Kabhi na hon juda by Laiba Ather Complete novel


Kabhi na hon juda by Laiba Ather complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Laiba Ather is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Kabhi na hon juda by Laiba Ather complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Laiba Ather All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

sneak

دیکھیں مجھے پتہ ہے مجھے میری بیٹی  کا رشتہ کن لوگوں میں کرنا ہے۔۔۔ میں اس کا باپ ہوں اس کا اچھا برا بہت اچھے سے سمجھتا ہوں ۔۔۔ اور میں ایسے ہی کسی کے گھر منہ اٹھا کر نہیں جاتا اس لیے میں نے گھر آنے سے معزرت کی ۔۔۔

 

وہ لوگ اس وقت ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے کیونکہ لڑکی کے باپ نے گھر آنے سے انکار کردیا تھا تو اجالا ان دونوں کو لیکر یہاں آگئی تھی ۔۔

 

انکل آپ جن لوگوں میں اپنی بیٹی کا رشتہ کر رہے ہیں۔۔۔ ان کا پورا گھر حرام پر چلتا ہے اور وہ لڑکا بلکہ آدمی وہ تو انسان کے روپ میں جانور ہے جو آپ کی بیٹی کو رخصت نہیں کر رہا بلکہ خرید رہا ہے ۔۔۔ اور آپ اپنی بیٹی کو بیچ رہے ہیں ۔۔۔۔ اجالا سپاٹ لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔

 

زبان سنبھال کر بات کرو لڑکی ۔۔ تم جانتی نہیں ہو ابھی مجھے ۔۔۔ وہ تیز لہجے میں بولا ۔۔ ربیعہ نے اسے ناگواری سے دیکھا ۔۔۔

 

تھوڑا آرام سے نہیں بولا جارہا آپ سے انکل ۔۔ دیکھ نہیں رہے آپ۔۔۔  ہم کھانا کھا رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ دونوں کھانے میں ایسے مصروف تھیں جیسے وہاں موجود ہی نہ ہوں ۔۔

 

میرے خیال سے میں اپنی بات کہہ چکا ۔۔۔ وہ اٹھنے لگے ۔۔

 

ارے ۔۔۔ ابھی کہاں انکل جی ۔۔۔ ابھی تو آپ نے کچھ کھایا بھی نہیں ۔۔ ہم اپنے مہمانوں کو ایسے تھوڑی جانے دیتے ہیں ۔۔۔ایمان فوراً بولی تھی ۔۔۔

 

نہیں ۔۔ بہت شکریہ اور آئیندہ سے میری بیٹی کے معاملے سے دور رہنا تم لوگ ۔۔۔

 

بیٹھیں یار ۔۔۔۔ ایک بار کی بات سمجھ کیوں نہیں آرہی آپ کو ۔۔۔ ربیعہ نے ایک دم غصے سے ٹیبل پر چمچ مارا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگے پھر بیٹھ گئے ۔۔۔ ربیعہ طنزیہ مسکرائی ۔۔۔

 

دیکھو تم لوگ مجھے زبردستی نہیں روک سکتیں اور میرا فیصلہ بھی نہیں بدل سکتیں ۔۔۔۔ وہ اس بار تھوڑا نرم لہجے میں کہہ رہے تھے ۔۔۔

 

کیپ اتاریں ۔۔۔۔ ایمان کے اچانک کہنے پر ربیعہ اور اجالا نے اسے حیرت سے دیکھا ۔۔۔

 

کیا ۔۔۔ ؟۔۔۔۔ فیروز انکل نے حیرت سے پوچھا جیسے وہ بات سمجھ کر بھی نا سمجھ پارہے ہوں ۔۔

 

ایک تو ۔۔ بزرگ لوگوں کی ایک بات مجھے بہت بری لگتی ہے ۔۔ سنتے کم ہیں یہ بزرگ لوگ ۔۔ ارے بابا جی میں نے کہا کیپ اتاریں اپنا ۔۔۔ ایمان نے بیزاریت سے کہا تو اجالا اور ربیعہ نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔

 

یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔ وہ چیخے ۔۔

 

ہاہاہاہا ۔۔۔ ڈر کیوں رہے ہیں ۔۔؟۔۔۔ صرف کیپ اُتارنے کا تو کہہ رہی ہے وہ ۔۔۔ ربیعہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔

 

وہ سوچنے لگے ۔۔۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد انہوں نے اپنا کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھا ۔۔۔ اور وہ دونوں گلا پھاڑ کر ہنسنے لگیں ۔۔۔ اجالا نے اپنا سر پیٹ لیا ۔۔۔ وہ یہاں کیا بات کرنے آئی تھی اور ان دونوں نے اپنا ہی شغل میلا لگا لیا تھا ۔۔۔

 

یہ کس قسم کا مزاق ہے ۔۔۔؟۔۔۔ وہ غصے سے لال پیلے ہونے لگے تھے ۔۔۔

 

ارے انکل ۔۔۔ آپ تو ۔۔۔ ہاہاہاہا ۔۔۔ آپ تو بیچ میں سے ۔۔۔ ٹکلے ہیں ۔۔۔۔ ربیعہ نے ہنستے ہوئے بہت مشکل سے کہا جبکہ ایمان کا ہنس ہنس کر برا حشر ہوگیا تھا ۔۔ اجالا سے بھی اپنی ہنسی روکنا مشکل ہوگیا وہ بھی ہنسنے لگی ۔۔۔

 

اچھا ۔۔۔ تو تم لوگوں نے مجھے یہاں ذلیل کرنے کے لئے بلایا تھا ۔۔ مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا ۔۔۔ میں اپنی بیٹی کی شادی وہیں کروں گا جہاں میری مرضی ہوگی ۔۔ اور کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ مجھے روکے ۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھنے لگے ۔۔۔

 

ایک منٹ ۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ بیٹھیں زرہ ۔۔۔ ایک تو ہر بات پر آپ اٹھ کر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ مانا کہ پچھلے جنم میں آپ گھوڑا ہوا کرتے تھے مگر اب تو انسان ہیں نہ تھوڑی انسانوں والی حرکتیں کریں ۔۔۔ ربیعہ نے ان کا کیپ اٹھا لیا تھا ۔۔۔

 

سوری انکل ۔۔۔ یہ دونوں تھوڑی شرارتی ہیں ۔۔۔ میں واقعی میں آپ کی بیٹی کا بھلا چاہتی ہوں ۔۔ ایک بار آپ لڑکے سے مل تو لیں ۔۔ یقیناً وہ آپ کو بہت پسند آئے گا ۔۔۔ اُجالا نے ان سے معزرت کرتے ہوئے کہا ۔۔

 

سوچ لیں ۔۔۔ اور سوچ کر ہی جواب دیئے گا ۔۔ مہنگا نہ پڑھ جائے انکار آپ کو آپ کا ۔۔۔ ایمان ان کا کیپ انگلیوں پر گھماتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔

 

اسے میں دھمکی سمجھوں ۔۔۔؟۔۔۔۔۔ ان کے چہرے پر سخت ناگواری چھائی ہوئی تھی ۔۔۔

 

عقل ہے تو سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔ ورنہ چھوڑیں ۔۔ یہ بزرگ لوگوں کو سمجھ آنے والی بات نہیں ہے ۔۔۔ ربیعہ نے اطمینان سے کہا ۔۔۔

 

میرا کیپ ۔۔۔۔ ؟۔۔۔ انہوں نے کیپ کی طرف دیکھ کر کہا جس سے ایمان کھیلنے میں لگی تھی ۔۔۔

 

او ہاں ۔۔۔ یہ لیں ۔۔۔ اور ہاں ۔۔ اگلی بار دوسرا کیپ پہن کر آنا ۔۔۔ لڑکے پر اچھا خاصا رعب بیٹھنا چاہیے لڑکی کے باپ کا ۔۔ یہ گندا بدبو والا مت پہن لینا ۔۔۔ ایمان ان کو ایسے سمجھا رہی تھی جیسے وہ کوئی چھوٹے بچے ہوں ۔۔

 

وہ جانے لگے تو ربیعہ نے پھر انہیں آواز دی ۔۔۔

انکل ۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ ادھر آئیں ۔۔۔ اس کے بلانے پر وہ آکر کھڑے ہوگئے ۔۔۔

 

ویٹر ۔۔۔۔ ایمان نے ہاتھ بڑھا کر ویٹر کو بلایا ۔۔۔ اجالا ان دونوں کو گھورنے لگی جس کا ان پر کہاں اثر ہونے والا تھا ۔۔

 

بل ہمارے چاچو دیں گے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے چاچو ۔۔ آپ بل دے کر آجائیں ہم باہر گاڑی میں ویٹ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ویٹر کے آنے پر ربیعہ اسے کہنے لگی۔۔۔ وہ سر ہلا کر اب فیروز انکل کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Kabhi na hon juda by Laiba Ather Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment