Baab e sakut by Maryam Rajpoot Complete novel


Baab e sakut by Maryam Rajpoot complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Maryam Rajpoot is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Baab e sakut by Maryam Rajpoot complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Maryam Rajpoot All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"براق یہ دیکھیں۔۔" وہ اسے پکار رہی تھی اور وہ اسکے پاس آکھڑا ہوا۔۔

"کیا ہوا گُل لالہ۔۔؟؟" اسنے پینٹنگز پر نظر دھراتے گُل لالہ سے سوال کیا لیکن پھر ایک پینٹنگ پر اسکی نظر ٹہر گئی۔۔وہ پینٹنگ جانی پہچانی تھی۔۔

یہ اسی تصویر کو پینٹ کیا گیا تھا جو تین سال پہلے ان دونوں نے جھیل کے کنارے گھومتے ہوئے لی تھی، سرخ بالوں والی لڑکی گھوم رہی تھی اور ساتھ کھڑا لڑکا اسے مسلسل دیکھ رہا تھا، پیچ ے جھیل کا منظر واضع تھا۔۔براق نے بےیقینی سے گُل لالہ کو دیکھا۔۔

"یہ تم نے بنوائی ہے گُل لالہ۔۔؟؟" اسے اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔گُل لالہ سر اثبات میں ہلاتی ہنس دی۔۔

"یس ہسبنڈ سرخ بالوں والی لڑکی میں ہو اور اسکے پاس کھڑے لڑکے آپ ہیں۔۔اور اس پینٹنگ کا عنوان جانتے ہیں کیا ہے۔۔؟؟" اسنے براق کو دیکھتے سوال کیا تو وہ سر نفی میں ہلا گیا۔۔

"اسکا عنوان ہے تکمیلِ محبت یعنی آپ میری محبت کی تکمیل ہے۔۔براق جہانگیر۔۔" سرخ بالوں والی لڑکی اپنے ساتھ کھڑے مرد کو دیکھتی بول رہی تھی، براق بےاختیار مسکراتا اب جھک کر اسکا ماتھا چوم رہا تھا۔۔

"گُل لالہ خود سے کتنی محبت کرواؤ گی یار۔۔" وہ عاجزی سے کہ رہا تھا اور گُل لالہ کی کھلکھلاہٹ آرٹ گیلری کی اس راہدری میں گھونجی تھی۔۔

"کہا تھا نا میجر تم ہار جاؤ گے۔۔" اسکے لہجے کی کھنک واضع تھی۔۔شمروز اسکی خوشی پر مسکرا دیا۔۔

"میں ہارو یا جیتو رہو گا تو تمہارا ہی نا۔۔" لہجے میں ایک غرور تھا اینارہ پھر ہنس دی۔۔

"میجر یہ سیاست میرے ساتھ مت کھیلو۔۔مان جاؤ تم ہار گئے ہو۔۔" اسنے اور شمروز نے سر خم تسلیم کیا۔۔

"یہ سیاست نہیں ہے یہ محبت ہے میجر  شمروز جہانگیر کی محبت۔۔" اسکے معاملے میں وہ ہار جیت کو نہیں مانتا تھا صرف محبت،نرمی، چاہت اور عزت کو مانتا تھا۔۔وہ شمروز جہانگیر کی عورت تھی اس پر غرور جچتا تھا۔۔وہ سر نہیں جھکاتی تھی گردنیں اڑا دیا کرتی تھی۔۔

"کیا ہے یہ۔۔؟؟" وہ اسے دیکھتی کسی ٹرانس میں پوچھ رہی تھی۔۔

"یہ سکوت ہے رودابہ۔۔یہ وہ باب ہے جہاں حقیقت کے بعد کی خاموشی سانس لیتی ہے جہاں راز دفن ہیں جہاں سچ کی آواز سب سے بلند ہے جہاں خواب ٹوٹتے نہیں ہیں تکمیل پاتے ہیں جہاں اجر ملتے ہیں۔۔" وہ کہتا گیا اور وہ سنتی گئی۔۔باسل نے چہرا موڑ کر اسے دیکھا جسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔

"یہ وہی باب ہے جو ہم نے گزار دیا جو ہمیں سب سکھا گیا۔۔" وہ کہہ رہی تھی۔۔

"یہ باب خطرناک تھا یہ سہنا مشکل تھا لیکن سہہ لیا گیا لیکن اب ہم اس کے پار موجود روشنی میں ہیں ۔۔" وہ کہتی اسے دیکھنے لگی۔۔

"یہ بابِ سکوت ہے باسل جہانگیر۔۔جس نے ہمیں ملا دیا۔۔!!" وہ دونوں مسکرائے۔۔ 

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Baab e sakut by Maryam Rajpoot Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment