Umeed by Fatima Sehar Complete novel


Umeed by Fatima Sehar complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Fatima Sehar is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Umeed by Fatima Sehar complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Fatima Sehar All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

کہاں جا رہی تھی ۔؟ اُس کے سوال کو اگنور کرتے اُس نے اٹھنا چاہا تھا ۔ جب وہ اُس کے اٹیٹوڈ کو برداشت نہ کرپا تے اس کا جبڑا دبوچ چُکا تھا ۔ کوئی ٹیپیکل ڈراما نہ شروع کرنا اور میری بات کا جواب نہ دے کر ثابت کیا کرنا چاہتی ہوتم۔۔؟

میں بے وقوف ہوں۔ جو تم سے اپنا سر کھپا رہا ہوں ۔ مروہ کو اس کی خود سے سوچی باتیں سُن کر جانے کیوں اتنی نقاہت و نفرت کے باوجود ہنسی سی آئی تھی ۔

جب کہ اپنی باتوں کے جواب میں اُس کا ہنسنا اُسے سیخ پا کر گیا تھا ۔ مزید کسر پوری اُس کے اُبھرتے معدوم ہوتے ڈمپل پوری کر رہے تھے ۔

تمھیں میری باتیں مذاق لگ رہی ہیں ۔ ؟

مجھے کُچھ نہیں لگ رہا آپ پلیز اپنے اندازے لگانا بند کرے ۔طنزیہ انداز میں بولتے اُس نے اپنی بات جاری رکھی ۔۔

اور میں جا اِس لیے رہی ہوں ۔ ابھی نکاح ہوا ہے ۔ رُخصتی نہیں جو میں اِس کمرے میں موجود رہوں ۔ اس کی قینچی کی طرح بیماری کی حالت میں چلتی اپنے سامنے زُبان کو دیکھ اپنا ضبط کھوتا اُسے تھپر رسید کر چُکا تھا ۔

جب کہ مروہ سخت بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھنے لگی ۔۔ بحث پسند نہیں مجھے ۔۔ اور کمرے سے جانے کی اجازت نہیں ہے ابھی تمھیں ۔۔ رُخصتی تمہاری کل رات ہو چکی ہے۔

°°°°°°°°°°°°°

وہ ابھی تک دُلہن والے لباس میں ملبوس اپنی بد قسمتی پر ماتم کر رہی تھی ۔اُس کی صرف ایک غلطی نے اس کی خوشیوں کو اس سے دور کر دیا تھا ۔

نوح ابراھیم اُس کی محبت اب کسی اور لڑکی کا مقدر بن چکا تھا ۔ لڑکی بھی وہ جس سے اُسے شدید نفرت تھی ۔

ثمرین بیگم بیٹی کی حرکت پر نڈھال سی صوفے پر سر پکڑے بیٹھی رو رہی تھیں ۔

اب ماتم کرنے کا کیا فائدہ تمہارے بابا جو کہہ کر گئے ہیں ۔ وہ کرو ۔ کرو اس لڑکے کو کال اور کہو لے جائے تمھیں آ کر۔۔

اُن کی بات سنتے ہی وہ اُنہیں خاموشی سے دیکھنے لگی ۔وہ مجھے طلاق دے رہا ہے ۔ نہیں کرے گا وہ کوئی رُخصتی وُخستی ۔؟ طنزیہ انداز میں ہنس کر کہتے اُس نے ماں کے قدموں تلے سے زمین کھینچی تھی ۔

حرا کیا بکواس کر رہی ہو ۔ نکاح کر چُکی ہو اپنی پسند سے ۔ اب عزت سے رخصت ہو جاؤ ۔ پہلے ہی تمہاری اِس حرکت نے مجھے اورتمہارے با با کو کسی سے نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔

بیٹی کے بات سنتے اُسے کوستی وہ رنجیدہ سے لہجے میں بولیں ۔۔

آپ لوگوں کی وجہ سے ہی سب ہو گا۔ عاشر سے میری طلاق ہونی تھی ۔ نوح سے میرا دوبارہ نکاح ہوجانا تھا ۔ کِسی کو کچھ بھی پتہ نہیں چلنا تھا ۔ مگر نہیں ۔۔؟بھانجی زیادہ عزیز ہے ۔۔ تو اب سنبھالے آپ اپنی طلاق یافتہ بیٹی کا بوجھ کوئی اُس سے اب کبھی شادی نہیں کرے گا۔

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Umeed by Fatima Sehar Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment