Sabhi chahten mere naam ker by Yumna Talha complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Yumna Talha is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Sabhi chahten mere naam ker by Yumna Talha complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Yumna Talha All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
"اس گھر کے کچھ قواعد ہیں۔۔۔ تمہارا پہلے جب بھی آنا ہؤا
مختصراً وقت کے لیے ہی آنا ہؤا لیکن اب تم مستقل یہاں سکونت اختیار کر چکی ہو لہذا
تمہیں اس گھر کے اصولوں کے بارے میں پتہ ہونا چاہئیے"، ہر احساسات سے عاری
لہجہ۔ نہال خاموشی سے انہیں سنتی رہی بلکل ایسے جیسے کوئی نیا بچہ اسکول کی ہیڈ
مسٹرس سے قواعد وضوابط سنتا ہے۔ انکی بے اعتنائی اس کے دل کو اندر ہی اندر کاٹ رہی
تھی۔
"مجھے سخت برا لگتا ہے جب رات بارہ بجے کے بعد کوئی کمرے سے نکلے۔۔۔ اس کے علاؤہ کھانا سب کے ساتھ کھانا ہے۔ جو وقت ہے اس پر حاظر ہوجانا ہے۔ لیٹ نائٹ تفریح اس گھر میں ممنوع ہے۔۔۔ بلا وجہ کی چیخ پکار، شور آواز سے مجھے سر میں درد ہوتا ہے۔ اپنی چیزوں کا خیال تم خود رکھو گی۔ تمہارا ہر کام، شمع موجود ہے، کر دیا کرے گی لیکن مجھے صفائی ستھرائی چاہیے۔ میس میں گھر میں برداشت نہیں کر سکتی۔ تو تم خود بھی اس بات کا دھیان رکھو گی اور۔۔"،
"مام! کیا کھڑے کھڑے آج ہی پورا کورس پڑھا دیں گی۔"،
الینا اگر بیچ میں نہ روکتی تو شاید نہال گھبراہٹ سے زمین میں ہی ڈھس جاتی۔
"مانگ لی دعا اپنے منگیتر کے لیے؟ مجھے تو لگا تھا ابھی مزید
دیر لگے گی۔۔۔ جان سکتا ہوں کیا کیا مانگا ہے تم نے؟" وہ کرخت لہجے میں اس سے
مخاطب ہؤا تھا۔ اس کا کبیدہ چہرا نہال سے چھپا نہیں تھا۔ دل ڈوب کر ابھرا تھا پر
بدلے میں نہال نے سپاٹ سا انداز اپنایا تھا۔
"تم
سے مطلب؟ اور ہٹو راستے سے۔ تماشا مت بناؤ۔ گھر میں سب موجود ہیں!" وہ کہہ کر
رکی نہیں اور کمرے کا دروازہ پار کر دیا۔ فرہاد کی بے بسی عروج پر تھی۔
"رکو
تم! بات جب تم سے کر رہا ہوں تو جانے کی ضرورت نہیں۔ جب تمہیں معلوم تھا کہ عدنان
سے بات طے ہے تو بتا نہیں سکتی تھیں؟ میرے جزبات کے ساتھ کھیل کر کیا حاصل ہؤا
تمہیں!" وہ جارہانہ انداز میں آگے بڑھا اور اسکا راستہ روک دیا۔
"تم
مجھ سے پوچھنے سے پہلے مامی سے کیوں نہیں پوچھتے؟ کیا ان کا فرض نہیں تھا تمہیں
بتانا؟ کیا میں اچھی لگتی سب کو بتاتی پھرتی اپنے رشتے کے بارے میں؟ اور تم کس
جزبات کی بات کر رہے ہو؟" وہ فرہاد کے تیور دیکھ کر مزید مشتعل ہوئی۔
"میں
نے تم سے کب شادی کا وعدہ کیا تھا؟ میں نے لبوں سے تو دور نظروں سے بھی کبھی اس
بات کا اشارہ تک نہیں دیا کہ مجھے تمہارا پروپوزل قبول ہے۔ لہذا اس بارے میں بات
مت کرنا!" وہ بے یقینی سے نہال کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں زرا جو جھول
ہوتا۔ زرا جو جھجھک ہوتی۔ فرہاد کے چہرے کے تاثر اس کے اندرونی خلفشار کی ترجمانی
کر رہے تھے۔ وہ اپنے جزبات پر قابو نہیں کر پا رہا تھا۔ کبھی ایک دم مشتعل ہو جاتا
تو دوسرے لمحے مکمل اداسی چھا جاتی۔
"اگر
عدنان نہیں ہوتا تو کیا تم میرا پروپوزل قبول کرتیں نہال؟" وہ بے بسی سے گویا
ہؤا پر لہجہ اب بھی سخت تھا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Sabhi chahten mere naam ker by Yumna Talha
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment