Rut badalny wali hai by Rushna Akhter
Short Scens
آ
ہاہا دروازہ کھولنے کی ہمت تو ہے نہیں آیا
بڑا مجھے دھمکیاں دینے والا ۔۔۔بات سنو بلونگڑے بریانی پارسل ہو گئی نا۔۔۔ چلو اب گھر
کا رستہ نا پو ۔ اس نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
یہ
بریانی میں اپنی پیارے ماموں اور ممانی کے لیے لایا تھا نہ کہ ان کی نکمی اولا کے لیے
اور تم نے یہ بلونگڑا کسے کہا ؟ ادھر بلال نے غصیلے لہجے میں کہا۔
یہ
تم نے نکمی کسے کہا ؟ وہ برابر بولی ۔
تمہارے ارد گرد کوئی اور ہے کیا؟ نہیں نا ۔ بلال نے فورا جوابی حملہ کیا
، بائیک کو لک لگائی اور چلا گیا۔ علیزے نے جھٹ سے دروازہ کھولا تا کہ اسے مزید سنا
سکے مگر وہ بائیک پر سوار ، ہاتھ ہلاتے ہوئے جا چکا تھا۔
اتنی دیر لگا دی۔ کون ہے ؟ اماں جو اتنی دیر سےرضائیوں کے کور چھانٹ
رہی تھیں کمر پر ہاتھ رکھے باہر چلی آئیں۔
کوئی نہیں تھا اماں ایسے ہی مانگنے والے آج کل زیادہ ہیں نا۔ وہ خوش ہوتے
ہوئے بولی۔
اچھا تو یہ مانگنے والے بریانی کب سے دینے لگے ؟ اماں نے بریانی منہ میں
ڈالتے ہوئے پوچھا۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی بریانی کے بر تن اور ذائقے نے پہچان کروادی
اور اماں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Rut badalny wali hai by Rushna Akhter Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment