QaidKhany afsana by Aleena Kazmi
Short Scens
سلیم
میری بات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ وہ دنیا والا نہیں ہوا ابھی ،
چھوٹی
چھوٹی باتیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں اس کے لیے
جیسے
اماں کی سالگرہ پر انہیں سارا سال پیسے جمع کر کے انہیں تحفہ دینا
حالانکہ وہ تو یہ سب منانا پسند ہی نہیں کرتیں ۔
سچ
تو یہ ہے کہ سلیم کے یہاں آنے سے پہلے انہیں کبھی کسی نے یہ احساس ہی نہیں دلایا کہ
خود کے لیے بھی خوش ہوا جاسکتا ہے ،
ہر بار اپنی خوشی کو کسی دوسرے میں تلاش کرنا ضروری نہیں ہوتا ۔۔۔
میں
گھر کا کوئی بھی کام کرتی ہوں تو سلیم اس کام میں مدد کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ،
جیسے ابھی وہ نئی ماچس خریدنے کا بہانہ کر کے گھر کے پیچھے والی زمین سے
خشک لکڑیاں اگھٹی کرنے گیا ہے ۔
اور
جب میں کھانا بنانے لگوں گی تو چولہے کے سامنے بیٹھا رہتا ہے اور میری پکائی ہوئی روٹیوں
کی تعریف کرتا رہتا ہے ۔۔۔ میں اس گھر میں بہت عرصے سے کھانا بنا رہی ہوں ،
لیکن
اس کھانے کی تعریف پہلی بار سلیم کے منہ سے سنی ۔
ہاں
یہ سچ ہے کہ سلیم کے آنے بعد چھوٹے بھائی کی کمی پوری ہو گئی ،
Click the link below to download this novel in pdf.
QaidKhany afsana by Aleena Kazmi Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment