Umeed-e-Sahar by by Sana Ejaz Complete novel


Umeed-e-Sahar by by Sana Ejaz complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Sana Ejaz is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Umeed-e-Sahar by by Sana Ejaz complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Sana Ejaz All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

رُوحاب بہت معصوم اور سادہ سی ہے لوگ اُس کا بہت جلد فائدہ اُٹھا لیتے ہیں , زَریاب اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

اسی لیے میں اُسے چالاک اور سازشی لوگوں سے بچا کر اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ,

مگر زَریاب اب حالات ایسے نہیں رہے , علی بھی اُس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

میں حالات سے لڑ لوں گا اور اپنی بیوی کی ہر غلطی کو سب سے چھپا کر اُسے معاف کر کے تاحیات اپنے ساتھ رکھوں گا,  زَریاب جذباتی ہو گیا۔

اچھا جب تم نے خود رُوحاب کو بابا جی کے پاس جاتے دیکھ لیا تھا , علی نے اُس کی طرف دیکھا پھر اُس وقت یہ اقرار کر لیتے کہ وہ یہ سب میری مرضی سے کر رہی ہے ۔

علی میں ایسا ہی بولنے والا تھا مگر وہ آئرہ جو مجھ سے پہلے ہی سارا سچ جانتی تھی بول پڑی ۔ زَریاب نے غصے سے میز کو ہلکی سی ٹھوکر ماری۔

تو مجھے خاموش رہنا ہی مناسب لگا۔

وہ تمھاری خالہ کی بیٹی آئرہ جس سے آنٹی تمھاری شادی کروانا چاہتی ہیں؟ علی نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا ۔

ہاں وہی مصیبت اُس نے دانت پیس لیے ۔

وہ تو مجھے بہت تیز لگتی ہے , علی نے سامنے دیوار پر لگی بڑی سی گھڑی کی طرف دیکھا۔

ہاں بہت , زَریاب کی پریشانی اُس کے چہرے پر واضح تھی ۔

زَریاب یار فکر نہ کر کوئی حل ڈھونڈتے ہیں , علی نے اُسے کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور سامنے میز پر رکھا جوس کا گلاس اُس کی طرف بڑھا دیا۔

کچھ دیر پھر خاموشی چھائی رہی۔

دیکھو یار میں تمھیں وہی مشورہ دوں گا جو اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں آ رہا ہے, علی نے اپنے ساتھ بیٹھے زَریاب کی طرف دیکھا۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد علی پھر گویا ہوا

یار سب کو پتا ہے کہ رُوحاب بھابھی سے بڑھ کر تمھارے لیے کچھ نہیں ,

 علی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا , لیکن اب اپنی ماں کی خوشی اور اپنی نسل آگے بڑھانے کا بھی کچھ سوچو ۔

زَریاب نے اُس کی طرف دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔

تمھارا کوئی اور بہن بھائی ہوتا اُن کی اولاد ہوتی تو پھر تمھاری دوسری شادی اور آنٹی کی دادی بننے کی خواہش ادھوری نہ رہتی , علی نے ہمدردی سے زَریاب کا ہاتھ پکڑا۔

مگر اب تمھارے پاس دوسری شادی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں اس لیے اپنے بیچ کی لڑائی ختم کر کے صلاح مشورے سے یہ کڑوا گھونٹ بھر لو۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Umeed-e-Sahar by by Sana Ejaz Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment