Zakhmi matti afsana by Samra Parvez Khan
Short Scens
باسل
خان یہ تم کیا کہہ رہا ہے تم ہمارے خاندان کی روایت توڑنا چاہتا ہے
آغا
جان مجھے اس سب روایتی فرسودات میں کوئ دلچسپی نہیں میں ان سب چیزوں کو ختم۔کرنے واپس
آیا ہوں نہ کے بڑھاوا دینے ۔
خانا
خراب تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے
باسل
خان تمہیں آغا جان کی بات ماننی ہوگی ابھی سرداری قبول کرنی ہوگی ورنہ ہم تمہیں جائیداد
سے بے دخل کر دیگا گل خان جو کے گاؤں کا سردار بے حد تیش میں تھا۔
آپ
لوگوں کو جو کرنا ہے آپ کردیں مگر میرا فیصلہ ہرگز نہیں بدلے گا میں یہاں ماحول اچھا
کرنے آیا تھا آگے کی نسل کے لئے آسانیوں کے لئے
اپنی
آسانی اپنے پاس رکھو نا مراد باسل خان یہ ہمارا گھر ہے ہمارا گاؤں ہے ہم یہاں کے سردار
ہیں جتنا جلدی ہوسکے ہمارے آگے سے اپنی شکل گم کرو گل خان نے سفاکی کی انتہا کی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Zakhmi matti afsana by Samra Parvez Khan
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment