Qafas by Muntaha Shah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Muntaha Shah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Qafas by Muntaha Shah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Muntaha Shah All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
۔"
اسے مجبور نہیں کرو برہان تمہیں تو ابھی تک اس کا نام نہیں یاد ہوا کہاں زندگی گزارنے
کا مشورہ دوں میں اسے تمہارے ساتھ "
ممی نے تنبیہیہ کی برہان کا چہرا بجھ سا گیا وہ شکوہ کناں سا حورین کو دیکھنے لگا جو اس کا سکون غارت کر کے لب سیے کھڑی تھی ۔۔۔
۔"
نام کی کیا بات کرتی ہیں جس نام سے میں اسے جانتا ہوں وہی نام لونگا "وہ جھنجھلایا ممی اس کی حالت سے محظوظ ہورہی تھیں
"
حورین سوچ لو اگر آج تم نے نہ کیا تو سارے ریسٹورنٹ کو آگ لگا دوں گا " وہ دھمکی
پر اتر آیا جانتا تھا ماں کی کمزوری ہے ان کا بزنس تو ان پر چوٹ کی ۔۔۔۔ حورین کی ہنسی
چھوٹ گئ جسے اس نے جلدی سے چھپا لیا ۔۔۔وہ جانتا تھا اپنی ماں کو وہ ایک دم ہی فیصلے
کیا کرتی تھی اچانک سے اور پھر اسے پورا بھی کرتی تھیں
۔۔"
میرے ریسٹورنٹ کو بیچ میں مت لاو" ممی کی آواز کچھ سخت ہوگئ
۔"
اب تو تم بھول ہی جاو حورین کو۔۔۔ ویسے بھی ایک بچے کے باپ سے شادی کر کے کیا ہی ملے
گا اس کو۔ ۔۔" وہ ہاتھ جھاڑتی کھڑی ہوگئیں تو برہان کی ہوائیاں اڑ گئ جیسے وہ
آخری فیصلہ کررہی تھیں ۔۔۔
۔"ایک
بچے کا باپ تو میں تب بھی تھا جب آپ نے میرا اس سے نکاح کیا تھا تب کیوں نہ سوچا آپ
نے ،، تب تو دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دے کر بنا دیکھے بنا جانے کسی بھی ایری غیری سے
نکاح پڑھوا دیا اور اب " وہ چٹخ کر بولا ۔۔حورین کے ماتھے پر بل پڑے
ممی
نے رخ پھیر لیا
"
ہاں اسی لیے تو کہہ رہی ہوں اب تم ہر قسم سے آزاد ہو اپنے دل کی کرو " وہ دو ٹوک
بولی ۔۔۔برہان نے حورین کو دیکھا ۔۔۔
"
آپ جانتی ہیں میرے دل کی "
وہ بجھا بجھا سا بولا ۔۔۔پھر حورین کی طرف پلٹا
"
ایری غیری " وہ آنکھیں چھندیا کر اسے دیکھ رہی تھی
اوہ سوری " بے آواز لفظ ادا کیے حورین نے ابرو اچکائے ۔۔“
یس
سر مجھے لگتا ہے جو دینی کہہ رہی ہیں آپ کو ویسا ہی کرنا چاہیے ۔۔ ایک بچے کے باپ ہیں
آپ ساتھ میں کسی اور کو پسند بھی کرتے ہیں میں ایسے بٹے ہوئے انسان کے ساتھ نہیں رہ
سکتی " وہ تھیکے لہجے میں بولی ۔۔تو برہان سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
کیا چاہتی ہو ہیزل زہر کھا لو تمہارے عشق میں " وہ بےبس سا بولا۔۔“
اونہوں
نام تک تو یاد نہیں زہر کھائے گے " دینی
نے پھر سے لقمہ دیا ۔۔۔تو برہان نے ایک نظر حورین کودیکھا
"حورین
بخاری مجھے تم سے بےپناہ محبت ہے اب تم چاہے حورین ہو ،ہیزل ہو یا کسی کے عشق میں سسی
بنی ہو اگر تم نہ ملی تو میں بےکار ہوجاوں گا "
اس کا چہرا دیکھ کر حورین کو اس پر ترس آگیا ۔۔۔تو مسکرا کر دھیمے لہجے
میں دانی سے بولی ۔۔۔۔
۔"
دینی آپ جانتی ہیں مجھے کبھی ماں کی ممتا نہیں
ملی میں ہمیشہ تڑپتی رہی ،، اس ٹھنڈی چھاوں کے لیے ، مگر میں یہ چاہتی ہوں کہ میں کسی
کے لیے ٹھنڈی چھاوں بن جاوں وہ خوشبو دار آنچل
بن جاوں اور ممتا کا گھر بن جاوں میں بابی کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں تاعمر " وہ نظریں جھکائے بولی تو دینی کے چہرے پر
مطمئن مسکراہٹ رینگ گئ
Click the link below to download this novel in pdf.
Qafas by Muntaha Shah Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment