Kaif e dil by Mahi Shah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Mahi Shah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Kaif e dil by Mahi Shah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Mahi Shah All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
یہ کیا ہوا ہے تمہیں لبابہ امنہ نے کہا تو لبابہ نے اکرم کو دیکھا اور پھر
چلتی ہوئی امنہ اور طہام کے پاس گئی اور مشکل سے صوفے پر بیٹھی پھپھو اپ بیٹھے میں
اپ کو بتاتی ہوں۔۔۔۔
امنہ نے ایک نظر اکرم کو دیکھا اور
پھر لبابہ کو اور پھر خاموشی سے بیٹھ گئی طہام نے بھی لبابہ کو دیکھا اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔
پھپھو مجھے اپ لوگوں کو کچھ بتانا ہے اپ لوگوں کو ہمت
سے سننا ہوگا جو میں بتانے جا رہی ہوں لبابہ نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے
ہوئے امنہ کو کہا تو امنہ نے حیرانگی سے لبابہ کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔۔""
جو بات ہے نہ لبابہ وہ صاف صاف بولو کیا ہے اور کیف کہاں ہے
طہام تو کہہ رہا تھا تم کیف کو لے کر اؤ
گی لیکن وہ کیوں نہیں ایا۔۔۔۔۔۔
ہبی جان ہبی جان۔۔۔۔۔۔لبابہ کی اواز
سنتے دل سے کمرے سے نکل کر سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی نیچے ائی تو لبابہ نے اسے دیکھا جو کہ تیار ہو کر نیچے ائی تھی
اور لبابہ کے پاس ا کر کھڑی ہو گئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
لبابہ آپی ہبی
جان کہاں ہے وہ کدھر ہیں ایک تو پتہ نہیں ہبی جان کو کیا ہے مجھے تنگ ہی کرتے رہتے ہیں ان کو
بولتی نا جلدی اجائیں میں تیار ہو گئی ہوں ہم نے باہر گھومنے جانا تھا ائس کریم
کھانے جانا تھا دل اپنے دونوں ہونٹوں کو مروڑتے ہوئے کہنے لگی جبکہ لبابہ کا ایک دل کیا کہ وہ ان کو نا بتائے لیکن اسے
زیادہ بتانا ہی بہتر لگا۔۔۔۔۔۔""
لبابہ تم دل کو دیکھنا چھوڑو اور مجھے
بتاؤ کیا ہوا ہے امنہ نے ذرا سہتی سے کہا تو لبابہ نے امنہ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
پھپھو ہم ہم ایک مشن میں گئے تھے تو
وہاں پر جس گینگسٹر کو ہم نے پکڑنا تھا وہ پہاڑی سے نیچے گر گیا اور اس نے مجھے
بھی گولی ماری ٹانگ پر اس لیے میری یہ ٹانگ زخمی ہو گئی ہے لبابہ نے اٹکتے ہوئے
کہا۔۔۔۔۔
ہاں تو یہ اچھی بات ہے لبابہ کے وہ
گینگسٹر پہاڑی سے نیچے گر گیا ہے اور تم ٹھیک ہو نا تمہیں کہیں اور تو نہیں لگی
۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں لیکن۔۔۔۔
لیکن کیا لبابہ کھل کے بات کرو میرا
دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔۔
لیکن پھوپھو اس گینگسٹر کے ساتھ ساتھ
کیف بھی پہاڑی سے نیچے گر گیا ہے کہ۔۔۔۔ کب۔۔۔۔۔۔ کب سے پولیس والوں سے ڈھونڈ رہے
ہیں لیکن کیف کی لاش نہیں۔۔۔۔۔۔۔
لبابہ بس کرو تمیں بولتے ہوئے شرم نہیں ارہی تم کیف
کے بارے میں کیا بکواس کرتی جا رہی ہو
امنہ غصے سے صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور غصے سے لبابہ کو کہنے لگی تمہارا کزن ہے وہ
دوست ہے شرم آنی چاہیے تمیں اپنے دوست کے بارے میں اسے کہتے ہوئے کہ اس کی
لاش نہیں مل رہی پاگل ہوگی تم تمہارے دماغ
میں گولی لگی ہے تمہارے امنہ کو سمجھ نہیں ائی تو وہ کیسا ری ایکشن دے جب کہ طہام
کے تو ہاتھ پاؤں کانپنے لگے تھے اور دل تو عجیب نظر سے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
لبابہ۔۔۔ آپی۔۔۔۔کک۔۔۔سس۔۔۔۔کس کی لاش
نہیں ملی طہام نے اٹکتے ہوئے کہا وہ اب 17
سال کا ہو گیا تھا چھوٹا بچہ نے تھا وہ لبابہ کی بات نہ سمجھ پاتا۔۔۔۔۔۔
طہام
میری بات غور سے سنو اس گیسٹر کو گولی ماری تھی تو کیف نے اس کا گریبان
پکڑا ہوا تھا تو وہ پہاڑی سے نیچے گرا تھا کیف بھی پہاڑی سے نیچے گر گیا اور نہ ہی
اس گینگسٹر کی لاش ملی ہے نہ ہی کیف کی۔۔۔۔۔
طہام نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے
صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا لبابہ آپی کک۔۔کااا۔۔۔۔کیا کیا کہہ رہی ہیں اپ ہ کیف بھائی
کیف بھائی۔۔۔۔۔۔
ہبی
جان کیا ہوا ہے ہبی جان کو لبابہ
اپی کیا کہہ رہی ہیں اپ کہ ہبی جان پہاڑی سے نیچے گر گئے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔
وہ ہبی جان پہاڑی سے نیچے کیسے گر سکتے ہیں اپی وہ تو اپنی دل کے بغیر کہیں نہیں
جاتے اپنے دل کے بغیر وہ وہ نہیں رہتے ہیں دل کے بغیر اپ سمجھ رہی ہیں نا دل ساکت
نگاہوں سے لبابہ ظ کو دیکھتے ہوئے اس سے سوال کرنے لگی۔۔۔۔۔""
دل کی حالت دیکھ کر لبابہ کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔
دل
اؤ میری گڑیا میری بات سنو لبابہ
نے دل کو پکڑنا چاہا لیکن دل نے لبابہ
کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑوایا ۔۔۔۔۔""
نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔لل۔۔لبابہ آپی آپ
جھوٹ کہہ رہی ہیں ہبی جان پہاڑی سے نیچے گر گئے ہیں کیسے وہ نیچے گر سکتے ہیں
انہوں نے صبح مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ائیں گے اور مجھے گھمانے لے کر جائیں گے
اور ہبی جان نا اپنے سارے وعدے پورے کرتے
ہیں اپ جھوٹ بول رہی ہیں اپ جھوٹ ہی گندی ہیں گندی ہیں دل یہ کہتے ہوئے
دوبارہ سے کمرے میں بھاگ گئی جبکہ امنہ نے ساکت نگاہوں سے اکرم اور لبابہ کو دیکھا
جو کہ خود بھی رو رہے تھے۔۔۔۔۔۔
لبابہ پلیز سچ بتا دو ایک ماں کے ساتھ ایسا مذاق۔۔۔۔۔
پھپھو کیا اپ کو لگتا ہے کہ میں اس
طرح کا مذاق کر سکتی ہوں لبابہ کی انکھوں سے نکلتے انسو اس کی بے بسی اس کی ٹانگ
پر لگی گولی اس کی بات پر گواہی
اس کی ٹانگ پر لگی گولی اس کی بات پر
گواہی اس کی بات پر گواہی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
میرا بیٹا ابھی تو میرا بیٹا مجھے ملا
تھا وہ صبح مجھے کہہ کے گیا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ ٹائم گزارے گا بہت سالوں سے میں
نے اسے اپنا بیٹا نہیں مانا تھا لبابہ
لیکن دیکھو نا جب میں نے اپنا بیٹا مانا وہ مجھ سے الگ ہو گیا کیسے لبابہ
دیکھو نا میری بات سنو وہ کیف کو بولوں اس کی ماں اس کا انتظار کر رہی ہوں بولو نا
امنہ کا دل کر رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔۔۔
پھپو اپ ہی ہمت ہار جائیں گے تو دل اور طہام کو کون سنبھالے گا طہام جو اب ساکت نگاہوں سے
دیکھ رہا تھا اس کی انکھوں سے اب انسو نکلنے لگے تھے۔۔۔۔۔
مطلب لبابہ آپی میرا بھائی وہ وہ میرا بھائی ایسا کیسے جا سکتے
ہیں مجھے چھوڑ کے میں میں کیسے سنبھالوں گا
پتہ ہے وہ صبح مجھے کہہ کے کہتے ہیں کہ میں میں ان کے دل کا خیال رکھو ماما
کی خیال رکھو اگر مجھے پتہ ہوتا نا کہ وہ وہ ہم سے الگ ہوتے ہیں کہ میں انہیں کبھی
بھی گھر سے باہر نہ جانے دیتا لبابہ آپی انہیں بولے نا ایک دفعہ وہ واپس ا جائیں مین اکیلے سب نہیں
سنبھال سکو گا طہام جلدی سے لبابہ
کے گلے لگا تو طہام کو گلے لگاتے
ہی لبابہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اس گھر میں جتنی خوشیاں تھی اب اس گھر میں
ماتم بچ گیا تھا طہام کی ہچکیوں سے رونے
کی اوازیں امنہ کی رونے کی اوازیں اور لبابہ کی پھوٹ پھوٹ کا رونے کی اواز اس گھر
میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دل۔۔۔۔ دل کو سنبھالو میں چھت پر نہیں
جا سکتی ورنہ میں دل کو خود سمجھاتی لبابہ نے طہام کو کہا تو طہام نے نفی میں سر ہلایا نہیں لبابہ
اپی میں دل کو کچھ بھی نہیں کہہ پاؤں گا میں اسے نہیں سمجھا پاؤں گا میں کیا بولوں
گا اسے وہ کب سے تو اپنے ہبی جان کا
انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں اپنے بھائی کا وعدہ بھی تو پورا
کرنا ہے نا دل کا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔
ہاں اپی میں میں دل کا خیال رکھوں گا
اور ماما کا بھی خیال رکھوں گا طہام نے
امنہ کی جانب دیکھا جو اپنے قدم اب اپنے کمرے کی جانب لے گئی تھی اس سے کچھ بھی
بولنے نہیں ہو رہا تھا اپنے اپ کو کمرے میں لے جا کر اس نے اپنے اپ کو بند کر دیا
اکرم تو اپنی بہن کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہیں تھا نہ ہی اس نے امنہ کو کچھ
کہا کیونکہ امنہ اکرم کی بات تو کبھی بھی نہ سنتی۔۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں لبابہ اور اکرم اپنے
گھر میں چلے گئے لبابہ کو تھوڑا ریسٹ بھی کرنا تھا اور اس میڈیسن کھا کر سونا بھی
طہام دل کے کمرے میں گیا تو دل کا دروازہ
کھٹکھٹانے لگا لیکن دل دروازہ ہی نہیں کھول رہی تھی۔۔۔۔۔۔
٭٭٭
طہام کب سے دل کے کمرے کا دروازہ
کھٹکھٹانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ دروازہ ہی نہیں کھول رہی تھی۔۔۔
دل دروازہ کھولو پلیز۔۔۔
نہیں نہیں مجھے نہیں کھولنا مجھے ہبی
جان چاہیے مجھے ہبی جان چاہیے اندر سے دل کے ضدی پن کی اواز انا لگی طہام کو اس کے لہجے میں صاف
روتا ہوا لہجہ محسوس ہوا طہام کے دل کو
کچھ ہوا اس کے لیے دل کو سنبھالنا بہت مشکل ہونے والا تھا۔۔۔۔۔
اچھا دل پلیز دروازہ تو کھولو نا میں
کیف بھائی کو لے اؤں گا طہام نے دل کو
سمجھانا چاہا جب دروازہ کھٹک کی اواز سے کھلا تو سامنے دل جو تھوڑی دیر پہلے فراک
پہن کر تیار ہو کر نیچے گئی تھی اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور رو رو کر اس نے
اپنی انکھوں کا کاجل اپنے پورے چہرے پر پھیلایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
دل کیا ہو گیا ہے کہ تمہیں اپنی کیا
حالت کر لی ہے۔۔۔۔
طہام لبابہ آپی کیا کہہ رہی تھی کہ
میرے ہبی جان پہاڑ سے نیچے گر گئے تو کیا وہ کبھی واپس نہیں ائیں گے لبابہ آپی جھوٹ بول رہی تھی نا بتاؤں مجھے۔۔۔۔۔
دل میری بات سنو ایسی بات نہیں ہے کیف
بھائی کو کچھ بھی نہیں ہوا وہ پتہ ہے نا پولیس والے ہیں تو پولیس والوں کو نا ایک
مشن ملتا ہے تو گنڈوں کو پکڑنے کے لیے تو انہیں پکڑنے کے لیے گئے ہے طہام نے جھوٹ بولنا چاہا تو دل نے گھور کر طہام کو دیکھا۔۔۔۔۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Kaif e dil by Mahi Shah Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment