Tail ke cheenty Ansoun ke qatry afsana by Ali Mustafa
Short Scens
امجد دفتر سے تھکا ہارا آیا تھا اور پیدل سفر کرنے کی
وجہ سے پسینے میں شرابور تھا۔ مگر اپنی بیوی کو سر کھولے ہوئے اور کالی زلفوں کو
لہراتے ہوئے دیکھا تو آگ بگولا ہو گیا اور غصے سے کہنے لگا:
"نہ سر میں دوپٹہ ہے، نہ جسم ڈھکا ہوا ہے۔ اور کہاں ہے تمہارا لال جسے اپنی ماں کی عزت کا ذرا برابر بھی خیال نہیں؟"
شگفتہ کا شرم کے مارے منہ نیچے ہو گیا اور شرمندہ ہو کر
نرملی آواز سے آنکھیں نیچی کر کے کہنے لگی:
"وہ بس جلدی جلدی میں ذہن سے نکل گیا، اور ہاں میں نے اجمل کو بلایا تھا مگر اس نے جواب ہی نہیں دیا۔"
امجد اپنا غصہ پیتے ہوۓ
لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے بولا:
"یہ
تو شکر کرو میں تھا دروازے پر، کوئی اور ہوتا تو کیا کرتی؟"
Click the link below to download this novel in pdf.
Tail ke cheenty Ansoun ke qatry afsana by Ali Mustafa
Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment