(Current Episode 1)
Asateer by Ayesha Adeeba complete novel. The novel is based on Afsanvi, thriller, social, dark fiction, and suspense-based novel with a spiritual touch, highlighting betrayal within friendship.
Ayesha Adeeba is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Asateer by Ayesha Adeeba complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
آپا
آپا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کون آپا ؟ تم سے بمشکل کوئی
ایک دو سال بڑی ہوں گی ۔ خبردار جو آئندہ یہ آپا کہا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیلی پشمینہ شال
ایک شان سے خود پر اوڑھاتے سنجیدگی سے باور کروایا گیا ۔ لڑکے کو اپنی ہنسی روکتے دیکھ کر عورت ہتے سے اُکھڑ
گئی ۔
اس
کارپٹ میں کیوں نہیں گُھس مرتے کمبخت سارا میرا موڈ غارت کر دیا ۔ انتہائی نفرت آمیز
لہجے سے مسکراتے ہوئے چہرے کی مسکان چھین لی گئی ۔
کیوں
آپ نے کبھی خود پر تجربہ کیا تھا ؟ لڑکا بھی
اُسی کا بھائی تھا فوراً حساب برابر کر لیا گیا ۔ تم مرو گے میرے ہاتھوں سایا ۔ ۔
۔ ۔ ۔ اپنا نام مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھڑم سے سفید چادر بچھے نرم گرم بیڈ پر جا
گرا ۔
اے
لڑکے….. اُٹھو یہاں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تمہاری محبوبہ نہیں چھوڑ گئی ۔ کیوں اب محبوبہ
سے بھی جہیز کا رواج چل نکلا ہے ؟ بڑی دلچسپ خبر ہے کہاں نشر ہوئی ؟ میں نے کیوں نہیں
پڑھی ۔ ۔ ۔ ۔ فر فر چلتی زبان کے جوہر دیکھنے
سے تعلق رکھتے تھے ۔ عورت کی ناک پر منوں کے حساب سے غصے نے آن بسیرا کیا ۔
تم
مرد تو ہوتے ہی لالچی ہو عورت سے زیادہ اس کے جہیز پر نظر ہوتی ہے تم لوگوں کی ۔ ۔
۔ ۔ ۔ کہتے ہوئے ہاتھ سے کیا گیا کچھ تنزیہ
سا اشارہ خاصاً خاص مرد حضرات کے لیے تھا ۔ لڑکا اُٹھ کر بیٹھا ارد گرد نگاہیں گھمائیں
۔
تو
یعنی آپ کہنا چاہتی ہیں لڑکی پر نظر رکھا کریں ۔ ۔ ۔ ۔ زیرِ لب مسکراہٹ چھپاتے چمکتی آنکھوں سے سوال کیا
گیا ۔ او کمبخت او خانہ خرابہ نکلو یہاں سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ دیکھو تو کیسا دور آ گیا ہے ۔ کیسے نمونے پیدا ہونے لگے ہیں اللہ
کی پناہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپا نیلی ٹراؤزر شرٹ پر لی گئی شال کا پلو پکڑے بھڑاس نکالنے لگیں
۔
ویسے
کوئی کہہ رہا تھا وہ مجھ سے ایک آدھ سال بڑا ہے ۔ تو اس حساب سے زمانہ سایان رفید کی
پیدائش پر ہی تبدیل ہوا ۔ دلچسپ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپا کا رہا سہا خون جلاتے وہ پُھرتیوں سے
بھاگ نکلا ۔ اے اُلو کے پٹھے ۔ ۔ ۔ تمہیں تو
میں دیکھ لوں گی ۔ دیکھو مجھ سے چھوٹا ہو کر مجھے ہی آئینہ دکھا جاتا ہے او خانہ خرابہ
بات سنو میری ۔ ۔ ۔ ۔
سایان
رفید جہاں کا تہاں نکل چکا تھا مگر اپنے کمرے میں موجود آپا کی آوازیں سارے گھر میں
گونجتی کان لپیٹنے پر مجبور کر گئیں ۔
************
رفیق
کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے ساری تیاری کر لی تھی اور تم ابھی بتا رہے ہو کہ وہ پاکستان
میں نہیں ۔
ایسا
کیسے ہو سکتا ہے ؟ فون کان سے ہٹاتے رفیق محمود نے اس کی تیز آواز کا اثر زائل کیا
۔ باجی تھوڑا آہستہ بولیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں بیچارے انگریزوں کے کانوں کے پردے پھاڑنے
ہیں ۔ انتہائی مخلصانہ انداز اپنایا گیا تھا ۔
تمہیں
انگریزوں کے کانوں کی پڑی ہے جبکہ حیریت تمہیں اپنے کانوں کی منانی چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ دانت پیستے ہوئے خبردار کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔
کیوں
میں نے ایسا کیا کر دیا ؟ تم میری ایک بات اپنے کانوں پر نہیں دھرتے ۔ اسی وجہ سے تمہیں
اس اضافی بوجھ سے نجات دلواؤں گی ۔ آخر کو یہ بھی ثواب ہوا نا ۔ ۔ ۔
اس
بار سکون سے آگہی دی گئی ۔
باجی
وہ پاکستان سے چلے گئے اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ اور میرے کانوں کے ساتھ ایسا کیا
کرنے کا ارادہ ہے آپ کا جس سے ثواب بھی کمائیں گی ۔ ہممممم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
وہ
پاکستان سے اُڑ نکلا اور تم نے مجھے بتانا تک گوارا نہ کیا ۔ ورنہ جا لیتی اس بھگوڑے
کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انداز ایسا تھا جیسے اس بے نام
شخص کی گردن دانتوں کے عین وسط میں جکڑی ہو ۔ اچھا غم نہ کریں باجی اب کچھ نہیں ہو
سکتا ۔ مفت مشورہ ملنے پر وہ عش عش کر اٹھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment