Rakaposhi by Fatima Tales Part 1 complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Fatima Tales is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Rakaposhi by Fatima Tales Part 1 complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Fatima Tales All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
جونی کا لہجہ یکدم بدل گیا تھا۔
فون کان سے لگائے وہ کسی سے خفیہ
انداز میں کہہ رہا تھا ۔
" یار، آج صرف پچاس لڑکیاں شیخ کو بھیجنی ہیں۔ اُن میں سے رُباعہ کا نام نکال دے، تھوڑی عیاشی ہم بھی کر لیں۔ آخر اتنی محنت لگی ہے اس کو جال میں پھنسانے میں "
وہ ہنس رہا تھا۔ آواز میں وحشت بھری لالچ تھی۔
لیکن جونی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ
پچھلے دروازے سے آتی ہوئی رُباعہ سب سن چکی تھی۔
اُس کے قدم زمین میں گڑھ گئے، چہرے کا
رنگ اُڑ گیا، آنکھوں سے آنسو جیسے پتھر بن کر بہہ نکلے۔
اُس لمحے اُس نے صرف ایک بات سمجھی —
محبت نہیں، یہ سوداگری تھی
یونی سیکس واشروم کی عمارت دو دروازوں
والی تھی
ایک سامنے کی جانب، جہاں سے رُباعہ
گئی تھی،
اور دوسرا پچھلی طرف، جہاں سے وہ واپس آئی۔
شاید یہی ایک موڑ اُس کی زندگی بدلنے والا تھا۔
جونی فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے
اپنے اردگرد کا ہوش کھو چکا تھا،
اُسے یہ اندازہ بھی نہ ہوا کہ پیچھے
سے آتی وہ لڑکی
جس کے لیے وہ “محبت” کا ڈھونگ رچا رہا
تھا،
اُس کی ہر بات سن چکی ہے۔
رُباعہ کے قدم جیسے زمین پر جم ہی گئے
سانسیں تیز، آنکھوں سے بہتا ہوا یقین — اور زبان سے بمشکل نکلا ایک نام
"ج۔۔۔ جونی۔۔۔" آواز کپکپاہٹ سے
لبریز تھی۔
جونی چونک کر پلٹا۔ "روبی! تم...؟" وہ ہکلایا۔
رُباعہ کے ہاتھوں سے بیگ زمین پر گر
پڑا۔
اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں، آگ تھی۔
"تم نے مجھے دھوکہ دیا کیوں؟"
وہ اُس کی سمت بڑھی ، ہر قدم کے ساتھ اُس کی سانسیں بھاری ہوتی جا رہی تھیں۔
" روبی تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، میری
بات سنو..."
جونی کی آواز میں جھوٹ کی لرزش تھی ۔
مگر اُس کے الفاظ اب رُباعہ کے دل تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔
"بکواس بند کرو " رُباعہ کا ضبط
ٹوٹ چکا تھا۔
"کیا کیا نہیں کیا میں نے تمہارے لیے — اپنے والدین سے لڑ کر دربدر ہوئی، ماں نے امریکہ بھیجا، میں نے یہاں آ کر ماموں سے جھگڑا کیا… اور تم نے کیا دیا؟ دھوکہ؟ "
وہ اُس کے گریبان پر جھپٹی، چہرہ آنسوؤں سے تر تھا، مگر آواز میں آگ دہک رہی تھی۔
"روبی... اپنا ہاتھ ہٹاؤ، ورنہ..." جونی غرایا ۔
" ورنا کیا کرو گے؟ " اُس نے چیختے
ہوئے کہا۔
"میں نے تم سے تین سال محبت کی، بےغرض، بےلوث، سب بھلا کر۔ اور تم نے؟ تم نے مجھے بیچ دیا "
" چٹاخ " جونی کا ہاتھ اچانک اُٹھا
—
اور ایک زوردار تماچہ رُباعہ کے چہرے پر آ لگا۔
وقت جیسے ٹھہر گیا۔ رُباعہ کا ہاتھ
اپنے گال پر تھا،
آنسو خشک ہو گئے تھے۔
"تم مجھ سے محبت کرتے تھے جونی… تم میرے
ساتھ ایسا نہیں کر سکتے..."
اُس کی آواز اب ایک زخم تھا جو چیخ رہا تھا۔
جونی کے لبوں پر تمسخر اُبھرا۔
" محبت؟ تم اُس فیس بک والی محبت کی بات
کر رہی ہو؟
جہاں میں نے تمہاری ایک تصویر کے نیچے
لکھا خوبصورت لگ رہی ہو اور تم نے فوراً فرینڈ ریکویسٹ قبول کر لی؟ مطلب ترسی ہوئی
تو تم تھی نہ یہاں ایک لڑکے نے ریکوسٹ بھیجی وہاں تم جیسی لڑکیاں بک گئی
اگر یہ محبت ہے تو لعنت ہے تم جیسی
لڑکیوں پر —
جو لڑکوں کی اٹینشن کے لیے ترستی ہیں "
وہ طنز سے ہنسا، آواز زہر آلود تھی۔
"چھوڑ دو مجھے جونی… پلیز جانے دو " رُباعہ اُس کے بازو پر ناخن گاڑتے ہوئے چیخی۔
"چھوڑ دیں گے، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ " جونی نے سفاک مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے چہرے کے قریب آتے ہوئے کہا۔ اُس کی آنکھوں میں خباثت ناچ رہی تھی۔
" تم مر جاؤ، جونی… تم مر جاؤ " رُباعہ نے چیخ کر اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔
اچانک، سامنے بیٹھا البرٹ جو گاڑی چلا رہا تھا۔ گھبراہٹ میں پیچھے دیکھنے
لگا۔
" جونی ہمارے پیچھے گاڑیاں لگ گئی ہیں… کون ہیں یہ؟ اتنی ساری گاڑیاں کیوں آ رہی ہیں؟ "
جونی نے بیک ویو مرر میں نظر ڈالی ، پیچھے درجنوں ہیڈلائٹس ایک قطار میں تیزی سے اُن کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
ہر گاڑی کی لائٹ سڑک پر روشنی کی چمکدار لکیریں کھینچتی جا رہی تھی۔
" ابے تیز بھگا یہ سب ہمارے پیچھے ہی آ
رہے ہیں "
جونی کی آواز میں خوف اور غصہ دونوں شامل تھے۔
پیچھے کی سیٹ پر بیٹھی رُباعہ نے
لرزتے ہوئے شیشے سے باہر جھانکا۔
ہیڈلائٹس کے دھندلے دھبوں کے بیچ اُسے
ایک گاڑی پہچانی ہوئی لگی — وہ دُراب کی گاڑی تھی۔
اُس کے ساتھ ڈینیئل کی گاڑی بھی ، جو مسلسل فاصلہ کم کر رہی تھی۔
" اللہ… پلیز، دُراب کو میرے پاس بھیج
دے "
رُباعہ نے ہچکیوں کے درمیان دل ہی دل
میں فریاد کی۔
" پلیز، اللہ، وہ آ جائے… وہ مجھے بچا لو ۔ دُراب پلیز مجھے بچا لو "
دُوسری طرف دُراب کا چہرہ تپش میں سرخ
ہو رہا تھا۔
وہ اسٹیئرنگ سختی سے تھامے جونی کی
گاڑی کو نظر سے اوجھل ہونے نہیں دے رہا تھا۔
ساتھ والی لین میں ڈینیئل کی گاڑی بھی پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔
" وہ آگے والی بلیک کار… وہی ہے "
ڈینیئل نے ریڈیو پر دُراب کو اطلاع دی۔
" میں بائیں طرف سے کٹ لیتا ہوں، تم دائیں سے گھیر لو"
" کاپی ڈیٹ " دُراب نے انجن کو فل
تھروٹل پر ڈالا۔
سڑک پر گاڑیوں کا شور، گولیوں کی آواز اور بریک لائٹس کی جھلکیاں ایک جنگ کا منظر پیش کر رہی تھیں۔
" اوہ شِٹ، جونی وہ فائر کر رہے ہیں
"
البرٹ کے ہاتھ کانپ گئے۔ ایک گولی
دروازے کے پاس سے گزری ۔
" گاڑی نہیں روکنا زِگ زیگ چلا، سمجھا؟
"
جونی نے چلاتے ہوئے رُباعہ کے بالوں کو جکڑ لیا۔
"آہہہ… چھوڑ دو، جونی "
رُباعہ کی چیخ رات کی فضا میں لرز اٹھی۔
" اگر میں پکڑا گیا، تو تمہیں بھی زندہ
نہیں چھوڑوں گا "
اُس نے غصے سے اُس کا سر شیشے پر دے
مارا۔
شیشہ ٹوٹا، اور رُباعہ کے ماتھے سے
خون بہنے لگا۔
" آہہہہہہہہ " رُباعہ اپنا سر پکڑتے چیخ پڑی ۔
" بکواس بند کرو " جونی دھاڑا، اور اُس کے چہرے پر زور دار تھپڑ مارا۔
اُسی لمحے ایک اور گولی نے گاڑی کے
پچھلے ٹائر کو پھاڑ دیا۔
گاڑی جھٹکے سے لڑکھڑائی، سڑک پر چیختے
ٹائروں کی آواز گونجی۔
دُراب اور ڈینیئل کی گاڑیاں اب بالکل اُن کے پیچھے تھیں۔
جونی نے قابو پانے کی کوشش کی، مگر گاڑی ڈولتی ہوئی ایک طرف جھکنے لگی۔
دُراب نے زور سے بریک لگائے، دل جیسے سینے سے نکلنے کو تھا۔
" رُباعہ " اُس کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
ایک لمحے کے بعد —
سڑک پر گولیوں، بریکوں اور چیخوں کی
آوازیں مِل کر ایک قیامت سا منظر بنا گئیں۔
رات خاموش تھی، مگر فضا میں صرف ایک نام گونج رہا تھا —
"رُباعہ…"
Rakaposhi by Fatima Tales Part 1 is available in just
online reading.
Rakaposhi by Fatima Tales Part 1
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment