Mohabbat by Mahain Baloch Complete novel


Mohabbat by Mahain Baloch complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Mahain Baloch is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Mohabbat by Mahain Baloch complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Mahain Baloch All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

دانین زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور میں اسے یوں برباد نہیں کرسکتا۔۔ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔" وہ گہری سانس بھرتے التجائی لہجے میں بولا۔ وہ بھیگی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ تھا اسکا شاہ زر۔۔اسکے خواب کا شہزادہ۔۔اسکے بچپن کا ساتھی اور منگیتر۔۔                             

 " مطلب تم فیصلہ کر آئے ہو۔۔ تو اطلاع مجھے نہیں اپنے والدین کو دو۔۔آج سے تم  میری طرف سے آزاد ہو شاہ زر احمد۔۔" اسکے جسم کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔ مضبوط بننے کی ناکام کوشش کرتے آخر اسکے آنکھوں سے نمکین پانی کا سیلاب نکل پڑا۔                                                                 

"میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا۔۔مگر ہم سچائی سے بھی تو نظر نہیں چرا سکتے۔" وہ شرمندہ لگ رہا تھا۔مگر کیا فائدہ؟          

" ہرٹ۔۔؟ تم نے بناء پانی کے مارا ہے مجھے۔۔۔شاہ زر۔۔! دفع ہو یہاں سے۔۔" وہ ہذیانی ہوتی چلائی۔

" دانین I can't take it anymore۔۔" وہ گہری سانس بھرتے بولا۔

"میں نے اپنے لئے نیا پارٹنر ڈھونڈ لیا ہے۔ جو میرے ساتھ سوٹ بھی کرے گی۔"

اسکے الفاظ سن کر دانین کو لگا جیسے کوئی اس پر ضربوں سے وار کر رہا ہے۔ شاہ زر کا ہر لفظ اس کے سینے پر تیر کی طرح چبھا تھا۔ شاہ زر اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا جو کہ شاکڈ ہونے کا پتہ دے رہے تھے۔ اس نے گاڑی کی رفتار تیز کی۔ دانین اسے دھندلی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ آنسوؤں جھلکنے کو بے تاب تھے مگر وہ روئی نہیں وہ بس شاہ زر کی نگاہوں میں اپنے لیے محبت ڈھونڈ رہی تھی مگر وہاں اسے صرف پریشانی دکھ رہی تھی۔۔ کس بات کی پریشانی؟ہاں اسے اس بات کی فکر تھی کہ اگر دانین نے گھر والوں کے سامنے اسکی حقیقت بتا دی تو تماشہ ہو جائے گا۔ لیکن ایک نہ ایک دن اسے خود بھی تو بتانا تھا۔

"مجھے پتہ ہے تم اس وقت یہ سب برداشت نہیں کر سکتی مگر حقیقت کو قبول کرکے آگے بڑھنا ہی۔۔۔" اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتا دانین نے غصے سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

"خاموش ہو جاؤ۔۔۔ چپ ایک دم چپ۔۔ مممم۔۔ میں تم سے محبت ک۔۔کرتی ہوں۔۔ تم۔۔تم بھی کرتے ہو۔۔۔" وہ یک دم چلاتے ٹوٹ سے گئی۔ گاڑی شاہ زر کے ہاتھ سے بیلنس آوٹ ہورہی تھی اس نے جلدی بریک لگائی۔ مصروف روڈ تھی۔ یوں بیچ و بیچ بریک لگانے پر انکی گاڑی ٹکراتے ٹکراتے بچی۔

 "ویسے تمہیں کون سے ملک میں رہنا پسند ہے؟" انکے اس غیر متوقع سوال پر دانین نے ناسمجھی سے انکی طرف دیکھا۔

"کیا مطلب؟"

"مطلب کہ تم پاکستان میں رہنا چاہتی ہو یا پھر اگر تمہیں شادی کے بعد کہیں جانا پڑا تو تم مینج کر لو گی؟" ثانیہ بیگم کی بات کا مطلب وہ خوب اچھی طریقے سے سمجھ گئی تھی۔ اسکے ماتھے پر دو بل آئے اس نے خفا نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔

"مما۔۔۔۔!" وہ شاکڈ تھی۔ مطلب اسکی ماں اسکی خاطر عاشر کو سوچ رہی تھی۔ ہر ماں کی طرح ثانیہ بیگم کو بھی بیٹی کی منگنی ٹوٹنے کا صدمہ تھا اور وہ اب جلد از جلد اسکا گھر بسانا چاہتی تھیں۔

" تو کیا برائی ہے اس میں۔۔ عاشر کو تم شروع سے جانتی ہو۔۔ کافی اچھا اور میچور لڑکا ہے۔۔ اپنا کماتا۔۔۔"ابھی انکی بات بیچ میں تھی کہ دانین نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔

"مما۔۔آپ یہ سب اس وجہ سے کر رہی ہیں کہ مجھے کوئی اور قبول نہیں کرے گا، آپ کو یہی خوف ہے نا؟" دانین نے براہ راست انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال داغا۔ ثانیہ بیگم شرمندہ ہوئیں۔

"ہاں تو کچھ غلط تو نہیں کر رہی ، تمہاری ہی بھلائی ہے۔" وہ کمزور لہجے میں دلیل دینے لگی۔

" مما، اس سب میں میری کوئی بھلائی نہیں۔۔ منگنی ٹوٹنا یا پھر شادی ختم ہونا کوئی عیب نہیں جبکہ ایک زبردستی اور اذیت ناک بندھن سے چھٹکارا ہے۔" وہ نہایت ہی تحمل سے اپنا موقف سمجھا رہی تھی۔

"مگر بچہ تم ساری زندگی یوں بھی تو نہیں رہ سکتی۔۔" وہی ممتا والی فکر۔ دانین مسکرائی۔

"کس نے کہا کہ ساری زندگی کنواری رہوں گی بھئی میرے بھی ارمان ہیں، میں نے بھی ڈیزائنر لہنگا پہننا ہے ، میں بھی سب سے سلامی وصولنی ہے میرے ماں باپ اپنی حق حلال کی کمائی سے سب کو سلامی دیتے آئے ہیں اب انکی بیٹی سب سے ڈبل کیش لے گی۔۔" وہ انہیں گلے سے لگاتی ہشاش لہجے میں بولی۔ تو ثانیہ بیگم نم نگاہوں سے مسکرائیں۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Mohabbat by Mahain Baloch Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment