(Current Episode 1 to 10)
Saqoot by Hoorain Mohsin complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Hoorain Mohsin is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Saqoot by Hoorain Mohsin complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"می۔۔۔۔رال۔۔۔"
ایمن
ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ اس کا سانس بےقابو تھا۔ اس نے تقریباً دھاڑ سے اسٹڈی روم
کا دروازہ کھولا۔ اندر میرال پرسکون سی بیٹھی کتاب کے اوراق پلٹ رہی تھی۔میرال نے چونک
کر دیکھا ۔"کیا ہوا؟ ایسے کیوں گھبرا رہی ہو؟ پہلے سانس سیدھا کرو پھر بتانا۔"
میرال
نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے اسے دیکھا۔ایمن نے ہانپتے ہوئے کچھ کہنا چاہا مگر آواز
ساتھ نہ دے سکی ۔میرال نے فوراً آگے بڑھ کر اسے پانی پکڑایا۔چند گھونٹ پی کر ایمن نے
آہستہ سے کہنا شروع کیا: "وہ۔۔۔ کل واپس آ رہے ہیں۔۔۔"
ایمن
نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا جیسے باقی الفاظ خود میرال کے دل تک پہنچ جائیں۔
"کون؟"
میرال
نے الجھ کر پوچھا اور نگاہ دوبارہ کتاب پر جھکا دی۔"المیر بھائی۔۔۔"
یہ
نام جیسے کوئی قیامت کا نقارہ ہو —میرال کی انگلیاں کتاب پر جم گئیں اور پھر وہ کتاب
اس کے ہاتھ سے لڑھک کر فرش پر گر گئی۔دل کی دھڑکن ایک پل کو جیسے رک سی گئی۔ایسا لگا
جیسے اگلا سانس نہیں آۓ
گا ۔مگر اگلے ہی لمحے اس نے پوری طاقت سے خود کو سنبھالا۔
خشک
ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری اور سرد لہجے میں بولی:"تو۔۔۔؟ میں کیا کروں؟ یہ ان
کا اپنا گھر ہے، جب چاہیں آئیں۔مجھے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں۔"اس نے جھک کر کتاب
اٹھائی لیکن ہاتھ کی کپکپاہٹ واضح تھی ۔ایمن کی نظریں اس پر گڑی ہوئی تھیں —جوسب کچھ
کہہ رہی تھیں جو زبان نہیں کہہ پاتی۔میرال نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے مگر دو قدم
بعد ٹھہر گئی۔"وہ تمہارا بھائی ہے ا۔۔۔۔ایمن، تم خوشی مناؤ، تیاری کرو۔۔۔میراا
ن سے کوئی تعلق نہیں۔"
الفاظ
مضبوط تھے، مگر قدم لڑکھڑائے بغیر نہ رہ سکے۔میرال تیزی سے وہاں سے نکل گئی اور کمرے
میں پہنچتے ہی دروازہ بند کیادروازے سے ٹیک لگاتے ہی سارا حوصلہ زمین پر بکھر گیا۔سانس
سینے میں کہیں اَٹک گئی۔ہاتھ پاؤں یخ ہو گئے۔اور آنسو ضبط کی آخری لکیر توڑ کر بہنے
کو تیار تھے ۔
المیر—
صرف
ایک نام نہیں تھا،اس کی پوری دنیا تھا۔۔۔اور وہ دنیا لوٹ رہی تھی۔ ۔۔میر۔۔۔۔۔اس کے
لب سرگوشی کی صورت ہلے تھے ۔
دوپہر
کا دھندلا سا اجالا کمرے میں پھیلا ہوا تھا مگر فضا میں ایک بےنام سی گھٹن تھی۔ باہر
آسمان بھاری بادلوں سے لدا کھڑا تھا، جیسے برسوں سے روکے آنسو ایک ہی جھٹکے میں بہا
دینے کو بےتاب ہو۔ اچانک زور دار بجلی کی چمک نے پورے گھر کو لرزا دیا، اور اگلے ہی
لمحے بارش کی تیز پھوار کھڑکیوں سے ٹکرا کر ایک ہولناک شور پیدا کرنے لگی۔
ان
ہی آوازوں کے بیچ میرال کے اندر کا سناٹا ٹوٹا تھا—
اتنے
برسوں کا صبر، ایک پل میں ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا تھا۔
وہ
بےآواز روتی چلی گئی۔ آنسو اس کے چہرے سے یوں بہہ رہے تھے جیسے باہر برسنے والی بارش
اس کے اندر سے پھوٹ پڑی ہو۔
اسے
لگا اس کا دل درد کی شدت سے پھٹ جائے گا۔ سینہ زور سے دھڑک رہا تھا، سانس حلق میں اٹکنے
لگی تھی۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کرتی رہی مگر سانس سیدھا آنے کو تیار ہی نہ
تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے… وہ زندہ نہیں بچے گی۔
میرال
نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی مگر قدم لڑکھڑا گئے، اور وہ فرش پر گر پڑی ۔اگلے ہی لمحے
درد کی لہر اس کے گھٹنے میں دوڑ گئی۔ مگر دل کے درد کے آگے یہ درد بہت کم تھا ۔ باہر
بجلی پھر گرجی۔ اس گرج کے ساتھ ہی ایک یاد اس کے ذہن میں چمک بن کر لہری:
"مجھے
بارش بہت پسند ہے ایمن…"میرال نے بارش میں دونوں بازو پھیلا کر گول گول گھومتے
ہوۓ کہا ۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment