Tabah shuda sitary by Nataliya Gul
Short Scens
غزال:
(تقریباً تیس سالہ) فرش پر قالین کے ایک ٹکڑے پر بیٹھی ہے۔ اس کے سیاہ گھنگریالے بال
گندھے ہوئے ہیں مگر چند لٹیں پیشانی پر بکھری ہوئی ہیں۔ اس نے سیاہ رنگ کا ایک پرانا
سویٹر پہنا ہوا ہے۔ اس کی آنکھیں، جن میں اکثر ایک جنگلی چمک ہوتی ہے، اس وقت گہری
اور مرکوز ہیں۔ اس کے سامنے ایک موٹی، لیدر باؤنڈ نوٹ بک ہے جس کے صفحات پر بے ترتیب
اور جذباتی لکھائی بھری ہوئی ہے۔ ·حیدر: (انیس سال) دیوار سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھا
ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک سستا سا ایکوسٹک گٹار ہے۔ اس کا چہرہ صاف، نرم اور شکنوں سے
پاک ہے۔ اس نے جینز اور ایک سادہ سفٹ شرٹ پہنی ہوئی ہے۔ وہ غزال کی طرف دیکھ رہا ہے،
اس کی ہر حرکت کو پرکھتا ہوا۔
(منظر
کا آغاز)
گٹار
کا ایک ادھورا، بے ترتیب سُر ہوا میں گونجتا ہے۔ حیدر نے ایک تار چھیڑا ہے اور اب انگلیاں
بے مقصد گٹار کے تاروں پر پھیر رہا ہے۔ خاموشی اسقدر گہری ہے کہ باہر ٹریفک کی ہلکی
ہلکی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔
حیدر:
(آواز میں ایک جھجھک، ایک تجسس) تم... تم ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں؟
Click the link below to download this novel in pdf.
Tabah shuda sitary by Nataliya Gul Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment