Khayin by Abdul Ahad complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Khayin by Abdul Ahad complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Abdulahad Butt All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
”نور
العین؟ تم تو میری سوچ سے زیادہ حسین نکلی۔ “ اس نے جسم کا اوپری حصہ آگے بڑھایا
اور ایک ادا سے نور العین کے گلے لگی۔ نورالعین پتھرا گئی۔
”شنکر نے
بھی بہت سوچ کر تمھیں پسند کیا۔ چاند کا ٹکڑا ہو۔ شاید اس سے بھی زیادہ حسین۔ آؤ
میرے ساتھ چلو۔“ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر جانے لگی۔
”نہیں۔
ہمیں جانا ہوگا۔ دیر ہورہی ہے۔“ وہ متذبذب کے عالم میں شنکر کو بتانے لگی، مگر
شنکر کو اس عورت کی موجودگی میں جیسے چپ لگ گئی تھی۔
”ارے۔ اتنی
جلدی؟ مجھے تو تم سے بہت باتیں کرنی تھیں۔ بہت ساری۔“ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر ایک
دوسرے کمرے لے جانے لگی۔ نورالعین نے بنا
لحاظ ہاتھ چھڑوایا اور شنکر کو دیکھا۔
”ہمیں جانا
ہوگا۔“ اب کی بار اس نے شنکر کو سختی سے گھورا۔ شنکر جیسے چونکا۔
”انھیں
جانے دیں۔ ان کا لوٹ جانا ضروری ہے۔“ شنکر نے بے جان لہجے میں کہا۔ شیتل کے لب اوہ
میں ڈھلے۔ اس نے نور العین کا ہاتھ چھوڑا۔
”کم سے کم
ایک تصویر کھینچوائے بغیر میں تم کو جانے نہیں دے سکتی۔“ اس نے نورالعین کو دیکھتے
ہوئے کہا۔
”تصویر؟ اس
کی کیا ضرورت ہے؟“وہ دوبارہ گھومی، ابکہ اس کی آنکھوں میں خفگی تھی۔ شنکر ہنوز
خاموش کھڑا تھا۔
”آپ جانتے
ہیں نوراتری میں جب ہم یہاں آئے تھے تب اسی وقت گھر لوٹے تھے اور دادی جان نے
ہماری خوب خبر لی تھی۔ ہم تاریخ دہرانا نہیں چاہتے۔ “ اس نے شنکر پر جیسے اس کی
چُپ باور کروانا چاہی۔
شنکر نے لب
کھولے مگر شیتل کے آگے کچھ بھی کہنے میں ناکام ٹھہرا۔
”میں تمھاری
یاد اپنے پاس سلامت رکھنا چاہتی تھی۔“
شیتل مصنوعی سا خفا ہوئی۔
”ہم یہاں
نہیں رکیں گے۔“ نورالعین نے گردن تن کر کہا۔
”اوہو۔ آپ
تو نوراض ہی ہوگئیں۔“ شیتل مسکرائی۔ ”ٹھیک ہے، ہم آپ کو نہ روکیں گے۔ آپ ہماری
ہونے والی بہو ہیں، سو ملاقات کے بیشتر موقع ملیں گے۔“
اس بات پر
نور العین نے طیش سے شنکر کو دیکھا۔آنکھوں میں اس کے لیے خفگی کا اظہار جا بجا
سلامت تھا۔
”ایسا کچھ
نہیں ہورہا۔ “
نور العین
نا محسوس انداز میں پیر پٹختی کمرے سے جانے لگیں۔
”رُک
جائیے۔ رات بہت ہورہی ہے۔ بگھی ڈھونڈنے میں مشکل ہوگی۔ شنکر کے ساتھ جائیے۔“
وہ مزے
لینے والےا نداز میں کہہ کر صوفے پر بیٹھی۔ پھر شنکر کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ دونوں
مڑے بغیر چلنے لگے۔
”اور دونوں
یہ بات اچھی طرح سے دماغ میں بٹھا لو۔ شادی تو میں کروا کر رہوں گی۔“ آواز میں
دھمکی گھلی۔ نور العین نے پھر مشتعل ہو کر شنکر کو دیکھا۔ گویا کچھ نہ کہنے پر اسے
ملامت کر رہی ہو۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور شنکر اس کے پیچھے چلنے لگا۔
”اس حسن کے
ٹکڑے نے، آنا میرے پاس ہی ہے۔“ اس نے زیر لب دہرا کر تالی پیٹی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Khayin by Abdul Ahad Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com
0 comments:
Post a Comment