(Current Part 4)
Shikayat nama by Abbsa Ali Shah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Abbsa Ali Shah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Shikayat nama by Abbsa Ali Shah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"یہ
لڑکا… یہ عام نہیں لگتا۔ اس کے اندر ایک چنگاری ہے، جسے اگر ہوا ملی تو شعلہ بن جائے
گی۔"
اس
کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ پھر اس نے سگریٹ زمین پر پھینک کر جوتے کے نیچے
کچلا اور بولا:
"وقت
آ گیا ہے… اسے پرکھنے کا۔"
اسی
شور شرابے میں اچانک پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی ہوئی قریب آن رکی۔ دو سپاہی اور ایک
حوالدار فوراً باہر نکلے۔
حوالدار
چیخا:
"اوے
کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟ ہاتھ روک!"
پولیس
والے لپک کر نوجوان کو جکڑ لیتے ہیں۔ وہ مزاحمت کرتا ہے مگر دو سپاہیوں کے مضبوط ہاتھوں
میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ لوگ شور مچانے لگتے ہیں:
"صاحب!
یہ لڑکا حق مانگ رہا تھا، مزدوری کی تھی!"
"اسے
چھوڑو، قصور اس کا نہیں!"
مگر
پولیس والوں کو کسی کی بات سننے کی فرصت نہیں۔ وہ نوجوان کو زور سے دھکا دیتے ہیں،
ہاتھ مروڑ کر ہتھکڑی پہنا دیتے ہیں۔
نوجوان
کی آنکھوں میں بےبسی، غصہ اور درد ایک ساتھ جھلکنے لگتا ہے۔ وہ چلّاتا ہے:
"میں
نے مزدوری کی تھی… میرا حق مانگا تھا…!"
پولیس
والے ہنستے ہیں اور اسے زبردستی جیپ میں بٹھا دیتے ہیں۔
جیپ
کے چلنے سے پہلے وہی شخص جو دور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، ہلکا سا مسکرایا اور بڑبڑایا:
"یہی
وہ لمحہ ہے… تقدیر نے خود اسے میرے راستے پر ڈال دیا ہے۔"
۔ راستے بھر وہ لڑکا بار بار دہراتا رہ
"میں
نے صرف مزدوری کا حق مانگا تھا… کوئی جرم نہیں کیا۔"
مگر
سپاہی ہنستے ہوئے کہتے:
"او
پتر! یہاں حق مانگنا سب سے بڑا جرم ہے۔"
تھانے
پہنچتے ہی حوالدار نے اسے زور کا دھکا دیا۔ وہ زمین پر گر گیا، کہنی چھل گئی۔ اندھیرا
سا کمرہ، دیواروں پر پرانے کیلنڈر اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ حوالدار نے ڈانٹ کر
کہا:
"ادھر
بٹھا دو اس بدماش کو، ابھی صاحب آئیں گے!"
نوجوان
ایک کونے میں پڑی پرانی چارپائی کے پاس بیٹھ گیا۔ پسینے میں شرابور، دل میں غصہ اور
آنکھوں میں آنسو چھپائے۔
اسی
وقت وہی پراسرار شخص جو دور سے سب کچھ دیکھ رہا تھا، آہستہ آہستہ تھانے میں داخل ہوا۔
اس کے قدم پُراعتماد تھے اور چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔ حوالدار نے فوراً اٹھ کر
سلام کیا۔
"صاحب!
آپ یہاں؟"
وہ
شخص بولا:
"ہاں…
یہ لڑکا میرا ہے۔ اسے میرے حوالے کر دو۔"
حوالدار
نے چونک کر پوچھا:
"صاحب!
یہ تو مارپیٹ کے الزام میں آیا ہے… اگر اوپر والوں کو پتا چلا تو؟"
وہ
شخص مسکرایا، جیب سے سنہری سگریٹ کیس نکالا، ایک سگریٹ سلگائی اور آہستہ آہستہ دھواں
چھوڑتے ہوئے بولا:
"اوپر
والوں کو پتا میں دیتا ہوں… تمہیں نہیں۔ تم صرف دروازہ کھولو۔"
حوالدار
نے ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں ایسا جلال تھا کہ مزید سوال کرنے کی ہمت
نہ ہوئی۔ اس نے فوراً ہتھکڑی کی چابیاں اٹھائیں اور لڑکے کے ہاتھ کھول دیے۔
نوجوان
حیران اور سہمے لہجے میں بولا:
"آپ
کون ہیں…؟ اور مجھے کیوں اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں؟"
وہ
شخص دھیرے سے قریب آیا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹے،
تمہیں ابھی کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں… بس اتنا جان لو کہ قسمت نے تمہیں میرے راستے
پر ڈال دیا ہے۔"
پھر
وہ پولیس والوں کی طرف مڑا اور تیز آواز میں حکم دیا:
"لڑکا
میرے ساتھ جا رہا ہے۔ اب یہ تھانے کی دیوار کبھی نہیں دیکھے گا!"
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link (All Episodes)
Online Reading (All Episodes Links)
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment