Sini Apa short story by Rushna Aziz
Short Scens
بارہ
برس کی عمر تھی جب حسینہ بیگم کے ننھے خوابوں کو گڑیا کھیلنے کی مہلت بھی نہ ملی اور
وہ سسرال کے دالان میں رخصت کر دی گئیں۔ لرزتے ہاتھ، سہمی ہوئی نگاہیں اور کم سنی کی
سادہ مسکراہٹ… مگر چوکھٹ کے اُس پار ان کی زندگی میں جو کہانی لکھی جانی تھی، وہ آسان
نہ تھی۔ یہ سفر محض ایک بچی کا رخصت ہونا نہ تھا بلکہ خوابوں کی تتلیوں کو کانٹوں کے
جنگل میں دھکیل دینے کے مترادف تھا۔
وقت
نے جیسے ان کے سامنے پہلا اصول رکھ دیا۔
"بعض
لوگ بچپن کھیلتے ہوئے جیتے ہیں اور بعض اپنا بچپن دوسروں کے دکھ سہتے ہوئے گزار دیتے
ہیں ۔"
یوں
حسینہ بیگم کی معصوم ہنسی کے بجائے مشقت کی کہانی شروع ہوئی، اور آنے والے دنوں میں
اُن کا وجود صبر اور قربانی کے استعارے کے طور پر پہچانا جانے لگا۔
*********
ساس
کا مزاج لوہے کی مانند سخت اور اصول پتھر پر کندہ۔ رات کے بارہ بجے تک چکی پیسنا لازم
تھا، ورنہ آرام کا لمحہ نصیب نہ ہوتا۔ جاڑے کی راتوں میں جب ہاتھ سن ہو جاتے، ہڈیاں
کپکپاتیں اور پلکیں بوجھل ہو جاتیں، تب بھی وہ چکی کے گرد پتھر کی مانند گردش کرتی
رہتیں۔ آٹے کی سفیدی ان کے ہاتھوں پر نہیں، ان کی روح پر بکھر جاتی تھی۔
یوں
ساری جوانی پسینے اور آنسو کے رزق پر گزری۔ خوابوں کی خوشبو آٹے کے دھوئیں میں تحلیل
ہوگئی۔
اسی
لمحے دل میں ایک کڑوا سچ اترا:
“جس
مشقت کو لوگ معمولی جانتے ہیں، وہی عورت کی ہڈیوں میں قبر کا سا سکوت پہلے سے اتار
دیتی ہے۔”
حسینہ
بیگم کی ہنسی مدھم پڑ گئی، مگر صبر کی دیوار اور اونچی ہوتی گئی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Sini Apa short story by Rushna Aziz Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment