Naik bakht by Falakshah Complete novel


Naik bakht by Falakshah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Falakshah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Naik bakht by Falakshah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Falakshah All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

اما  ارےاو اما کیا ہے۔۔چیخ چیخ کرگلا کیوں پھاڑ  رہا ہے وہ غصے سے پاگل ہوتی بولی وہ عورت موٹی جسامت کی

مالک تھی بھدے سے نین نقوش کمان کی طرح پتلی بھنویں جو اس عورت کی چالاکی کی عکاسی کرتے تھے  ناک کے نتھنے غصے سے پھولے ہوئے تھے یقیناً وہ بہت غصے میں تھی

 ۔۔۔عام سےنین نقوش والے مردکو بولی جو اس کا بیٹا قدیرلشاری تھا۔۔۔۔امابھڑک کیوں رہی  ہے لگتا ہےآ ج بھی کوئی منحوس خواب دیکھ لیا ہے نورے نے جو تو اتنا غصےمیں ہے وہ خباثت سے ہنس کر بولا  ہاں کم بخت ماری نے  دیکھا ہے کہ تیری شادی ہو رہی ہے اور  تو اسی دن لڑک گیا ہے وہ اتنے سکون سے بولی مانو اس کے بیٹے کی نہیں کسی اور کی بات کر رہی ہو   

ہائے اماں تونے تو کہا تھا اس سے میری شادی کروائے گی اب مینے شادی ہی نہیں کرنی وہ حلق تر کر کے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے تجھے مجھے پتا ہے  ناس پیٹی نے  جھوٹ بولا ہے تاکہ اس کی جان چھوٹ جائے تجھ سے بڑی  بد بخت ہے اماں ایسے تو نا بول وہ جب سے ہمارے گھر آئی ہے تب سے ہمارے تو بخت کھل گئے ہیں بس بس زیادہ شوخا نا بن تو اس نے منہ بنا لیا ۔۔۔ میں بڑی تنگ ہوں اس سے فرزانا کے لئے جو لوگ آتے ہیں اس کو دیکھ کر لٹو ہو جاتے ہیں اور اسے پسند کر جاتے ہیں وہ نخوت سے بولی ابھی تو سترا سال کی ہے وہ آگے پتا نہیں کون سی قیامت لائے گی۔ منحوس بس تیری وجہ سے اسے رکھا ہوا ہے چھتیس سال کا ہو گیا ہے تو تجھ جیسے ناکارہ کو کوئی بیٹی نہیں دے گا ۔۔۔   چھوٹے سے ڈربے نما کمرے میں کاٹھ کباڑ کا سامان رکھا تھا وہاں وہ مصلے پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی باہر سے آنے والی آوازوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کا چہرہ  پر سکون تھا اس نے ہاتھ منہ پر پھیرے اور باہر نکلی اسے پتا تھا اس کی شامت آنے والی ہے روز کا معمول بن گیا تھا یہ تو اب اسے عادت سی ہو گئی تھی تیری عبادت کم بخت سارا دن بس مصلے پر بیٹھی نا جانے کون سے وذیفے کرتی رہتی ہے ۔۔۔پتا ہے نا قدیر کو بھوک لگتی ہے بہت اس ٹائم وہ آتا ہے ۔۔وہ اما مینے کھانا تو بنا لیا تھا میں بس ابھی گرم کر کے دیتی ہوں بھائی کو کھانا۔ کرم جلی مجھے اما نا بولا کر اماں نہیں ہوں تیری تجھے تو آدھی رات کو کوئی برستی بارش میں چھوڑ کر گیا تھا پتا نہیں جتنی معصوم اور پرہیزگار تو بنتی ہے اتنی شفاف ہے بھی کہ نہیں اور ایک اور بات قدیر تیرا بھائی وائی نہیں ہے تیرا منگ ہے سمجھیں ۔۔وہ خاموشی سے آنسو پیتی کھانا گرم کرنے لگی ۔۔۔نورے ارے او نورے فرزانا دندناتی ہوئی اس کے سر پر پہنچی تم نے میرا جوڑا کیو استری نہیں کیا۔۔۔ ہاں مہرانی اب پھوٹو بھی منہ سے ۔۔وہ آپی میں بس ابھی کر دیتی ہوں آپ لائیں مجھے دیں بس کھانا گرم کر کے پھر کرتی ہوں۔۔۔ہنہ جلدی کرنا مجھے پارٹی میں جانا ہے دوست کے گھر ۔۔۔ وہ کہتی وہاں سے چلی گئی تو وہ قدیر کو کھانا دینے اس کے کمرے میں گئی ۔۔ارے آؤ چڑیا کیسی ہو وہ خباثت سے ہنستے ہوئے بولا اور اس کی کلائی پکڑ لی کہاں چلی تھوڑی دیر تو بیٹھ جا میرے پاس ۔۔۔قدیر بھائی چھ چھوڑیں میرا ہاتھ وہ روتے ہوئے بولی ۔۔ارے ارے رو تو مت جانے من آنا تو ویسے بھی تجھے میرے پاس ہی ہے ۔۔وہ کہتا اس کی کلائی چھوڑ گیا تو وہ جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی ۔۔اپنے کمرے میں آکر دروازا بند کیا اور روتی ہوئی بیٹھ گئی ۔میرے اللہ جی مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں بس میرے سوہنے رب میری عزت کی حفاظت کرنا باقی سب پر میں صبر کر لوں گی میرے مالک میں اماں کو کیسے سمجھاؤں میں سچ بول رہی ہوں اگر  میری شادی ان سے ہوئی تو وہ مر جائیں گے پر انہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں پر اللہ جی آپ تو سب جانتے ہیں نا ۔۔۔وہ سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Naik bakht by Falakshah Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment