Maharnaz afsana by Shaher Bano
Short Scens
مہر
ناز 26 سالہ لڑکی اپنی محنت قابلیت ایمانداری اور بہادری کی وجہ ، سے سب سے کم عمر جنرل تھی اور ہیڈ کیپٹن عثمان
کی پسندیدہ آفیسر تھی۔ رنگ گندمی نین نقش تیکھے اور حوصلہ بلند۔
ابا مان گئے جنرل ؟؟
سر انہیں تو ماننا ہی تھا
آپ اتنا سامان لے کر کہا جا رہی ہیں؟؟
سر مشن کی تیاری کر کے آئی ہوں
اجازت نامہ لائی ہیں نا؟
(کہیں اندر ہیڈ کیپٹن عثمان بھی جانتے تھے کہ وہ نہیں لا پائے گی)
(سامان سے ٹٹول کر ایک فائل کیپٹن عثمان کی طرف بڑھا دی) سر
کیپٹن عثمان کے ساتھ ساتھ جنرل عدیل کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا
جنرل
کیا آپ جانتی ہیں ہم کیا کرنے والے ہیں؟
اس بار جنرل عدیل بولے تھے
ہم
دشمن کے مورچے میں گھسیں گے اور اسے تباہ کر کے لوٹیں گے سر انشاءاللہ!
ایک
ہی سانس میں بولی تو سننے والوں کو لگا کسی پکنک کا پلان ہے۔
اور
اس پکنک کے سامان کا کیا ۔جنرل عدیل نے اس کے سامان کی طرف اشارہ کر کے کہا
یہ واپس آ کے استعمال کر لیں گے سر۔ ابا کی تسلی کے لیے لانا پڑا
انشاءاللہ جنرل ...
آپ مجھے جنرل کہہ سکتی ہیں مس
جی جنرل۔۔
اس بار ہیڈ کیپٹن عثمان نے مہرو کو مخاطب کیا مہرو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مشن آج تک کا سب سے خطرناک مشن ہوگا ہمارے کئی ساتھی وہاں گئے اور واپس نہیں آئے جانتی ہیں نا؟؟
جی میں نے اپنا آخری خط ابا کے نام لکھ دیا ہے وہ میرے سامان میں ہے اگر میں واپس نہ آئی تو آپ ابا کو دے دیجئے گا اور ایک خط آپ کے نام بھی لکھا ہوا ہے ہو سکے تو اسے بھی لے لیجئے گا، سر!
آپ کا جذبہ، ہمت، حوصلہ اور بے باکی مجھے ہر بار کی طرح چونکا رہا ہے جنرل
سر،
آپ سے ہی ٹریننگ پائی ہے
Click the link below to download this novel in pdf.
Maharnaz afsana by Shaher Bano Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment