TU Ishq Mera by Marwa Javed Complete novel


TU Ishq Mera by Marwa Javed complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Marwa Javed is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


TU Ishq Mera by Marwa Javed complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Marwa Javed All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

کیا ہوا۔۔۔ ؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔ ! ایشال خود کو گھورتے  ارزان سے پوچھنے لگی ۔

آپ بھی تو جب مجھ سے ملنے آتی ہیں تو میرے لیے گفٹ لاتی ہیں تو آج میں آپ کے لیے لے آیا ، ارزان بولا ۔

اچھا بابا ٹھیک ہے کچھ نہیں کہتی ، بائے دا وے تھینکس اِس گفٹ کے لیے ، ایشال مسکر کر بولی اور گفٹ بیگ میں سے بریسلیٹ ، لاکٹ اور گجرے نکالنے لگی ۔

لائیں میں پہناتا ہوں ، ارزان نے اُس کے ہاتھ سے وہ چیزیں لی اور خود پہنانے لگا جبکہ ایشال اُس کی طرف دیکھنے لگی ۔

اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو آج وہ بھی اُس کے ساتھ ہوتی ، اُس کے ساتھ ایک پُرسکون زندگی گزار رہی ہوتی ، لیکن کہتے ہیں نہ خوبیاں اور خامیاں تو ہر انسان میں ہوتی ہیں لیکن اُس کی یہ خامی تو ارضی تھی جو جلدی سے ٹھیک ہو جانی تھی ۔

ایشال اُس کے خود کے ہاتھ پر بوسہ دینے پر ہوش میں لوٹی ۔

یہ کہاں سے سیکھا تم نے ایشال نے پوچھا تو وہ مسکرا دیا ۔

بابا سے۔۔۔ ،وہ کندھے اُچکا کر بولا ۔

لیکن آپ کی ماما آپ کے  پاپا کے لیے محرم تھی لیکن میں تو ابھی نامحرم ہوں نہ ، ایشال نے پوچھا تو بولا ۔

تو آپ مجھ سے شادی کر لیں نے ، ارزان نے کہا تو ایشال چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگی ۔

چلو آؤ میں تمہیں اپنے لالا سے ملواتی ہوں ، ایشال نے بات بدلی اور اُسے لیے سٹیج پر آئی ۔

ارز یہ میرے لالا ہیں اور لالا یہ ارز ہے ، ایشال نے دونوں کا تعارف کروایا ۔

ہائے۔۔۔ ! کیسے ہو ارز۔۔۔۔ ؟ زالان نے اُسے خود سے لگایا ۔

میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ، ارزان بولا ۔

میں ٹھیک ، زالان بولا ۔

کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد ایشال اُس کے ایک صوفے پر بیٹھا کر خود بھی اُس کے قریب ہی بیٹھ گئی ۔

ابھی وہ دونوں اپنی باتیں کرنے میں مصروف تھے جب یکدم ایشال کی نظر سٹیج پر پڑی جہاں ارب زالان سے مل رہا تھا ، وہ تو یہ دیکھ نارمل ہی رہی تھی لیکن  آنکھیں تو اُس کی تب پھٹی جب اُس کی اکرم پر پڑی ۔

ایشان بےساختہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی ۔

کیا ہوا اینجل۔۔۔۔ ؟ ارزان اُس کو اُٹھتے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

ارز تم اِدھر ہی بیٹھ اور یہاں سے ہلنا مت میں ابھی آتی ہوں ، ایشال اُسے کہتی جلدی سے صارم لوگوں کے پاس آئی ۔

صارم یہ اکرم یہاں کیا کر رہا ہے ، ایشال نے اُس سے پوچھا ۔

ایشی یہ ارب بھائی کے ڈیڈ ہیں ، میں خود بھی اُسے یہاں دیکھ کر شاکڈ ہوں ، مجھے یہی فکر ہے کہیں وہ ارز کو نہ دیکھ لیں ، صارم بولا تو ایشال نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی ۔

وہ ارزان کو واپس نہیں بھیجنا چاہتی تھی وہ یہاں آنے کے لیے کتنا ایکسیٹڈ تھا  ، اب اگر وہ اُسے واپس بھیجتی تو وہ اُداس ہو جاتا ۔

ایشال نے ارزان کی طرف دیکھا جو اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔

ایشی تم پریشان مت ہو ہم کچھ کرتے ہیں ، رائم اُسے کہتے وہاں سے چلا گیا ۔

ارزان جو اِدھر اُدھر دیکھنے میں مصروف تھا جب اُس کی نظر ایک شخص پر پڑی ، اُسے یوں لگا جیسے وہ اُس کا اری ہو ۔

اری۔۔۔۔ ، ارزان کے لبوں نے ہلکی سی حرکت کی ، وہ اپنی جگہ سے اُٹھتے اُس طرف چل دیا ۔

اری۔۔۔۔ ، ارزان نے اُسکے پیچھے کھڑے ہوتے اُسے پکارا جبکہ ارب جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔

وہ دونوں ایک لمحے کے لیے سٹک کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔

ارزی۔۔۔۔ ، ارب کے منہ سے بےساختہ نکلا ۔

ارزی۔۔۔۔ ، میرے بھائی تم اِدھر ، تم کدھر چلے گئے تھے ، میں نے تمہیں کتنا یاد کیا ، ارب اُس کے گلے لگ گیا جبکہ اُس کی آواز نم ہو چکی تھی ۔

اری۔۔۔ ، تم میرے اری ہو ، اینجل بلکل ٹھیک کہتی تھی وہ میرے اری کو ڈھونڈ لائیں گی ، دیکھو وہ تمہیں میرے پاس لے آئی ، ارزان اُس کے گلے لگ کر رونے لگا ۔

تم کدھر چلے گئے تھے، ڈیڈ کہتے تھے کہ تم بھی تایا تائی کے ساتھ سے مر گئے ہو لیکن مجھے لگتا تھا کہ تم زندہ ہو ، ارب اُس کی طرف دیکھ کر کہنے لگا جبکہ اُس کی بات پر ارزان کے چہرے کا رنگ اُڑا تھا ۔

کیا ہوا ارزی۔۔۔ ؟ ارب اُس کی حالت دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

پ۔۔۔پانی۔۔۔ ، ارزان بولا تو ارب جلدی سے اُس کے لیے اپنی لینے بھاگا ۔

ایشال جو ارزان کو ڈھونڈتے وہاں آئی تھی جب اُس نے ارب اور اُس کی باتیں لی ۔

ارب کے وہاں سے جاتے ہی ایشال ارزان کو لیے وہاں سے چلی گئی ۔

ارب جب واپس آیا تو ارزان وہاں موجود نہ تھا ۔

ارزی۔۔۔۔  ، ارب بھاگ کر باہر آیا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھا ۔

وہ ایک دفعہ پھر سے اُس کو کھو گیا تھا ۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


TU Ishq Mera by Marwa Javed Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment