Tooty huy lamhy by Zari Ejaz complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Zari Ejaz is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Tooty huy lamhy by Zari Ejaz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Zari Ejaz All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
“یار
بس ایک سائن ہی تو کرنا ہے…
کام مکمل ہو یا نہ ہو، پیسے پورے ملیں گے۔
ٹینڈر کی فائل ہے، کوئی بڑا مسئلہ نہیں…”
ہما
کے ہاتھ سے گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
کال
ختم ہوئی تو ہما نے خود کو سنبھال کر پوچھا،
“کس سے بات ہو رہی تھی؟
اور یہ سائن کس چیز کے ہیں؟”
کامران
نے بے پرواہی سے کہا،
“کچھ نہیں… آفس کا کام تھا۔
ٹینڈر کی بات ہو رہی تھی، بس رسمی سا سائن ہے۔”
ہما
کی آواز میں لرزش آ گئی۔
“کامران… بغیر کام کے سائن؟
کیا تم جانتے ہو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
سڑکیں ٹوٹتی ہیں، لوگ گالیاں دیتے ہیں،
اور بدنامی ہمارے نام سے جڑ جاتی ہے!”
کامران
نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
“ہما، تم بات کو بڑھا رہی ہو۔
سب یہی کرتے ہیں، یہ سسٹم ہی ایسا ہے۔”
ہما
نے مضبوط لہجے میں کہا،
“نہیں!
میں اس گھر میں وہ پیسہ نہیں آنے دوں گی
جو کسی کی جان، کسی کی محنت، کسی کے حق سے کمایا گیا ہو۔
اگر تم نے یہ کام کیا تو…
میں یہ گھر چھوڑ دوں گی۔”
کامران
چونک گیا۔
“یہ کیا باتیں کر رہی ہو؟
اتنا
غصہ کیوں؟
میں کچھ غلط نہیں کروں گا، ٹھیک ہے؟
پکا وعدہ۔”
ہما
نے گہری سانس لی۔
“پلیز… وعدہ مت توڑنا۔”
اس
رات ہما نے سکون کا سانس لیا۔
اسے لگا شاید اس نے بروقت روک لیا ہے۔
لیکن
ایک ہفتے بعد…
کامران
آفس میں تھا۔ ہما صفائی کرتے ہوئے اچانک لاکر کے سامنے رک گئی۔ دل نے عجیب سا اشارہ
دیا۔ لاکر کھولا تو اندر لفافوں میں بندھی رقم دیکھ کر اس کے قدم تلے زمین نکل گئی۔
یہ
وہی پیسہ تھا…
جس کا وعدہ نہ کرنے کا کیا گیا تھا۔
ہما
شام تک دروازے کی طرف دیکھتی رہی۔
کامران آیا تو اس نے سیدھا سوال کیا،
“یہ پیسے کہاں سے آئے ہیں؟”
کامران
نے نظریں چرائیں۔
“بس… پرانی سیونگ ہے۔”
ہما
کی آواز کانپنے لگی۔
“سچ بولو، کامران۔
اب جھوٹ مت بولو۔”
کامران
کا ضبط ٹوٹ گیا۔
“ہاں!
میں نے سائن کیے ہیں!
کیونکہ اس گھر کو چلانے کے لیے
صرف سچ کافی نہیں ہوتا!”
ہما
کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“تو پھر میرا یہاں رہنا بھی کافی نہیں۔
میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا…
میں
اس گناہ میں شریک نہیں بنوں گی۔”
وہ
خاموشی سے کمرے میں گئی،
چند کپڑے لیے،
اور دروازے پر رُک کر بس اتنا کہا،
“یہ گھر اب پیسوں سے بھرا ہے…
مگر سکون سے خالی۔”
دروازہ
بند ہوا،
اور ایک رشتہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹنے لگا۔
“بیٹا…
مجھے معاف کر دو… میں تمہیں بچا نہیں سکی… نہ تمہارے خواب… نہ تمہاری معصومیت…”
کامران
کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
مصطفیٰ…
مجھے بھی معاف کر دو… میں نے محبت کی جگہ چیزیں دیں… وقت نہیں…”
اس
لمحے دونوں نے پہلی بار محسوس کیا —
رشتے کبھی یکدم نہیں ٹوٹتے…
وہ آہستہ آہستہ ٹوٹتے ہیں… وہاں… جہاں بات کہنی چاہیے مگر چپ رہ جایا جاتا
ہے۔
باہر
رات مزید گہری ہو گئی —
اور اندر زندگی… سانسوں سے بندھی رہی۔
صبح
کی ہلکی روشنی شیشے سے پھسل کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ اسپتال کے کمرے میں خاموشی
بسی ہوئی تھی — مشینوں کی آواز بھی جیسے مدھم پڑ گئی تھی۔ مصطفیٰ کی سانسیں دھیمی…
تھکی ہوئی… مگر زندگی اب بھی اس کے جسم سے جڑی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر
اندر آیا، رپورٹس دیکھیں، پھر نرم لہجے میں بولا:
“شکر
کریں… وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ مگر اسے وقت… توجہ… اور ساتھ چاہیے۔ یہ صرف جسمانی زخم
نہیں… یہ اندر کا زخم ہے۔”
ہما
نے گہری سانس لی — جیسے برسوں بعد کسی نے اس کے دل سے بوجھ اٹھایا ہو۔ اس کی آنکھوں
سے آنسو بہے، مگر اس بار یہ آنسو کمزوری کے نہیں… شکر کے تھے۔
کامران
کرسی سے اٹھا، مصطفیٰ کے سر پر ہاتھ رکھا — بہت آہستہ… بہت احتیاط سے… جیسے وہ پہلی
بار باپ بن رہا ہو۔
“بیٹا…
اب سب بدل جائے گا۔ میں بدلوں گا… ہم بدلیں گے۔”
مصطفیٰ
نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ نگاہوں میں بوجھ بھی تھا… گلہ بھی… لیکن کہیں اندر ایک
ٹوٹی ہوئی امید ابھی زندہ تھی۔
ہلکی
سی آواز اس کے لبوں سے نکلی:
“بابا…
بس… مجھے چھوڑ کر مت جانا…”
کامران
کی روح کانپ گئی۔
“نہیں
بیٹا… اب کبھی نہیں… اب میں تمہارے ساتھ ہوں… ہر لمحہ… ہر قدم پر…”
ہما
نے دونوں کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے —
اور پہلی بار… تینوں ایک ساتھ تھے۔
باہر
دن پوری طرح جاگ چکا تھا — مگر ان کے اندر ابھی سفر باقی تھا۔
یہ
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی…
اب
رشتے کو دوبارہ جوڑنے کا وقت تھا —
Click the link below to download this novel in pdf.
Tooty huy lamhy by Zari Ejaz Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment