Aatish e zulmat by Scarlett Complete novel


Aatish e zulmat by Scarlett complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Scarlett is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Aatish e zulmat by Scarlett complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Scarlett All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

"زریون! مجھے چھوڑ دو! میں سچ کہتا ہوں، مجھے استعمال کیا گیا تھا۔ عبرش کے دادا اکیلے نہیں تھے!"

زریون نے شہزاد کے سینے پر اپنا بوٹ رکھا اور اسے دیوار سے لگا دیا۔ "بول! اپنی آخری وصیت بول، ورنہ تیری زبان نکال کر میں کتوں کو ڈال دوں گا۔"

شہزاد نے ہانپتے ہوئے عبرش کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف اور کمینگی کا ملا جلا تاثر تھا۔ "عبرش۔۔۔ تمہارے دادا قاتل نہیں تھے۔ وہ صرف ایک مہرہ تھے۔ زریون کے باپ کو مارنے کا حکم اس کے اپنے خاندان سے آیا تھا!"

پورے تہہ خانے میں سکتہ چھا گیا۔ زریون کی گرفت شہزاد کے گلے پر ڈھیلی پڑ گئی، مگر اس کا چہرہ پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔ "تم جھوٹ بول رہے ہو! الیگزینڈر خاندان غداروں کا خاندان نہیں ہے۔"

"جھوٹ؟" شہزاد نے تلخی سے قہقہہ لگایا۔ "اپنی اس ڈائری کا آخری صفحہ غور سے پڑھو زریون۔ جس 'محلول' کا ذکر وہاں ہے، اس کے فارمولے کے نیچے صرف پروفیسر مجیب کے دستخط نہیں تھے، بلکہ وہاں تمہارے چچا، 'کارلو الیگزینڈر' کی مہر بھی لگی تھی۔ تمہارے دادا نے زہر تیار کیا، مگر اسے تمہاری ماں کے کھانے میں تمہارے چچا نے ملوایا تھا تاکہ وہ اقتدار حاصل کر سکے۔"

عبرش نے تڑپ کر وہ ڈائری اٹھائی جو وہیں ایک میز پر پڑی تھی۔ اس نے جلدی جلدی ورق گردانی کی اور آخری صفحے کے نچلے کونے کو دیکھا جو مٹی سے اٹا ہوا تھا۔ جب اس نے اسے صاف کیا، تو وہاں واقعی 'الیگزینڈر کرسٹ' (خاندانی مہر) ثبت تھی۔

زریون کے ہاتھوں سے پستول چھوٹ کر فرش پر گر گیا۔ بیس سال کا انتقام، بیس سال کی نفرت، وہ تمام آگ جو اس نے عبرش کے خاندان کے خلاف پال رکھی تھی۔۔۔ وہ سب ایک پل میں ریت کے گھروندے کی طرح ڈھیر ہو گئی۔ اس کا دشمن اس کے سامنے نہیں، بلکہ اس کے اپنے ہی خون میں چھپا بیٹھا تھا۔

"زریون۔۔۔" عبرش نے دھیمی آواز میں اسے پکارا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

زریون مڑا، اس کی آنکھیں اس وقت سرخ تھیں اور ان میں ایک ایسا درد تھا جسے دیکھ کر عبرش کا دل پھٹ گیا۔ اس نے بغیر کچھ کہے شہزاد کی زنجیروں کی چابی لورینزو کی طرف اچھالی۔ "اسے یہاں سے لے جاؤ۔ اسے روم سے باہر پھینک دو، اگر یہ دوبارہ کبھی نظر آیا تو اسے گولی مار دینا۔"

شہزاد کو گارڈز لے گئے، مگر زریون وہیں کھڑا رہا۔ "بیس سال۔۔۔" وہ بڑبڑایا۔ "میں نے بیس سال اس لڑکی سے نفرت کی، اسے تڑپایا، اس کے خاندان کو برباد کیا۔۔۔ صرف اس لیے کہ میرا اپنا چچا قاتل تھا؟"

اس نے غصے میں دیوار پر مکہ مارا، جس سے اس کے ہاتھ کے جوڑ زخمی ہو گئے۔ "میں نے تمہارے ساتھ کیا کر دیا، عبرش؟ میں نے تمہیں اس گناہ کی سزا دی جو تم نے کیا ہی نہیں تھا۔"

عبرش نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ "زریون، رک جائیں! آپ کو نہیں معلوم تھا سچ کیا ہے۔ ہمیں بچپن میں جدا کیا گیا، ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بنایا گیا تاکہ اصل قاتل چھپے رہیں۔"

زریون نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔ "تم اب بھی مجھ سے نفرت کیوں نہیں کرتیں؟ میں نے تمہارا گھر چھینا، تمہیں یہاں قید کیا۔۔۔"

عبرش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر یہ دکھ کے نہیں، سکون کے تھے۔ "کیونکہ جس شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گولیوں سے بچایا، وہ 'انتقام' نہیں تھا، وہ وہی زریون تھا جس نے بچپن میں مجھے وہ گڑیا دی تھی۔"

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Aatish e zulmat by Scarlett Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment