لیے اُس کی طرف ہوتا دیکھ آغا
فارذ نے فورا بیچ میں بولنا مناسب سمجھا کہ کہی وہ پٹھاکہ جل نہ اُٹھے ۔۔
بھیا یہ آپ کو کہاں سے معصو لگتی ہے ؟ معصوم تو یہ ہے میری نھنی
سی گڑیا ۔۔ آغا فارذ کے کہنے پہ فواد نے اُلٹا اُن سے سوال کرتے ساتھ بیٹھی حور کی
گود میں موجود شہوار کی طرف اشارہ کرتے
بتایا تو نھنی پیشانی پہ بل پڑا ۔۔
میرا بیٹا چاروں طرف سے معصوم ہے "" ۔۔ فواد کو
گھورتی روحی کے گالوں کو چومتے باپ نے محبت سے کہا تو آغا ماموں مسکرا گئے ۔۔
اولاد چاہے بوڑھی بھی کیوں نہ ہوجائے ماں باپ کے لیے ہمیشہ ہی
بچی رہتی ہے جیسے ہمارے لیے تم دونوں ۔ بھلے اب تم لوگ خود باپ بن گیے ہو مگر میرے
لیے آج بھی تم دونوں بچے ہی ہو ۔۔ آغا ماموں نے بھی بات میں حصہ لیا ۔۔
آدا دانی جے تاچو تو بالے ( سمجھا لے ) جے ہل بال لوحی تو داندا
بولتے لیتے ہے ۔۔ شاید اُسے فواد کا بولنا برا لگ تھا تبھی ناک نکوستے وہ باپ کے
اگے یوں بولی جیسے اگر وہ نہ مانا تو وہ ڈون کی بچی کچھ کردی گئی ۔۔
گندے کو گندا ہی بولتے ہے " ۔۔ مسکراہٹ ضبط کیے فواد نے مزید اُسے چھیڑا ۔ پورے گھر میں ایک وہ واحد
ہی تھا مرحا فارذ کا دشمن ۔۔
آدا دانی دیتھ لو نہ تاچو تو "" ۔۔ اُسے پھر بولتا
دیکھ وہ نظریں اٹھائے غصے سے چیخی ۔ انداز چڑچڑا تھا ۔
فادی نہ کرو تنگ میری بچی کو ۔۔ دادی بھی پوتی کی معصومیت کو
دیکھتی پیار سے بولی تو میڈم کی آئیبرو اونچی ہوئی ۔ گھر کا ہر فرد اُس کی سپورٹ
میں تھا ۔۔
فادی میں دیکھ رہا ہوں تمہیں تم کچھ زیادہ ہی نہیں میرے بیٹے کو
تنگ کرنے لگے ؟ ۔۔ مسکراہٹ ضبط کئے آغا فارذ زبردستی لہجے میں غصہ لیے بولے آخر کو
بیٹی کا مان بھی تو برقرار رکھنا تھا ۔۔
بھیا آپ کا بیٹا جب ہر وقت میری بیٹی کے پیچھے پڑھا رہتے ہے وہ
" وہ تو بیچاری کچھ کہہ نہیں سکتی تو
اب اس کے بابا ہی اس کی سپورٹ میں بولے گے کہ نہیں آپ بھی تو اس میسنی کے پیچھے
ڈانٹتے ہے نہ مجھے ۔۔ فواد بھی کمر پہ ہاتھ رکھے فل لڑاکا موڈ لیے بولا ۔ ناشتے کا
میز ہو اور ان چاچا بھتیجی کی لڑائی نہ ہو یہ تو ناممکن سی بات تھی ۔۔
آدا دانی تاچو تھود بول لے ہے دے تو دندی دول تلتی ہی نہیں ہے
تو لوحی تھتے بادے دی فر ۔۔ چاچو کی بات فل پاور سے جھٹلا گئی ۔ اتنا کھلا تضاد
اُسے پسند نہیں آیا تھا ۔
ہاں بھئی بتاؤ اب کیسے بھاگ سکتی ہی میری گڑیا تمہاری گندی ڈول
کے پیچھے ۔۔ بیٹی کی بات پہ سر تسلیم خم کرتے انھوں نے حور کی گود میں بے فکری سے
سوئی شہوار کی طرف دیکھتے کہا ۔ اُس بیچاری کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ غلطی نہ ہوتے
بھی وہ ان چاچا بھتیجی کی لڑائی میں ہر روز شامل ہوجایا کرتی تھی ۔۔
بھیا یہ غلط بات ہے بھئی میری معصوم بچی کو تو بنا غلطی کے
بدنام کیا ہوا اپ کی بیٹی نے ۔ فواد کے اشارے پہ حور بھی ماتھے پہ بل لیے بولی ۔
مقصد صرف اس توتلی وکیل کو چڑانا تھا ۔۔
آہہ " دیتھ لے ہے اپ آدا دانی جے تاچی بھی اب تاچو تے شاتھ
مل دی " ۔۔ ہر کسی کی بغاوت منظور تھی مگر اپنی فیورٹ چاچی کی بغاوت کی قطعی اُمید نہیں تھی تبھی گرے آنکھیں اور منہ
کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
کوئی بات نہیں آغا جانی تو اپنے بیٹے کے ساتھ ہی ہے ۔۔ اپنی
مضبوط گرفت میں اُس چالاک یونیکورن کو جکڑتے آغا فارذ نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ سب
کے برعکس میرال کا فوکس ناشتے پہ تھا کیونکہ ابھی تو وہ باپ کا دماغ کھا رہی تھی
مگر اُن کے جانے کے بعد وہ ماں سے چیپٹ جانے والی تھی تبھی اُسے اینرجی کی خاصی
ضرورت تھی ۔۔
لوحی تو نی لینا ایتھ دھر میں "' ادھر توئی لوحی تے پار نی
ترتا ۔۔ ضدی لہجا لیے وہ سر نفی میں ہلاتی بولی گرے آنکھوں میں واضح ناراضگی تھی ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Shehr-e-Goristan by Maryam Awan
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment