Maine shadi nahi krni by Kaynat Shah (Current Episode 1) Download pdf

(Current Episode 1)

Maine shadi nahi krni by Kaynat Shah complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.


Kaynat Shah is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.


Maine shadi nahi krni by Kaynat Shah complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Kaynat Shah All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens


"میں نے شادی نہیں کرنی اماں!" سحر النساء دانت پیس کر بولی اور آناً فاناً زینے کی طرف بڑھی۔

"ہاں ہاں چلی جاؤ۔ تمہارا کام ہی کیا ہے؟ کوئی بات کہہ دو تو غصے سے آسمان سر پر اٹھا لیتی ہو۔" نسرین نے اسے جاتا دیکھ کر کہا۔

"اماں، میں یہ کپڑے بعد میں سی لوں گی۔ پہلے روٹیاں بنا لیتی ہوں، ورنہ پھر گرمی لگے گی۔" نورین نے ہچکچاہٹ سے کہا۔

"اوہ بی بی، رہنے دو۔ میں کر لوں گی سارے کام۔" نسرین کو مزید تپ چڑھ گئی۔

"اچھا، خفا تو نہ ہوں آپ۔ سحر کو کچھ نہیں کہتیں، سارا غصہ مجھ پر ہی نکالتی ہیں۔" نورین بے بسی سے بولی۔

"ہاں بھئی، اسے کچھ کہتی نہیں۔ تمہیں بھی نہیں کہوں گی۔ آخر بوڑھی ماں کا زور کس پر ہوگا اب؟" نسرین بھنڈی کاٹ کر ایک طرف رکھنے لگی۔

"اماں، اب آپ مجھے ہی سنائیں۔ وہ تو اوپر جا چکی ہے، مگر اب آپ صرف مجھ پر ہی چیخیں گی۔" نورین کو بے اختیار غصہ آ گیا، ورنہ وہ بہت صابر بچی تھی۔

"سحر کی بچی، تم کبھی اس جہاں سے نکل بھی جایا کرو۔" عریشہ دھپ سے بیٹھی اور اس کے ہاتھوں سے رسالہ چھینا۔

"صبح صبح ناشتہ کیا جاتا ہے مگر تم میرا دماغ کیوں کھانے آ جاتی ہو؟" سحر اٹھ کر بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔

"میرے ساتھ بازار چلو ذرا۔" عریشہ نے رسالے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ پھر جب اسے تسلی ہوئی کہ یہ پڑھ چکی ہے تو اس نے چارپائی پر اچھال دیا۔

"یار خالہ رسیدہ گھنٹوں لگاتی ہیں ایک دکان پر۔ میں نہیں جا رہی۔" سحر نے بیزاری سے کہا۔

"اماں نہیں جا رہیں۔ میں، رفعت باجی اور تم۔" عریشہ رفعت باجی کے نام پر منمنائی۔

"اور تم نے سوچا کیسے میں اس افلاتون کے ساتھ جاؤں گی؟" سحر نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جبکہ وہ رفعت کو افلاتون کہنے پر کھکھا کر ہنس دی۔

"اچھا ٹھیک ہے تم مت جاؤ۔ مگر فرمین باجی آ جائیں گی تب ضرور چلنا ہے تمہیں۔" عریشہ نے کچھ سوچ کر کہا۔

"ہمم ٹھیک ہے۔ تم ذرا جلیبی اور برفی لے آنا۔ میں پیسے نہیں دوں گی۔" سحر النساء نے فرمائش کی۔

"ٹھیک ہے لے لوں گی۔" عریشہ کہتے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی اور سحر واپس رسالے کی دنیا میں چلی گئی۔

"نورین بیٹا، جو قیمہ رکھا ہے میں نے وہ آلو ڈال کے بنا دو۔" نسرین نے پاس بیٹھی نورین کو مخاطب کیا۔

"جی اماں، مگر وہ تو بالکل تھوڑا سا ہے۔ صرف دو لوگ ہی کھا سکتے ہیں۔" نورین نے نرمی سے کہا۔

"معلوم ہے بیٹی۔۔۔ میں نے فرمین کے لیے رکھا تھا۔ کتنے شوق سے کھاتی ہیں وہ آلو قیمے کا سالن۔" نسرین کی آنکھوں میں ماں کی محبت جھلک رہی تھی۔

"تو باقیوں کے لیے کیا بناؤں؟" نورین نے پوچھا۔

"سحر اور فرمین کھا لیں بس۔۔ تمہارے ابا جی تو آج دعوت میں جائیں گے اور میں تم آلو کھا لیں گے۔" نسرین نے حساب لگایا۔ نورین ہنس دی۔

"ٹھیک ہے ٹھیک ہے پیاری اماں۔۔۔ مگر بچے کیا کھائیں گے؟" نورین نے نئی فکر لاحق کی۔

"ہادیہ اور ازمان تو دودھ پیتے ہیں۔ بچا کون؟ عامر۔ اس کے لیے سمیہ کچھ بنا دے گی آ کر۔" نسرین نے حل پیش کیا۔

"اچھا سہی ہے۔" اس نے فرمانبرداری سے جواب دیا۔

"میں ذرا بچوں کے لیے کچھ منگوا لوں نعیم سے۔" نسرین نے سمیہ کے چھوٹے دیور کا نام لیا۔

"اماں، آپ کے پاس پیسے ہیں؟" نورین کو ماں کا خیال آیا۔

Click the link below to download this novel in pdf.

Download Link (All Episodes)

Episode 1

Online Reading (All Episodes Links)

Episode 1

Maine shadi nahi krni by Kaynat Shah Epi 1

Online Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment