Gawah novellette by Anoosha Aarzoo complete novel


Gawah novellette by Anoosha Aarzoo complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Anoosha Aarzoo is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Gawah novellette by Anoosha Aarzoo complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Anoosha Aarzoo All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

”اتنا بھی کیا ضروری ہے آج کے آج جانا۔ آپ کو کوئی کام ہے تو آپ کر آئیں پھر دو دن بعد مجھے لے جائیے گا۔“ اس کے ناک چڑھا کر فرمائش کرنے پر دوسری طرف میرین نے موبائل کو کان سے ہٹا کر گھورا۔ اتنی دیر سے جو وہ بتا رہا تھا اس کا یہ اثر ہوا تھا۔ وہ اپنا سر دیوار میں کیوں نہیں مار لیتا۔ کم سے کم کچھ ہوتا تو۔

”محترمہ میں آپ کا ڈرائیور نہیں ہوں۔ جو آپ کو آپ کی مرضی کے مطابق لانا لے جانا کروں گا۔ ناکو نے کہا ہے کہ آپ کو خود چھوڑنے آؤں اسی لیے لے جانے پر مجبور ہوں۔ ورنہ کراچی سے بہت سی پبلک ٹرانسپورٹ ہیں جو کوئٹہ تک جاتی ہیں۔“ میرین نے تحمل سے اس کی طبیعت صاف کی جس پر نگین کا پارہ چڑھ گیا۔ ”آخر سمجھتا کیا ہے یہ خود کو۔ آیا بڑا کہیں کا گلفام جس کے ساتھ میں جانے کے لیے مر رہی ہوں۔“ نگین نے دل میں اسے خوب سنائی لیکن جب جوابی کاروائی کی تو کچھ یوں کہا۔

”اچھا۔ ٹھیک ہے۔ اس بات کا جواب اب میں آپ کے ناکو سے ہی طلب کروں گی۔ مجھے آپ اپنے اوقات بتا دیں۔“ جس طرح چبا چبا کر نگین نے کہا تھا انوشہ کہ حلق میں نوالہ پھنس گیا۔ اس کی آخری بات تو تابوت کی آخری کیل تھی۔ ایسا لگتا تھا پوچھ رہی ہو آپ کی اوقات کیا ہے۔ دوسری طرف اس کا جواب سن کر میرین نے بے ساختہ لب بھینچے اور اپنے غصے پر قابو کیا۔ وہ بچہ نہیں تھا جو اس کے آخری جملے کو سمجھ نہ پاتا۔ بعد میں اس کی طبیعت صاف کرنے کا مصمم ارادہ کرتا وہ اسے نکلنے کا وقت بتانے لگا اور کچھ بھی سنے بغیر کال بند کر دی۔

”یہ ایس پی اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے یار۔میں اس کا قتل کردوں گی۔“ نگین نے فون کی ٹوں ٹوں سن کر حیرت سے موبائل سامنے کیا اور دانت پر دانت جما کر کہا۔ جیسے دانتوں کے بیچ میں میرین ہو۔

”کیا ہو گیا ہے۔ ایک تو وہ بیچارہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر تمہیں چھوڑنے جا رہا ہے جبکہ یہ اس کی ذمہ داری بھی نہیں ہے اوپر سے تم اسی کو باتیں سنا رہی ہو۔“ انوشہ نے عام سے انداز میں کہا۔ اس وقت وہ نگین کو سب سے زیادہ بری لگی۔

”انوشہ تم اپنی دوست کو چھوڑ کر اس بںدر کی سائیڈ لے رہی ہو؟“ نگین نے ازحد افسوس سے کہا۔ بندر لفظ پر ایک بار پھر اسے پھندا لگا۔ وہ کھانستے کھانستے دہری ہو گئی۔

”تم پاگل ہو؟ اتنا خوبرو، وجیہہ ایس پی تمہیں بندر لگتا ہے؟ بہن کیوں تم میری محنت پر پانی پھیر رہی ہو؟ اس سے اچھا میں کیا لکھتی اسے“ انوشہ نے حیرت سے کہا۔ اس کا تو دل ہی بھر آیا تھا میرین کے حوالے سے اس کے خیالات سن کر۔

”بکو مت۔ مجھے ابھی نہیں جانا یار۔ ایک دن ابھی بھی باقی ہے میرا۔ یہ آدمی مجھے سکون سے جینے کیوں نہیں دیتا؟“ وہ جزباتی ہو رہی تھی۔ انوشہ اور لائبہ کے ساتھ اس نے بہت مزے کیے تھے۔ اب اپنی دوستوں کو چھوڑ کر جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔

”زیادہ جزباتی مت ہو۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میرین بھائی نے تمہیں توپ کے آگے کھڑا کر دیا ہو۔“ انوشہ نے آنکھیں گھمائی۔ نگین نے اسے ناراضگی سے دیکھا۔

پھر چھوٹی چھوٹی باتوں کے درمیان کھانا کھا کر وہ دونوں ریستوران سے نکلیں۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Gawah novellette by Anoosha Aarzoo Online Reading


If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment